دوست بر ما نگراں از سرِ شفقت بگذشت
خاک بُودیم ز فیضِ نظر اکسیر شدیم دوست ہم پر شفقت کی نظر ڈالتا ہوا گذرا ہم خاک تھے لیکن فیضِ نظر سے اکسیر ہو گئے
معلیٰ
خاک بُودیم ز فیضِ نظر اکسیر شدیم دوست ہم پر شفقت کی نظر ڈالتا ہوا گذرا ہم خاک تھے لیکن فیضِ نظر سے اکسیر ہو گئے
ور نہ بیند چہ بوَد فائدہ بینائی را آنکھوں کا فائدہ اور حاصل یہ ہے کہ وہ دلبر کو دیکھیں اور اگر نہ دیکھیں تو پھر بینائی کا کیا بھی فائدہ
از چشمِ بدَت دانۂ انگور شود خشک زاہد، باغ سے چلا جا کہ تسبیح کے دانوں کی طرح، تیرے بُری نظر لگنے سے انگور کے دانے بھی خشک ہو جاتے ہیں
من ایں شادی نمی خواہم کہ اُو غمناک خواہد شد زہے یہ خوشی کہ وہ (میرے پاس) آئے اور میرا حال دیکھے، لیکن میں ایسی خوشی نہیں چاہتا کہ وہ (میرا حال دیکھ کر) غمناک ہو جائے گا
محنتِ ما راحتِ ما، دردِ ما درمانِ ما محبت ہمارے لیے ہمارا طبیب بن گئی ہے اور اٗس کے احسان اور عنایتیں ہماری جان پر ہیں، اور اسی لیے ہمارے غم و رنج و الم ہی ہماری راحت ہیں اور ہمارا درد ہی ہمارا درمان ہے
کہ ہم کفر و ہم ایمانش تو باشی کسی بیدل (عاشق) سے کفر و ایمان کے متعلق مت پوچھ کہ اُس کا کفر بھی اور اُس کا ایمان بھی بس تُو ہی تُو ہوتا ہے
چہ سود از آنکہ بشاخِ گُل آشیاں دارم نہ ذوقِ نغمہ رکھتا ہوں اور نہ ہی مجھے آہ و فغاں کی آزادی ہے،کیا فائدہ اِس سے کہ میرا آشیاں شاخِ گُل پر ہے
سعادتِ ابد و عمرِ جاوداں دارد وہ کہ جو وفادار اور مہرباں دوست رکھتا ہے وہ ابدی سعادت اور جاودانی عمر رکھتا ہے
دامنِ دریا گرفتارِ خس و خاشاک نیست دنیا والوں کے ساتھ ہماری دل بستگی کیسے ہو کہ دریا کا دامن کبھی خس و خاشاک (گھاس پھونس) میں نہیں اُلجھتا
سنگ می بارد ز ابرِ پنبہ بر مینائے ما اگر کبھی عالمِ مستی میں ابر و باراں کی آرزو کرتا ہوں تو روئی کے گالوں جیسے بادلوں سے بھی میرے جام پر پتھر برسنے لگتے ہیں نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے