گفتی ز جنونِ تو و مجنوں چہ تفاوت

رسوائے تو ام، خواہ کم و خواہ برابر تُو نے پوچھا کہ تیرے جنون اور مجنوں کے جنون میں کیا فرق ہے؟ (مجھے کیا علم کہ) مجھے تو تیرے ہی عشق نے رسوا کیا میں تو تیرا ہی رسوا ہوں، اب چاہے میرا جنون مجنوں کے جنوں سے کم ہو چاہے برابر

ہر گُل از روئے تو یادم داد و آتش زد بہ دل

ایں ہمہ گُلہا کہ دیدم خار بُودے کاشکے ہر ایک پھول نے مجھے تیرے چہرے کی یاد دلا دی اور میرے دل میں آگ لگا دی اے کاش کہ یہ سارے پھول جو میں نے دیکھے، پھول نہ ہوتے بلکہ کانٹے ہوتے

آنک بدید رُوئے تو، در نَظَرَش چہ سرد شد

گنج کہ در زمیں بوَد، ماہ کہ در سما بوَد وہ کہ جس نے تیرا چہرہ دیکھ لیا، اُس کی نظروں میں کیسا بے معنی و بے وقعت و حقیر ہو گیا، وہ خزانہ کہ جو زمین میں ہے وہ چاند کہ جو آسمان میں ہے

از جودِ بے حسابِ تو جاوید زندہ ایم

زاہد ز بیمِ پُرسشِ روزِ حساب مُرد (اے خدا) ہم تیرے بے حساب جود و لطف و کرم و فضل سے ابدی و سرمدی زندگی پا گئے اور زندہ ہیں، جب کہ زاہد بیچارہ روزِ حساب کی پوچھ گچھ کے خوف سے مر گیا

اگر تو زندگی خواہی، دل از جان و جہاں بگسل

نیابی زندگی تا تو ز بہرِ این و آں میری اگر تو (حقیقی و جاودانی) زندگی چاہتا ہے تو پھر اپنے دل کا تعلق جان و جہان سے، ہر چیز سے توڑ دے، ختم کر دے۔ ورنہ جب تک تُو این و آں، فُلان و بُہمان ہر ایرے غیرے پر مرتا رہے گا،تجھے زندگی نہیں […]

در حُسنِ خلق کوش کہ اسبابِ دلبری

تنہا نہ زُلف و خال و خط و قد و قامت است (خدا کی) مخلوق اور تخلیق کے حُسن تلاش کرنے کی جستجو کرتا رہ کہ اسبابِ دلبری فقط یہ زلف و خال و خط و قد و قامت (یہ ظاہری حُسن کہ جسے تُو حُسن سمجھتا ہے) ہی نہیں ہیں۔

رُو متاب از خلق در دولت کہ چوں گردد بلند

گرمیِ خورشیدِ عالمتاب می گردد زیاد خدا جب تجھے زیادہ دولت دے اور تیرا اقبال بلند کرے تو خلقِ خدا سے اپنا مُنہ مت پھیر لے (بلکہ اُن پر زیادہ مہربانی کر) کیونکہ سارے جہان کو روشن کرنے والا آفتاب جب بلند ہوتا ہے تو اُس کی گرمی اور زیادہ ہو جاتی ہے

زُہد و تقویٰ را تو اے زاہد شفیعِ خویش ساز

من کسے دارم کہ در محشر بفریادم رسد اے زاہد، تُو اپنے زُہد و تقویٰ کو اپنے لیے (روزِ قیامت کا) شفیع بناتا رہ (اور مجھے مت سُنا کیونکہ) میں ایک ایسے دامن سے وابستہ ہوں کہ جو روزِ محشر (شفیع بن کر) میری فریادوں کو پہنچے گا