سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں

جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں ابھی سے برف الجھنے لگی ہے بالوں سے ابھی تو قرض مہ و سال بھی اتارا نہیں بس ایک شام اسے آواز دی تھی ہجر کی شام پھر اس کے بعد اسے عمر بھر پکارا نہیں ہوا کچھ ایسی چلی ہے کہ تیرے وحشی کو […]

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے

نگاہ بن کے حسینوں کی انجمن میں رہے تو اے بہار گریزاں کسی چمن میں رہے مرے جنوں کی مہک تیرے پیرہن میں رہے مجھے نہیں کسی اسلوب شاعری کی تلاش تری نگاہ کا جادو مرے سخن میں رہے نہ ہم قفس میں رکے مثل بوئے گل صیاد نہ ہم مثال صبا حلقۂ رسن میں […]

جیسی ہے بدن میں گل رخ کے ویسی ہی نزاکت باتوں میں

ہونٹوں میں ہے جتنی شیرینی اتنی ہی حلاوت باتوں میں کیا خوب توازن چلنے میں کیا خوب لطافت ہنسنے میں کیا خوب اداؤں میں شوخی کیا خوب شرارت باتوں میں آنکھوں میں ہے نشہ سا چھایا رخسار ہوئے سرخی مائل ہونٹوں پہ لرزتے ہیں ارماں پر کیف حرارت باتوں میں زینت کا طریقہ کیا کہنے […]

ہیں مرے وجود میں موجزن مری الفتوں کی نشانیاں

نہ ہوئیں نصیب جو قربتیں انہیں قربتوں کی نشانیاں تھکی ہاری شکل نڈھال سی کسی امتحاں کے سوال سی مرے جسم و جان پہ ثبت ہیں تری فرقتوں کی نشانیاں کبھی آنکھیں غیظ سے تربتر کبھی لعن طعن زبان پر مجھے میری جاں سے عزیز ہیں تری نفرتوں کی نشانیاں ہو وہ بوئے گل کہ […]

آخری حد پہ اک جنون کے ساتھ

مل دسمبر کبھی تو جون کے ساتھ میرا لکھنے کا وقت ہوتا ہے لوگ سوتے ہیں جب سکون کے ساتھ کرب _ تخلیق سہنا پڑتا ہے شعر میں سینچتی ہوں خون کے ساتھ سردیوں میں اسے میں بھیجوں گی اک سویٹر بنا ہے اون کے ساتھ میں نہیں جانتی کہ آنکھوں کا کیا تعلق ہے […]