چلے آؤ چھپا لوں میں تمھیں دامن دریدہ میں
پرائی چادروں سے تن کا پردہ ہو نھیں سکتا
معلیٰ
پرائی چادروں سے تن کا پردہ ہو نھیں سکتا
کوئی احسان زمانے کا اٹھایا ہی نہیں
ہم پر یہ سختی کی نظر ہم ہیں فقیر رہگزر رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا
یہی کانٹے تو کچھ خوددار ہیں صحن گلستاں میں کہ شبنم کے لیے دامن تو پھیلایا نہیں کرتے
یہ دیا اور لو مسائل ہیں ہم غریبانِ شہر کے صاحب آب و دانہ و جو ، مسائل ہیں جس جگہ انحراف پرکھوں سے بس وہیں نسلِ نو ! مسائل ہیں کب تلک تیرے عشق کو رووں میرے گھر کے بھی سو مسائل ہیں ان چراغوں کے سامنے ، موسم اور ہواوں کی رو مسائل […]
اپنے فن میں ہوگئی استاد میں قاف کا دنیا سے رشتہ جوڑ مت تو پری زادہ ہے آدم ذاد میں چھوڑ ہجراں کی اذیت ، بھول جا خوش رہے تو بھی ، رہوں آباد میں قتل کردیں کتنی ساری خواہشیں دل بہت معصوم سا ، جلاد میں چاہے اچھی ساتھ میں فوٹو لگا شعر اچھا […]
مزید ہجرت ، مزید ہجرت ، مزید ہجرت ہمارے خیموں کی تھوڑی قیمت لگانے والے ہمارے دیوار و در کی قیمت خرید ، ہجرت معاش کی فکر ایک چھلنی میں ڈال دی تھی اور اب ہمیں کرنا پڑ رہی ہے کشید ہجرت یہ پاوں لگتا ہے گردشوں سے بندھے ہوئے ہیں نہیں ہے خانہ بدوشیوں […]
اس کو ہنستے دیکھا اور پلکیں جھپکانا بھول گئی ساری رات کی جاگی آنکھیں کھلنے سے انکاری تھیں پوچھ نہ کیسے کام سمیٹے اور کیسے اسکول گئی دونوں نے جینے مرنے کی قسمیں ساتھ اٹھائی تھیں لڑکے کے اب دو بچے ہیں ، لڑکی چھت سے جھول گئی وقت نے ایسی گرد اڑائی عمریں یونہی […]
اگر خاموش رہتی ہوں تو افسانہ نہیں بنتا کہانی کار تھوڑی دیر قصہ جاری رہنے دے کہ بالکل درمیاں آکر تو مرجانا نہیں بنتا انہیں آواز دے دے کر پرندے خود بلاتے ہیں کوئی مرضی سے ان پیڑوں کا دیوانہ نہیں بنتا تم ایسے نرم رو چہرے پرستانوں میں جچتے ہیں ادھر اک دشت ہے […]
جب میں تصویر میں ہوتی ہوں بہت بولتی ہوں