دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
معلیٰ
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
میں تجھے بھولنے کے حق میں تھا
اسکی دہلیز پہ سو اہلِ کرم آتے ہیں
یہ نہ میرا نہ تمہارا نہ کسی کا ہوگا
ہم نے جس سے کی محبت اس کو نفرت ہوگئی
مُدّت اب چاہیئے اس شہر کو بستے بستے
ایک ہی تیغ لگا ایسی اے جلاد کہ بس
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
قبضہ میں آئے یار نا قابو میں آئے دل
زباں پہ ناز تھا جن کو، وہ بے زباں نکلے