جو سکون شبد ہے ناں ؟ کسی رین بھی نہ آئے

کوئی ربط تیرے میرے مابین بھی نہ آئے تجھے امتحان دینا بھی پڑے جو عشق والا تو سبق سنانے جائے تجھے عین بھی نہ آئے ہے دعا کہ تجھ پہ ٹوٹے مرے جیسی اک قیامت تجھے موت بھی نہ آئے تجھے چین بھی نہ آئے اسے کیا پڑی کہ لوٹے مری بے بسی کی خاطر […]

جیتے جیتے وہ دکھ جھیلا سکھ کا جینا چھوٹ گیا

ایک غریب سے جیسے اک انمول خزینہ چھوٹ گیا آنسو دریا بن کر پھوٹے آنکھوں کے صحراؤں سے ایک قرینہ صبر کا تھا وہ ایک قرینہ چھوٹ گیا میرا منہ کے بل گرنا بھی میری لاپرواہی تھی اک زینے پہ پاؤں رکھا اور اک زینہ چھوٹ گیا وقت ہی تھا ناں کٹ جاتا ہے آخر […]

دو قدم کا فاصلہ ہے بس شکستِ فاش میں

ماری جاوں گی میں اک دن عشق کی پاداش میں تو پہاڑی سخت جاں ،میں لاڈلی اور بدمزاج فرق تو ہونا تھا آخر طرز بود وباش میں آدھا ٹکڑا کھا کے اس نے دے دیا آدھا مجھے کتنا میٹھا بھر گیا تھا سیب کی اس قاش میں میری تاریکی نے یہ باور کرایا ہے مجھے […]