وصل میں رنگ اڑ گیا میرا
کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا
معلیٰ
کیا جدائی کو منہ دکھاؤں گا
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ
کسی کی تابش رخســار کا کہــو قصہ کسی کے گیسوئے عنبر فشاں کی بات کرو
محبت کب ہے اچھی چیز مرشد یہی تم سے ملائیں تو ملائیں دعائے وصل ، آنسو ، نیز مرشد کوئی چوکھٹ مرا مکہ مدینہ طواف- عشق اک دہلیز ، مرشد مریدین- سخن میری مریدی ؟ کہاں یہ فن کہاں نا چیز ، مرشد ؟ بہت مشکل میں دل آیا ہوا ہے سنبھل جائے ، کوئی […]
کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مرگئے ترے بھی دن گزرگئے مرےبھی دن گزر گئے
شوخیا وے کیہڑیاں پیراں چ نیں چٹا کرتا ، کالی کوٹی، خیر ای؟؟ تلے والی کھیڑیاں پیراں چ نیں ٹردے ویلے مڑ کے تکیا ای نئیں کوئی چھلاں گیڑیاں پیراں چ نیں یاد کر توں پیار کہنا سیں کدی مشکلاں اج جیہڑیاں پیراں چ نیں ایہہ شرارت تیری اے یا خواب سی جو پزیباں چھیڑیاں […]
کیا اس کو معلوم نہیں ہے موسم کتنا آسم ہے
یار!! بہتر ہوں بہترین نہیں دیکھنے کی طلب فضول کہ میں عام سی ہوں ، بہت حسین نہیں شعر کہہ کہہ کے تھک بھی سکتی ہوں شاعرہ ہوں کوئی مشین نہیں وہ بھی نقاد ہیں مرے، جن کی بحر اپنی ، کوئی زمین نہیں وہ تو ہم نے بنا لیا مذہب ورنہ یہ عشق کوئی […]
بیج اب خواہشوں کا بو کے دکھا ضبط کہتا رہا کہ شش ! خاموش زخم کہتا رہا کہ رو کے دکھا سینکڑوں تجھ پہ مرنے والی ہیں ؟ چل مجھے فون ایک دو کے دکھا کہہ دیا کہ نہیں دکھا منظر بس نہیں کہہ دیا ہے ، گو کہ دکھا تو مرے بعد خوب روئے […]
یا اج تیرے تن دی بوٹی بوٹی نئیں سارے گھر دی پگاں داء تے لائیاں نی پتر تیری غلطی اینی چھوٹی نئیں