میں کار آمد ہوں یا بے کار ہوں میں

مگر اے یار تیرا یار ہوں میں جو دیکھا ہے کسی کو مت بتانا علاقے بھر میں عزت دار ہوں میں خود اپنی ذات کے سرمائے میں بھی صفر فیصد کا حصے دار ہوں میں اور اب کیوں بین کرتے آ گئے ہوں کہا تھا نا بہت بیمار ہوں میں مری تو ساری دنیا بس […]

ہنسنے والے اب ایک کام کریں

جشنِ گریہ کا اہتمام کریں ہم بھی کرلیں جو روشنی گھر میں پھر اندھیرے کہاں قیام کریں مُجھ کو محرومیِ نظارہ قبول آپ جَلوے نہ اپنے عام کریں اک گزارش ہے حضرتِ ناصح آپ اب اور کوئی کام کریں آ چلیں اس کے در پہ اے دل زندگی کا سفر تمام کریں ہاتھ ہٹتا نہیں […]

بخت جب کرب کے سائے میں ڈھلا ہو بابا

ہم فقیروں کی دعا ہے کہ بھلا ہو بابا کیا پتہ اس کو ہو پچھتاوا بچھڑ جانے پہ ہاتھ افسوس سے اس نے بھی ملا ہو بابا اس کا کیا جس کو تپش تھوڑی لگے سورج کی پاؤں جس شخص کا چھاؤں میں جلا ہو بابا اس لئے مڑ کے کئی بار تلاشا یونہی کیا […]

بٹ گئے فرقوں میں کیسے یار لوگ

چھے مخالف اور حق میں چار لوگ ؟ میرا مسلک عشق ہے ، درویش میں مجھ سے ناخوش ہیں یہ دنیادار لوگ اس لئے باتوں میں آجاتی تھی میں فطرتا”​ سادہ تھی میں ، مکار لوگ چند خوابوں کی ہوئی نہ دیکھ بھال سب ہی نکلے غیر ذمے دار لوگ پھر نیا رخت سفر باندھا […]

بے حس نہ تھے کہ اتنے خساروں پہ ناچتے

کب تک ہوائے غم کے اشاروں پہ ناچتے اک روز دل کو جھڑکا بہت ورنہ اہل عشق درویش بن کے ہم بھی مزاروں پہ ناچتے یہ رقص اندمال کی تھی شرط ، کی قبول لازم تھا خاردار سی تاروں پہ ناچتے ہم پر لگاتے قہقہے منظر قریب کے اور لوگ ہم سے بخت کے ہاروں […]

تم مری زندگی میں بھی نہیں ہو

اور اب شاعری میں بھی نہیں ہو وصل کی خواہشوں سے نکلے تو ہجر کی بے بسی میں بھی نہیں ہو تم نے جب دوستی نہیں رکھی تو مری دشمنی میں بھی نہیں ہو میرے دل کے سکون کے موجب تم مری خودسری میں بھی نہیں ہو میں جو تم میں اگر کہیں نہیں ہوں […]