مجھے بکھرے بکھرے سے بال یوں بھی پسند ہیں

مجھے ماتمی سے لباس میں نہ ملا کرو مجھے بے وقوف سمجھ رہا ہے مری طرح مری بے دھیانی سے فائدہ جو اُٹھا لیا کسی اُس جہان میں مل کے تجھ سے میں کیا کروں مرے منتشر سے جہان میں مجھے مل کبھی مرے خوش گماں تری چاہتوں کے نثار پر مجھے برملا سی محبتوں […]

مجھے موت دے، نہ حیات دے

مرے حوصلے کو ثبات دے مجھے نقدِ جاں کی طلب نہیں مجھے خواہشوں سے نجات دے ترے پاس آیا ہوں دور سے مجھے دیکھنے دے قریب سے مجھے اپنے رخ سے جدا نہ کر مری چشمِ نم کو زکوٰۃ دے مرے دل میں یار بسا ہوا نہ جدا ہوا، نہ خفا ہوا نہ مٹے نگاہ […]

چاہت کی اک خاص نشانی کھو جائے

مجھ سے گر اک شام سہانی کھو جائے طیش کا عالم اور نگاہوں میں آنسو جیسے اِک راجہ کی رانی کھو جائے تم چہرا ڈھلنے سے پہلے لوٹ آنا شاید مجھ سے مِری جوانی کھو جائے حیرت جھانک رہی ہے گم سم آنکھوں سے جیسے اُسکی آنکھ کا پانی کھو جائے پاگل بن کر سر […]

کسی رہگزر کا غبار تھا جو اُڑا دیا

یا سجا دیا کسی بے حسی کی دکان پر ترا درد مجھ سے خفا نہ ہو کے گزر پڑے ترا نام لینے کا حوصلہ نہیں ہو رہا جو شکار کرنے کو آگئے وہ اُجڑ گئے کہ کسی نے تیر چلا دیا ہے کمان پر وہ جو کر رہا ہے مری حیات کے فیصلے وہی شخص، […]

اُسے خبر تھی

اسے خبر تھی مجھے ہجر راس آتا ہے اسے پتا تھا اداسی سے دوستی ہے مری اسے خبر تھی سبھی درد یار ہیں میرے وہ جانتا تھا مری غم سے ہے سلام دعا اسے خبر تھی سبھی زخم مجھ پہ سجتے ہیں سو ان سبھی کے لیے اس نے مجھ کو چھوڑ دیا کہیں وہ […]