شکستہ ہوں تو ہونے دو مری امید ٹوٹی ہے
مجھے کچھ دن تو رونے دو مری امید ٹوٹی ہے
معلیٰ
مجھے کچھ دن تو رونے دو مری امید ٹوٹی ہے
وہ محبت کے سبھی قول بدل لیتے ہیں وقت آتا ہے تو احساس کا در کھلتا ہے لوگ سانپوں کی طرح خول بدل لیتے ہیں آلہ ء قتل پہ ہونگے ترے ہاتھوں کے نشاں چل مرے دوست یہ پستول بدل لیتے ہیں چیخ پڑتے ہیں کہ کم ہو یہ اذیت ناکی وقت کیسا بھی ہو […]
دل ہے سینے میں تو آخر کو دھڑک سکتا ہے
تمہارے لکھنے سے معتبر نام ہوگیا ہے
ہے کرب ایسا کہ جنموں جلی کہا جائے ملا تھا باغ میں کچھ دن قیام کا موقع لہذا شاخ سے ٹوٹی کلی کہا جائے فقط گناہ ہیں منسوب ہم سے ، باقی لوگ وہ پارسا ہیں کہ ان کو ولی کہا جائے یہاں پہ رہتا ہے قدرت کا اک حسیں شہکار تری گلی کو بھی […]
یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے
میں چاہتی بھی یہی تھی کہ تم بچھڑ جاؤ ذرا سی دیر منانا چلو غنیمت ہے اب اس طرح کا بھی کیا عشق ، پاؤں پڑ جاؤ
بس تین حرف یاد ہوئے عین ، شین ، قاف
حکم عدولی کرنے والے میں بگڑی شہزادی ہوں
زمین زادے مری بات ہی نہیں سنتے