اٹھ اٹھ کے دشمنوں نے سراہا ، کمال است

تو کب کہے گا کور نگاہا ! کمال است ہونے لگی ہے ٹیس میں کچھ اس لئے کمی زخموں پہ کوئی رکھ گیا پھاہا ، کمال است کیا خوب مجھ پہ دھر گیا الزامِ عاشقی کیوں میں نے اس کو ٹوٹ کے چاہا ، کمال است رووں تو مسکراکے کہے وہ بہت ہی خوب پاوں […]

بن گئے ہیں گلے کا ہار ترے

بھاڑ میں جائیں رشتے دار ترے چن کے بدلے سبھی چکاؤں گی گن رہی ہوں ابھی میں وار ترے کس قدر پٹیاں پڑھاتے ہیں تو بھی کھوٹا ، برے ہیں یار ترے لگ گیا ان کا دل بھی دنیا میں آج خوش خوش ہیں گریہ زار ترے یہ ہمہی تھے جو تھے عزیز بہت آج […]