ایک ادا
اپنے آقا کے خالی شکم پر بندھے پتھروں کو جو دیکھا تو کعبے نے بھی اپنے خالی شکم پر انہیں کی طرح حجر اسود کو باندھا تھا اور آج بھی جی رہا ہے بڑی ہی عقیدت کے ساتھ اپنے آقا کی اس ایک سُنّت کے ساتھ
معلیٰ
اپنے آقا کے خالی شکم پر بندھے پتھروں کو جو دیکھا تو کعبے نے بھی اپنے خالی شکم پر انہیں کی طرح حجر اسود کو باندھا تھا اور آج بھی جی رہا ہے بڑی ہی عقیدت کے ساتھ اپنے آقا کی اس ایک سُنّت کے ساتھ
نوائے طُوطی و بانگِ ہزار باید و نیست اِس چمن (دُنیا) میں کہ جو زاغ و زغن (چیل کوؤں) کے دلخراش شور و غوغے سے پُر ہے طوطی و بلبل کی خوش کن صدائیں اور نغمات ہونے چاہیئں مگر افسوس کہ نہیں ہیں
تو ہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماںسوالیہ نشاں تو ہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماں مرے نصیب میں کب تک نہیں زمیں کی جناں دیارِ پاک میں کب ہوگی حاضری میری؟ ہمیشہ سامنے ہے اک ’’سوالیہ سا نشاں‘‘ توہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماں
نمی رود غمِ دیرینۂ کہ من دارم رات کے چہرے سے سیاہی چلی جاتی ہے لیکن دل سے نہیں جاتا وہ پرانا غم کہ جو مجھے لاحق ہے
رہِ طیبہ میں دیوانہ چلتا ہوا دم بہ دم گرتا پڑتا سنبھلتا ہوا جا رہا ہے سوئے سیدالانبیا شوق ہے رہنما اور کرم ساتھ ہے اک نہ اک دن یقینا پہنچ جائے گا ورد صلِّ علیٰ کا وہ کرتا ہوا
حبس از کجا، من از کجا، مالِ کہ را دزدیدہ ام میں ضرور کسی مصلحت کی وجہ سے اِس دنیا کے قید خانے میں پڑا ہوا ہوں، ورنہ قید خانہ کہاں اور میں کہاں، میں نے بھلا کس کا مال چرایا ہے؟ (کہ قید خانے میں سزا بھگتوں)
منزلیں گم ہوئیں راستے کھو گئے تیری سیرت سے بھٹکے ہیں ایسے شہا خود کو پہچاننا کارِ دشوار ہے زندگی ریت کی جیسے دیوار ہے تیری رحمت ہمیں پھرسے درکار ہے
میں خوفِ عصیاں سے رو کے سویا جو اپنا دامن بھگو کے سویا تو اِک سہانا سا خواب دیکھا کہ روزِ محشر ہے اور میں ہوں مدد کو رحمت تری کھڑی ہے کرم کی برکھا برس رہی ہے گنہ مرے کاغذی مکاں ہیں
مرے آقا زمانے میں تری بخشش نرالی ہے ترے در پہ شہنشاہوں نے بھی بگڑی بنالی ہے نہ مجھ میں کچھ سلیقہ ہے نہ کچھ ُحسنِ مقالی ہے میں بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں اور اتنا ہی کہتا ہوں کرم کے چند سکیّ دو کشکول خالی ہے
اے رحمتِ ُکل اے فخر رُسل ہیں آپ کی یادیں نوریں سی سو کیوں نہ آپ کو یاد کریں؟ ہیں آپ کی باتیں میٹھی سی پھر کیوں نہ آپ کی بات کریں؟