سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں ابھی سے برف الجھنے لگی ہے بالوں سے ابھی تو قرض مہ و سال بھی اتارا نہیں بس ایک شام اسے آواز دی تھی ہجر کی شام پھر اس کے بعد اسے عمر بھر پکارا نہیں ہوا کچھ ایسی چلی ہے کہ تیرے وحشی کو […]