آئینہ ، آگ ، ضو مسائل ہیں

یہ دیا اور لو مسائل ہیں ہم غریبانِ شہر کے صاحب آب و دانہ و جو ، مسائل ہیں جس جگہ انحراف پرکھوں سے بس وہیں نسلِ نو ! مسائل ہیں کب تلک تیرے عشق کو رووں میرے گھر کے بھی سو مسائل ہیں ان چراغوں کے سامنے ، موسم اور ہواوں کی رو مسائل […]

اب جھٹک دیتی ہوں تیری یاد میں

اپنے فن میں ہوگئی استاد میں قاف کا دنیا سے رشتہ جوڑ مت تو پری زادہ ہے آدم ذاد میں چھوڑ ہجراں کی اذیت ، بھول جا خوش رہے تو بھی ، رہوں آباد میں قتل کردیں کتنی ساری خواہشیں دل بہت معصوم سا ، جلاد میں چاہے اچھی ساتھ میں فوٹو لگا شعر اچھا […]

ارادے خستہ ، قدم شکستہ، شنید ہجرت

مزید ہجرت ، مزید ہجرت ، مزید ہجرت ہمارے خیموں کی تھوڑی قیمت لگانے والے ہمارے دیوار و در کی قیمت خرید ، ہجرت معاش کی فکر ایک چھلنی میں ڈال دی تھی اور اب ہمیں کرنا پڑ رہی ہے کشید ہجرت یہ پاوں لگتا ہے گردشوں سے بندھے ہوئے ہیں نہیں ہے خانہ بدوشیوں […]

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، چھت پر میں حسب معمول گئی

اس کو ہنستے دیکھا اور پلکیں جھپکانا بھول گئی ساری رات کی جاگی آنکھیں کھلنے سے انکاری تھیں پوچھ نہ کیسے کام سمیٹے اور کیسے اسکول گئی دونوں نے جینے مرنے کی قسمیں ساتھ اٹھائی تھیں لڑکے کے اب دو بچے ہیں ، لڑکی چھت سے جھول گئی وقت نے ایسی گرد اڑائی عمریں یونہی […]

بچھڑنے والے کی باتوں کا دہرانا نہیں بنتا

اگر خاموش رہتی ہوں تو افسانہ نہیں بنتا کہانی کار تھوڑی دیر قصہ جاری رہنے دے کہ بالکل درمیاں آکر تو مرجانا نہیں بنتا انہیں آواز دے دے کر پرندے خود بلاتے ہیں کوئی مرضی سے ان پیڑوں کا دیوانہ نہیں بنتا تم ایسے نرم رو چہرے پرستانوں میں جچتے ہیں ادھر اک دشت ہے […]