اس جدائی میں تم اندر سے بکھر جاؤ گے
کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا
معلیٰ
کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آؤں گا
آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی
عمر نے ہم سے بے وفائی کی وصل کے دن کی آرزو ہی رہی شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
تو کب کہے گا کور نگاہا ! کمال است ہونے لگی ہے ٹیس میں کچھ اس لئے کمی زخموں پہ کوئی رکھ گیا پھاہا ، کمال است کیا خوب مجھ پہ دھر گیا الزامِ عاشقی کیوں میں نے اس کو ٹوٹ کے چاہا ، کمال است رووں تو مسکراکے کہے وہ بہت ہی خوب پاوں […]
ایسے انداز کی بس ایک اکیلی میں ہوں
مجھ سے آدھی عمر کے لڑکے ! میری رہ نہ کھوٹی کر ایسے کیسے بارش والی شامیں اچھی گزریں گی ؟ میں کرتی ہوں موسم موسم اور تو روٹی روٹی کر
بھاڑ میں جائیں رشتے دار ترے چن کے بدلے سبھی چکاؤں گی گن رہی ہوں ابھی میں وار ترے کس قدر پٹیاں پڑھاتے ہیں تو بھی کھوٹا ، برے ہیں یار ترے لگ گیا ان کا دل بھی دنیا میں آج خوش خوش ہیں گریہ زار ترے یہ ہمہی تھے جو تھے عزیز بہت آج […]
تمام ہو گئے ہم پہلے ہی نگاہ میں حیف نہ رات وصل کی دیکھی نہ دن جدائی کا
تو کیا سچ مچ جدائی مجھ سے کر لی؟ تو خود اپنے کو آدھا کر لیا کیا؟
تھی وصل میں بھی فکرِ جدائی تمام شب وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب