میں عِشق زار میں اِس دِل سمیت مارا گیا

قتِیل دشت میں قاتِل سمیت مارا گیا تمہارے حُسن کی تشہیر کر رہا تھا رقیب سو میرے ہاتھ سے محفِل سمیت مارا گیا چلا تھا عِشق کا جو جِن اتارنے ہمزاد عمل سے پیشتر عامِل سمیت مارا گیا بڑا فساد ہوا عِشق کی ضمانت پر وکیل اپنے موکِل سمیت مارا گیا مجھے تو فکر ہے […]

لوگوں کے دُور کر کے غمِ روز گارِ عشق

میری طرف بھی آ ذرا پروردگارِ عشق جب اپنی داستانِ محبت کو لکھ چکا تو اِس کے بعد مر گیا ناول نگارِ عشق محرم نہیں ہیں آپ تو مت دیکھئے مجھے چُھونے کی اور بات ہے نقش و نگارِ عشق ہم دو پہ آج شام یوں گُزرا غضب کا عِشق الفاظ ڈھونڈتا رہا نامہ نگارِ […]

اتنا پڑا ہے جسم پر گردوغبارِ عشق

میں دب کے رہ گیا ہوں کہیں زیرِ بارِ عشق کچھ قافیوں کے پھل لگے کچھ لاحقوں کے پھول ٹہنی غزل کی دینے لگی برگ و بارِ عشق یہ میرا معترف تھا کبھی معتقد بھی تھا بھرتا ہے کان آج کل جو میرے بارے عشق تم صرف فائدے میں رہو میرے حصے دار؟ ایسے کہاں […]

نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو

اک عشق ایسا کہ جو فسانوں سے مختلف ہو زباں پکڑ کر جو دل کو بدلے ہو میری تسبیح میں ایک دانہ جو سارے دانوں سے مختلف ہو وہی پرندہ نہ اڑنے پایا جو چاہتا تھا اڑان ایسی جو سب اڑانوں سے مختلف ہو دکھاؤں سب کو اگر تو چھوڑے نشان ایسا مرے بدن پر […]

عائشہ، علینہ، عائلین، دُعا اور عائسل کے لیے

کبھی وہ وقت نہ آئے جو تجھ کو راس نہ ھو خُدا کرے کہ ترا دِل کبھی اُداس نہ ھو رھے نہ تشنۂ تعبیر کوئی خواب ترا کوئی کسک نہ ھو ، کوئی ادھوری آس نہ ھو ھمیشہ لُطف و طرب ترے اِرد گرد رھیں کوئی بھی لمحۂ غم تیرے آس پاس نہ ھو تری […]

لرزتے جسم کا بھونچال دیکھنے کے لیے

کب آؤ گے مری دھمّال دیکھنے کے لیے ؟ چلی ھے دھیان کے جادُو نگر میں تیز ھوا کسی پری کے کھُلے بال دیکھنے کے لیے چراغ لے کے مَیں پھِرتا ھوں سرد گلیوں میں ھوائے شب کے خدوخال دیکھنے کے لیے چھڑک رھا ھوں تری پتّیوں پہ اپنا لہو سفید پھول ! تجھے لال […]

یہ غم نہیں کہ وہ مجھ سے وفا نہیں کرتا

ستم تو یہ ھے کہ کہتا ھے ‘جا ، نہیں کرتا طلوعِ عارض و لب تک مَیں صبر کرتا ھوں سو منہ اندھیرے غزل اِبتدا نہیں کرتا یہ شہر ایسے حریصوں کا شہر ھے کہ یہاں فقیر بھیک لیے بِن دُعا نہیں کرتا زباں کا تلخ ھے لیکن وہ دل کا اچھا ھے سو اُس […]

کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا

تیری پرچھائیں کو بھی ٹوٹ کے چاہا ، آہا آخری سانس کی لذت کوئی اُس سے پوچھے مرتے مرتے بھی جو بیمار کراہا ، آہا شعر کہنا ہے تو یوں کہہ کہ ترا دشمن بھی دُشمنی بھول کے چِلا اُٹھے ، آہا ، آہا تیری آنکھوں میں کھٹکتا ہے مرے جیسا فقیر کیسا اعلیٰ ترا […]

لندن کے سفر سے واپسی پر

کیا کیا گُلاب رقص کُناں رہگزر میں تھا بادِ جنُوں کے ساتھ میں دم دم سفر میں تھا ایک آدھ شام گُذری مئے لالہ گُوں کے ساتھ دو چار دن پڑاؤ پرندوں کے گھر میں تھا کُچھ دن دیارِماہ وشاں میں بسر کیے کُچھ دن مرا قیام محبت نگر میں تھا گلیوں میں تھیں قدیم […]