نہ نکہتے ز گُلے، نے خراشے از خارے
دریں چمن بہ چہ دل خوش کند گرفتارے نہ کسی پھول سے کوئی خوشبو آتی ہے نہ ہی کسی کانٹے سے کوئی خراش پہنچتی ہے، اب اس چمن میں کوئی اسیر اپنا دل خوش کرے تو کیسے کرے؟
معلیٰ
دریں چمن بہ چہ دل خوش کند گرفتارے نہ کسی پھول سے کوئی خوشبو آتی ہے نہ ہی کسی کانٹے سے کوئی خراش پہنچتی ہے، اب اس چمن میں کوئی اسیر اپنا دل خوش کرے تو کیسے کرے؟
شاید کہ خاکِ پائے من بر چرخ تفضیلے کند اگر میری نظر کبھی اچانک تیرے قدموں کا بوسہ لے لے، تو ممکن ہے کہ میری خاکِ پا آسمان پر برتری لے جائے، اُس پر فضیلت پا لے
وز قولِ بد و فعلِ بدِ خود خجلم فیضے بہ دلم ز عالمِ قدس رساں تا محو شود خیالِ باطل ز دلم یا رب، میں اپنے بدنما اور بد صورت گناہوں پر شرمسار و شرمندہ ہوں،اور اپنی بری باتوں اور برے کاموں پر نادم و پشیمان ہوں یا رب تو میرے دل پر عالمِ قدس […]
رمزیست کہ فاش بر اُولی الابصار است آں نورِ ازل کہ گم شدہ از کفِ تو دریاب بہ دل کہ دل حریمِ یار است خود آگہی کے ذوق کے بغیر تیری طلب تیری تلاش بیکار ہے، اور یہ ایک ایسی رمز ہے کہ جو صاحبانِ بصیرت پر آشکار ہے وہ نورِ ازل کہ جو تیرے […]
نمی دانم چہ می خواہم چہ جُویَم برآید آرزو یا بر نیایَد شہیدِ سوز و سازِ آرزویَم میں دُنیا کے اس گُلشن میں خوشبو کی طرح پھیلا ہوا ہوں، اور نہیں جانتا کہ میں کیا چاہتا ہوں اور کس کی تلاش میں ہوں۔(مجھے اس سے کچھ سروکار نہیں کہ) میری آرزو پوری ہوتی ہے یا […]
ہر کہ می بینی بقیدِ زندگی دیوانہ است سانسوں کی زنجیر سے بندھا ہونا ہوشمند ہونے کی دلیل نہیں ہے جسے بھی تُو زندگی کی قید میں (زندہ) دیکھتا ہے سمجھو کہ وہ دیوانہ ہے کہ قید میں اور زنجیر سے بندھا ہونا دیوانے کی نشانیاں ہیں، ہوشمند کی نہیں
مقیمِ عالمِ یارند ہر کجا ہستند (اِس دنیا سے) چلے جانے والے کہ وہ ما و من کی تشویش (دنیاوی جھگڑوں) سے نجات پا گئے،وہ اب محبوب کی دنیا میں مقیم ہیں، جہاں کہیں بھی ہیں دوسرے مصرعے میں ‘عالمِ یارند’ کی بجائے ‘عالمِ نازند’ بھی ملتا ہے
کز وفا و آشنائی در جہاں آثار نیست عشق و محبت و وفا کے واقف کاروں کے ساتھ کیا معاملہ ہو گیا؟ اور مروت کو کیا ہوا؟ کہ دنیا میں وفا اور آشنائی کی کوئی نشانی، کوئی علامت، کوئی آثار ہی نہیں ہیں
وز منتِ خلق بے نیازم کردند چو شمع در ایں بزم گدازم کردند از سوختگی محرمِ رازم کردند مجھے منصبِ عشق سے سرفراز کر دیا گیا اور لوگوں کے احسانات و رحم و کرم سے مجھے بے نیاز کر دیا گیا۔ شمع کی طرح اس بزم میں پہلے تو مجھے (عشق کی آگ میں جلا […]
بارگاہِ تخیل میں ہیں صف بہ صف امداد بارگاہِ تخیل میں ہیں صف بہ صف دست بستہ ہزاروں کی تعداد میں لفظ اتنے کہ تاروں کی تعداد میں پئے نعت نبی میری امداد میں