اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ھے

تمہارا غم ھی مرا اوڑھنا بچھونا ھے بس ایک پھُول سے لمحے کی آرزو میں ھمیں تمام عُمر محبت کا بوجھ ڈھونا ھے کہیں کہیں سے ھے شیریں ، کہیں کہیں نمکین وہ شکر لب جو ذرا سانولا سلونا ھے مری یہ دُھن ھے بطورِ نگاہ دارِ جمال کہ تجھ کو آنکھ میں ، پھر […]

شہر بانو کے لیے ایک نظم

تمہیں جب دیکھتا ھوں تو مری آنکھوں پہ رنگوں کی پُھواریں پڑنے لگتی ھیں تمہیں سُنتا ھوں تو مُجھ کو قدیمی مندروں سے گھنٹیوں اور مسجدوں سے وِرد کی آواز آتی ھے تمہارا نام لیتا ھوں تو صدیوں قبل کے لاکھوں صحیفوں کے مُقدّس لفظ میرا ساتھ دیتے ھیں تمہیں چُھو لُوں تو دُنیا بھر […]

جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی

سو ڈرتے ڈرتے اگر کی تو کیا محبت کی میاں ! یہ سوچ کے کرنا خطا محبت کی شکستِ دل ھے کم ازکم سزامحبت کی گِنے چُنے ھوئے سینوں میں جھانکتا ھے یہ نُور ھر ایک پر نہیں ھوتی عطا محبت کی تمہارے سامنے رکھی ھیں مَیں نے راھیں دو سو ایک چُن لو، محبت […]

مجھے غرض ھے ستارے نہ ماھتاب کے ساتھ

چمک رھا ھے یہ دل پوری آب و تاب کے ساتھ نپی تُلی سی محبت ، لگا بندھا سا کرم نبھا رھے ھو تعلق بڑے حساب کے ساتھ مَیں اِس لیے نہیں تھکتا ترے تعاقب سے مجھے یقیں ھے کہ پانی بھی ھے سراب کے ساتھ سوالِ وصل پہ اِنکار کرنے والے ! سُن سوال […]

سکوتِ شام میں گونجی صدا اُداسی کی

کہ ھے مزید اُداسی دوا اُداسی کی بہت شریر تھا مَیں اور ھنستا پھرتا تھا پھر اِک فقیر نے دے دی دُعا اُداسی کی چراغِ دل کو ذرا احتیاط سے رکھنا کہ آج رات چلے گی ھوا اُداسی کی امورِ دل میں کسی تیسرے کا دخل نہیں یہاں فقط تری چلتی ھے یا اُداسی کی […]