شہر جاتے ہیں جو ماحول بدل لیتے ہیں

وہ محبت کے سبھی قول بدل لیتے ہیں وقت آتا ہے تو احساس کا در کھلتا ہے لوگ سانپوں کی طرح خول بدل لیتے ہیں آلہ ء قتل پہ ہونگے ترے ہاتھوں کے نشاں چل مرے دوست یہ پستول بدل لیتے ہیں چیخ پڑتے ہیں کہ کم ہو یہ اذیت ناکی وقت کیسا بھی ہو […]

مجھے نہ باپ کی نازوں پلی کہا جائے

ہے کرب ایسا کہ جنموں جلی کہا جائے ملا تھا باغ میں کچھ دن قیام کا موقع لہذا شاخ سے ٹوٹی کلی کہا جائے فقط گناہ ہیں منسوب ہم سے ، باقی لوگ وہ پارسا ہیں کہ ان کو ولی کہا جائے یہاں پہ رہتا ہے قدرت کا اک حسیں شہکار تری گلی کو بھی […]