لفظوں میں مت کھویا کر
ہاتھ میں ہاتھ پرویا کر چاہے میرے آنسو ہوں چھپ چھپ کے مت رویا کر جس میں عین جدائی ہو ایسی نیند نہ سویا کر میرے چند خیالوں میں کبھی کبھی تو کھویا کر زینؔ کبھی خاموشی سے شور مچا کے رویا کر
معلیٰ
ہاتھ میں ہاتھ پرویا کر چاہے میرے آنسو ہوں چھپ چھپ کے مت رویا کر جس میں عین جدائی ہو ایسی نیند نہ سویا کر میرے چند خیالوں میں کبھی کبھی تو کھویا کر زینؔ کبھی خاموشی سے شور مچا کے رویا کر
مجھے ماتمی سے لباس میں نہ ملا کرو مجھے بے وقوف سمجھ رہا ہے مری طرح مری بے دھیانی سے فائدہ جو اُٹھا لیا کسی اُس جہان میں مل کے تجھ سے میں کیا کروں مرے منتشر سے جہان میں مجھے مل کبھی مرے خوش گماں تری چاہتوں کے نثار پر مجھے برملا سی محبتوں […]
مرے حوصلے کو ثبات دے مجھے نقدِ جاں کی طلب نہیں مجھے خواہشوں سے نجات دے ترے پاس آیا ہوں دور سے مجھے دیکھنے دے قریب سے مجھے اپنے رخ سے جدا نہ کر مری چشمِ نم کو زکوٰۃ دے مرے دل میں یار بسا ہوا نہ جدا ہوا، نہ خفا ہوا نہ مٹے نگاہ […]
میرے احساس سے خفا رہنا
مجھ سے گر اک شام سہانی کھو جائے طیش کا عالم اور نگاہوں میں آنسو جیسے اِک راجہ کی رانی کھو جائے تم چہرا ڈھلنے سے پہلے لوٹ آنا شاید مجھ سے مِری جوانی کھو جائے حیرت جھانک رہی ہے گم سم آنکھوں سے جیسے اُسکی آنکھ کا پانی کھو جائے پاگل بن کر سر […]
یا سجا دیا کسی بے حسی کی دکان پر ترا درد مجھ سے خفا نہ ہو کے گزر پڑے ترا نام لینے کا حوصلہ نہیں ہو رہا جو شکار کرنے کو آگئے وہ اُجڑ گئے کہ کسی نے تیر چلا دیا ہے کمان پر وہ جو کر رہا ہے مری حیات کے فیصلے وہی شخص، […]
میں کسی سے بے خبر ہوتا گیا
تمہــاری جـــاؤں جــاؤں نے تو میـــرا دم نکالا ہے
جس جھولی میں سو چھید ھوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
اسے خبر تھی مجھے ہجر راس آتا ہے اسے پتا تھا اداسی سے دوستی ہے مری اسے خبر تھی سبھی درد یار ہیں میرے وہ جانتا تھا مری غم سے ہے سلام دعا اسے خبر تھی سبھی زخم مجھ پہ سجتے ہیں سو ان سبھی کے لیے اس نے مجھ کو چھوڑ دیا کہیں وہ […]