تخت و تاج نہیں ہے میرا میں پھر بھی شہزادی ہوں
ایک میں اپنے بابا کی اور اک اس کی شہزادی ہوں
معلیٰ
ایک میں اپنے بابا کی اور اک اس کی شہزادی ہوں
پارسائی کا ڈھونگ کرتے ہوئے بس مجھے جرم کی سزا دیجے
اگر تمہاری نہیں تو کسی کی بھی نہ رہوں
ترس ہی جاؤ مری شکل دیکھنے کیلئے
لوگ ، لوگوں کو خداوند سمجھ لیتے ہیں وہ پرستار ترے آگے نگوں رہتے ہیں جو ترا دست- ہنرمند سمجھ لیتے ہیں ٹوٹنے دیتے نہیں تیرا بھرم لوگوں میں ہم ترے جھوٹ کو ہرچند سمجھ لیتے ہیں بانٹ لیتے ہیں بہت شوق سے ذمے داری فرض جب باپ کا فرزند سمجھ لیتے ہیں روک لیتے […]
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
اب مری مشکل نہیں یا میں نہیں کیا رکاوٹ ہے حصول یار میں تو مرے قابل نہیں یا میں نہیں ؟ نوچ کے پھینکوں گی ساری خواہشیں یا تو اب یہ دل نہیں یا میں نہیں پیار اس کو ٹوٹ کے آنے لگا آج میرا تل نہیں یا میں نہیں عشق میرا ہو یا میری […]
اس بیاباں میں کہاں تازہ گلاب آتے ہیں تم ناں اب اپنے لئے اور ٹھکانہ ڈھونڈو ان دنوں مجھ کو کسی اور کے خواب آتے ہیں ایسے لوگوں کو لگاتی ہی نہیں منہ ورنہ ایسی باتوں کے مجھے خوب جواب آتے ہیں عین ممکن ہے کہ وحشت میں کمی آ جائے اس خرابے میں اگر […]
بدن کے سرد خانے میں ہماری لاش رکھی ہے
اتنی ناکام زندگی کے لئے