ٹھہرنا بھی مرا جانا شمار ہونے لگا

پڑے پڑے میں پرانا شمار ہونے لگا بہت سے سانپ تھے اس غار کے دہانے پر دل اس لئے بھی خزانہ شمار ہونے لگا ہجوم سارا رہا کر دیا گیا لیکن مرا ہی شور مچانا شمار ہونے لگا پھر ایسے ہاتھ سے مانوس ہو گئی تسبیح گنے بغیر بھی دانہ شمار ہونے لگا وہ سنگ […]

یار بجا یار نہیں رہ گئے

راستے ہموار نہیں رہ گئے خیر پرندے تو پلٹ آئیں گے لوگ تو اس پار نہیں رہ گئے تم جہاں تصویر بنے بیٹھے ہو ہم وہاں دیوار نہیں رہ گئے یہ تو ازالہ ہے نئے زخم کا اور جو آزار نہیں رہ گئے وقت سے پہلے ہوئے تیار ہم وقت پہ تیار نہیں رہ گئے […]

یہ بھی موسم کی کوئی سازش نہ ہو

ابر ہو لیکن یہاں بارش نہ ہو اس قدر بھی چاہنا کیا چاہنا عشق شدت سے ہو اور خواہش نہ ہو ایسی غربت کو خدا غارت کرے پھول بھجوانے کی گنجائش نہ ہو تم تو یوں ضد پر اتر آئے ہو آج آخری خواہش ہو فرمائش نہ ہو گل کو خوشبو سے اگر ناپا گیا […]

از آہِ حسرت است اگر ہست صیقلے

آں را کہ دل سیاہ شد از نا گریستن اگر دل میں کوئی چمک کوئی روشنی کوئی جلا ہے تو وہ آہِ حسرت کی وجہ ہی سے ہے اور وہ کہ جن کے دل سیاہ ہو چکے ہیں اُن کے دلوں کی سیاہی(پشیمانیوں پر) آہ و بکا و گریہ و زاری نہ کرنے کی وجہ […]

بروں آ از در و دیوانہ گرداں ہوشیاراں را

ولیکن خسروِ دیوانہ را دیوانہ تر گرداں دروازے (پردے) سے باہر آ اور ہوشیار و عقلمند لوگوں کو (اپنا جلوہ دکھا کر) دیوانہ بنا دے اور خسرو دیوانے کو (جو پہلے ہی تجھے دیکھ کر دیوانہ ہو چکا ہے) دیوانہ تر بنا دے

بس کہ در جانِ فگار و چشمِ بیدارم توئی

ہر کہ پیدا می شود از دُور، پندارم توئی بس کہ میری تار تار جانِ فگار اور چشمِ بیدار (راہ پر لگی آنکھوں) میں تُم ہی تُم سمائے ہوئے ہو اِس لیے دُور سے جو کوئی بھی ظاہر ہوتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ تم ہو۔