عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو
سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق
معلیٰ
سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق
کہ عین وقت مرے سامنے سے تو گزرا
فلک زاد دیوی تمہیں کیا خبر ہے کہ اک خاک زادہ پروں کی جگہ عشق کے طوق باندھے زمانوں سے پرواز کی خواہشوں میں مگن اپنے سوکھے ہوئے خاکداں میں پھڑکتا رہا تھا بدن جو کہ یوں بھی فقط خاک تھا، خاک پر رینگتا تھا اسی خاک کے زرد جالوں میں الجھے ہوئے سوچتا تھا […]
لکھتا ہوں عشق درد کا ساماں کیے ہوۓ پہلے تو ڈھونڈتا تھا میں مضمونِ شاعری اب لکھ رہا ہوں خود کو ہی عنواں کیے ہوۓ "لکھا ہے لفظِ عشق کا معنی "عجیب تر عاشق پڑھیں انگشت بدنداں کیے ہوۓ مرہم لگا رہا ہوں میں کاغذ کو دوستو اور زخمِ دل کے سر پے نمکداں کیے […]
کسی کسی کے گھر میں دانے ہوتے تھے سو تک گنتی کسی کسی کو آتی تھی ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے گاؤں میں بس ایک ہی مسجد ہوتی تھی ہر دل میں بس چار ہی خانے ہوتے تھے جھوٹی قسمیں شہر میں تھیں اور گاؤں میں بس تکیے پر پھول بنانے ہوتے تھے […]
تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا
سمجھے ہے موسم اسے برسات کا
تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے
ہم نے ناحق ہی گنوایا اسے آرائش میں
خدا کبھی نہ دکھائے تجھے ملال کے دن