جو نیست ہو چکا تھا عشق ہست کیسے ہوگیا
مری اسیریوں کا بندوبست کیسے ہوگیا بڑا ہی عام تھا کبھی مرا غلام تھا کبھی کمال ہے وہ شخص خود پرست کیسے ہو گیا اسے نصیب تھیں محبتوں میں دلنوازیاں وہ خودکفیل آج تنگدست کیسے ہوگیا ابھی تو وقت کی کوئی خراش بھی نہیں پڑی تو پھر غرور آئینوں کا پست کیسے ہوگیا یہ کس […]