آج تقسیمِ عشق ہو ہی گئی ، اپنے اپنے حساب مانگ لئے
میں نے اپنی کتاب مانگی تو اس نے اپنے گلاب مانگ لئے
معلیٰ
میں نے اپنی کتاب مانگی تو اس نے اپنے گلاب مانگ لئے
کئی زمانے ہوئے میں خود سے نہیں ملی ہوں
وہ نیک شخص بھی فہرستِ بد میں آئے گا یہ بانجھ پیڑ ہے بابا ثمر نہ دے پایا تو ایک روز کلہاڑے کی ذد میں آئے گا مجھے گمان ہے ابجد کو جاننے والے ہمارا زائچہ اچھے عدد میں آئے گا یہ کون کہہ رہا ، کچھ بھی نہیں اثاثے میں تمہارا ہجر سامانِ رسد […]
غم گساری، گریہ زاری اور ہے پاؤں زخمی ہو گئے تو یہ کھُلا راستوں کی بردباری اور ہے آج شب تیری خوشی کے نام تھی جو ترے غم میں گزاری اور ہے برملا ہنسنا نجاتِ غم نہیں شہرِ غم سے رستگاری اور ہے درد کی مہماں نوازی اور تھی ضبط کی تیمار داری اور ہے […]
جسم پتھر سا ہو گیا میرا
دور رہ، بس دور رہ اے بردباری، شکریہ مر گئے تو ہو گئے ہیں زینؔ ہم اہلِ ہنر کر رہا ہے اب جہاں باتیں ہماری شکریہ
جانے کیسے آنکھ اچانک بھر آئی
رُک ہی جاتی کہیں ہَوا، لیکن وہ کہیں بھی نہیں رُکا، لیکن جب کوئی درد سانس لیتا ہے مسکراتا ہوں بارہا، لیکن میری آنکھیں نہ دشت ہو جائیں تُو مجھے شوق سے رُلا، لیکن کب تلک یوں فریب کھائیں گے؟ اُس کا چہرہ ہے دلربا، لیکن زینؔ اُس کو، وفا شناسی پر شوق سے آئینہ […]
کیا کمال ہوتے ہیں خواہشوں کے چنگل سے کون بچ کے نکلا ہے دل کو شاد رکھتی ہے بے سبب اداسی بھی بہہ گیا ہے جانے کیوں ضبط میری آنکھوں سے میں جہاں بھی رہتا ہوں بے شمار رہتا ہوں تم اداس رہنے میں کیوں بلا کے ماہر ہو؟ دیکھ تیرا چہرہ بھی خواب میں […]
ہم فقط اپنی جوانی میں رہے دل کہیں اور کہیں ہے دھڑکن کون بے ربط کہانی میں رہے اُس نے تحریر کیا ہی کب تھا ہم فقط اُس کی زبانی میں رہے ٹھوکریں آنکھ میں کھاتے کھاتے دکھ مری آنکھ کے پانی میں رہے میں اکیلا تو نہیں لڑ سکتا اُس سے کہہ دو کہ […]