خود کو ہر حکم کا پابند سمجھ لیتے ہیں

لوگ ، لوگوں کو خداوند سمجھ لیتے ہیں وہ پرستار ترے آگے نگوں رہتے ہیں جو ترا دست- ہنرمند سمجھ لیتے ہیں ٹوٹنے دیتے نہیں تیرا بھرم لوگوں میں ہم ترے جھوٹ کو ہرچند سمجھ لیتے ہیں بانٹ لیتے ہیں بہت شوق سے ذمے داری فرض جب باپ کا فرزند سمجھ لیتے ہیں روک لیتے […]

دل سوئے منزل نہیں یا میں نہیں

اب مری مشکل نہیں یا میں نہیں کیا رکاوٹ ہے حصول یار میں تو مرے قابل نہیں یا میں نہیں ؟ نوچ کے پھینکوں گی ساری خواہشیں یا تو اب یہ دل نہیں یا میں نہیں پیار اس کو ٹوٹ کے آنے لگا آج میرا تل نہیں یا میں نہیں عشق میرا ہو یا میری […]

دل کی بستی مین خزاؤں کے عذاب آتے ہیں

اس بیاباں میں کہاں تازہ گلاب آتے ہیں تم ناں اب اپنے لئے اور ٹھکانہ ڈھونڈو ان دنوں مجھ کو کسی اور کے خواب آتے ہیں ایسے لوگوں کو لگاتی ہی نہیں منہ ورنہ ایسی باتوں کے مجھے خوب جواب آتے ہیں عین ممکن ہے کہ وحشت میں کمی آ جائے اس خرابے میں اگر […]