تجھے خود سے نکالا ہے

تجھے محسوس کرنے کے لیے میں نے ہزاروں کام چھوڑے ہیں نہ جانے پھر بھی کیوں مجھ کو لگا یہ سب خسارہ ہے مجھے تیری محبت ڈھونگ لگتی ہے ترے وعدے بھی لگتا ہے کہ اک صدیوں پرانا خط کسی شوکیس میں رکھا اُٹھاؤں دھول مٹی صاف کر کے کھولنے بیٹھوں لفافے سے نکالوں اور […]

مجھے پائمال تو کر کبھی

مجھے یوں نڈھال تو کر کبھی مجھے روزوشب کی سزا نہ دے مرا کچھ خیال تو کر کبھی تری بے رُخی کی مثال ہوں مجھے استعمال تو کر کبھی مرا نام لے کے زبان سے مجھے بے مثال تو کر کبھی تجھے زینؔ شوقِ ہجوم ہے؟ ذرا انتقال تو کر کبھی