اور ہوتے ہیں جو محفل میں خاموش آتے ہیں
اور ہوتے ہیں جو مَحفِل میں خموش آتے ہیں آندھیاں آتی ہیں جب حضرتِ جوشؔ آتے ہیں
معلیٰ
اور ہوتے ہیں جو مَحفِل میں خموش آتے ہیں آندھیاں آتی ہیں جب حضرتِ جوشؔ آتے ہیں
میں تجھے بھول کر بہت خوش ہوں
بزمِ احباب میں حاصل نہ ہُوا چین مجھے مطمئن دل ہے بہت جب سے الگ بیٹھا ہُوں
وہ سانپ رینگتے ہوئے چنبیلیوں کی اوٹ میں
تجھے بھی آئینے اب تیری حد میں رکھوں گی میں عمر بھر نہیں تذلیل بھولتی اپنی پلٹ کے آیا تو ٹھوکر کی زد میں رکھوں گی
ایک دن گفتگو بنا لوں گی اس سے جوڑوں گی منفرد رشتہ اس کی بیٹی ، بہو بنا لوں گی
کوئی ربط تیرے میرے مابین بھی نہ آئے تجھے امتحان دینا بھی پڑے جو عشق والا تو سبق سنانے جائے تجھے عین بھی نہ آئے ہے دعا کہ تجھ پہ ٹوٹے مرے جیسی اک قیامت تجھے موت بھی نہ آئے تجھے چین بھی نہ آئے اسے کیا پڑی کہ لوٹے مری بے بسی کی خاطر […]
ایک غریب سے جیسے اک انمول خزینہ چھوٹ گیا آنسو دریا بن کر پھوٹے آنکھوں کے صحراؤں سے ایک قرینہ صبر کا تھا وہ ایک قرینہ چھوٹ گیا میرا منہ کے بل گرنا بھی میری لاپرواہی تھی اک زینے پہ پاؤں رکھا اور اک زینہ چھوٹ گیا وقت ہی تھا ناں کٹ جاتا ہے آخر […]
دل کو اچھا ہے کہ اوقات میں رکھا جائے
ماری جاوں گی میں اک دن عشق کی پاداش میں تو پہاڑی سخت جاں ،میں لاڈلی اور بدمزاج فرق تو ہونا تھا آخر طرز بود وباش میں آدھا ٹکڑا کھا کے اس نے دے دیا آدھا مجھے کتنا میٹھا بھر گیا تھا سیب کی اس قاش میں میری تاریکی نے یہ باور کرایا ہے مجھے […]