ہوس کا شائبہ جب خال و خد میں آئے گا

وہ نیک شخص بھی فہرستِ بد میں آئے گا یہ بانجھ پیڑ ہے بابا ثمر نہ دے پایا تو ایک روز کلہاڑے کی ذد میں آئے گا مجھے گمان ہے ابجد کو جاننے والے ہمارا زائچہ اچھے عدد میں آئے گا یہ کون کہہ رہا ، کچھ بھی نہیں اثاثے میں تمہارا ہجر سامانِ رسد […]

آج دل کو بے قراری اور ہے

غم گساری، گریہ زاری اور ہے پاؤں زخمی ہو گئے تو یہ کھُلا راستوں کی بردباری اور ہے آج شب تیری خوشی کے نام تھی جو ترے غم میں گزاری اور ہے برملا ہنسنا نجاتِ غم نہیں شہرِ غم سے رستگاری اور ہے درد کی مہماں نوازی اور تھی ضبط کی تیمار داری اور ہے […]

رُک ہی جاتی کہیں ہَوا، لیکن!

رُک ہی جاتی کہیں ہَوا، لیکن وہ کہیں بھی نہیں رُکا، لیکن جب کوئی درد سانس لیتا ہے مسکراتا ہوں بارہا، لیکن میری آنکھیں نہ دشت ہو جائیں تُو مجھے شوق سے رُلا، لیکن کب تلک یوں فریب کھائیں گے؟ اُس کا چہرہ ہے دلربا، لیکن زینؔ اُس کو، وفا شناسی پر شوق سے آئینہ […]

ضبط کرنے والے بھی

کیا کمال ہوتے ہیں خواہشوں کے چنگل سے کون بچ کے نکلا ہے دل کو شاد رکھتی ہے بے سبب اداسی بھی بہہ گیا ہے جانے کیوں ضبط میری آنکھوں سے میں جہاں بھی رہتا ہوں بے شمار رہتا ہوں تم اداس رہنے میں کیوں بلا کے ماہر ہو؟ دیکھ تیرا چہرہ بھی خواب میں […]

لفظ کتنے ہی روانی میں رہے

ہم فقط اپنی جوانی میں رہے دل کہیں اور کہیں ہے دھڑکن کون بے ربط کہانی میں رہے اُس نے تحریر کیا ہی کب تھا ہم فقط اُس کی زبانی میں رہے ٹھوکریں آنکھ میں کھاتے کھاتے دکھ مری آنکھ کے پانی میں رہے میں اکیلا تو نہیں لڑ سکتا اُس سے کہہ دو کہ […]