سکونِ دل نہ ہوا میسر زمانے میں نصیر
سکونِ دل نہ ہوا میسر زمانے میں نصیر ،زیست بڑی بے قرار گزری ہے
معلیٰ
سکونِ دل نہ ہوا میسر زمانے میں نصیر ،زیست بڑی بے قرار گزری ہے
یہ کوئی چال ہے ! بھونچال ہے میاں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں
’’نقشِ کہن‘‘کو دل سے مٹایا نہ جائے گا گزرے ہوئے دنوں کو بُھلایا نہ جائے گا
تم کہو تو یہی دو نیم کیئے دیتے ہیں
کر دیا کس کی صدا نے ہمہ تن گوش مجھے
خوش ہوئی وحشت غم جب رسن و دار ملے
لیکن یہ جیسے پہلے تھے ویسے کہاں ہیں لوگ؟
اور کچھ ہو گا جسے دل کا دُھواں لکھتے ہو
دل کے باہر بھی کوئی تیرے برابر نہ ہوا