ایسی غزلیں نظمیں آخر کیسے لکھوں

ایسی غزلیں نظمیں آخر کیسے لکھوں جن کو پڑھکر دور سے کوئی تحفے بھیجے پھولوں کے گلدستے بھیجے اور ری میک بنائے میری تصویروں کا بیک گراؤنڈ میں میوزک ہو جادوئی سا پیج بناؤں تو لوگوں کی اندھا دھند تقلید ملے بس ہر اک عید پہ عید ملے بس کپڑے جوتے بیگ کتابیں سوچ رہی […]

بات سننے کا ہے کچھ تو فائدہ دیوار کو

کھود کے دیکھوں گی میں باقاعدہ دیوار کو نفرتیں پل میں کسی کی اک جھلک پہ مٹ گئیں کھا گیا طوفان اک نوزائیدہ دیوار کو عقل کی باتیں نہ لکھ بے عقل کے ماتھے پہ تو مت سکھا قانون اور یہ قاعدہ دیوار کو اسنے واپس لوٹ کر آنا ہے اور نہ آئے گا دے […]

بے دری گھر مرا ، میں کہ فرضی مکیں فرض کر لی گئی

جس جگہ سے گئی تھی وہیں کی وہیں فرض کر لی گئی بولتی بھی تو کیا یاں تو سب ہی الٹ سمجھا جانے لگا میری چپ تھی جو ، "​ہاں”​ تو نہیں ، ہاں ، "​نہیں”​ فرض کر لی گئی میں نے پہنا تھا جھوٹا لبادہ فقط ظاہری حسن کا اور ستم دیکھئے کہ میں […]