یوں خزاں رت میں نہ جھڑتی ، ابھی زندہ ہوتی
میں جو اک پیڑ ہوں ، اے کاش پرندہ ہوتی
معلیٰ
میں جو اک پیڑ ہوں ، اے کاش پرندہ ہوتی
مرے حق میں مل کے دعا کرو کسی طور کم نہیں ہو رہے یہ عذاب دل کے ، دعا کرو
یہ بھی ممکِن ہے تیری جدائی میں سنور جاوں میں بہت آوارہ سا ہو گیا تھا تیرے لاڈ پیار میں میں
یہ ہم ہی جانتے ہیں جُدائی کے موڑ پر اِس دل کا جو بھی حال تجھے دیکھ کر ہُوا
کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیئے ہیں
میں بس قبیلوں میں شرط لگنے کی منتظر ہوں
یاد کر ، میں نے کہا تھا مجھے اونچا رکھنا
ایسی غزلیں نظمیں آخر کیسے لکھوں جن کو پڑھکر دور سے کوئی تحفے بھیجے پھولوں کے گلدستے بھیجے اور ری میک بنائے میری تصویروں کا بیک گراؤنڈ میں میوزک ہو جادوئی سا پیج بناؤں تو لوگوں کی اندھا دھند تقلید ملے بس ہر اک عید پہ عید ملے بس کپڑے جوتے بیگ کتابیں سوچ رہی […]
کھود کے دیکھوں گی میں باقاعدہ دیوار کو نفرتیں پل میں کسی کی اک جھلک پہ مٹ گئیں کھا گیا طوفان اک نوزائیدہ دیوار کو عقل کی باتیں نہ لکھ بے عقل کے ماتھے پہ تو مت سکھا قانون اور یہ قاعدہ دیوار کو اسنے واپس لوٹ کر آنا ہے اور نہ آئے گا دے […]
جس جگہ سے گئی تھی وہیں کی وہیں فرض کر لی گئی بولتی بھی تو کیا یاں تو سب ہی الٹ سمجھا جانے لگا میری چپ تھی جو ، "ہاں” تو نہیں ، ہاں ، "نہیں” فرض کر لی گئی میں نے پہنا تھا جھوٹا لبادہ فقط ظاہری حسن کا اور ستم دیکھئے کہ میں […]