دریں چمن کہ پُر است از خروشِ زاغ و زغن

نوائے طُوطی و بانگِ ہزار باید و نیست اِس چمن (دُنیا) میں کہ جو زاغ و زغن (چیل کوؤں) کے دلخراش شور و غوغے سے پُر ہے طوطی و بلبل کی خوش کن صدائیں اور نغمات ہونے چاہیئں مگر افسوس کہ نہیں ہیں

سوالیہ نشاں

تو ہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماںسوالیہ نشاں تو ہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماں مرے نصیب میں کب تک نہیں زمیں کی جناں دیارِ پاک میں کب ہوگی حاضری میری؟ ہمیشہ سامنے ہے اک ’’سوالیہ سا نشاں‘‘ توہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماں

عزم

رہِ طیبہ میں دیوانہ چلتا ہوا دم بہ دم گرتا پڑتا سنبھلتا ہوا جا رہا ہے سوئے سیدالانبیا شوق ہے رہنما اور کرم ساتھ ہے اک نہ اک دن یقینا پہنچ جائے گا ورد صلِّ علیٰ کا وہ کرتا ہوا

من از برائے مصلحت در حبسِ دنیا ماندہ ام

حبس از کجا، من از کجا، مالِ کہ را دزدیدہ ام میں ضرور کسی مصلحت کی وجہ سے اِس دنیا کے قید خانے میں پڑا ہوا ہوں، ورنہ قید خانہ کہاں اور میں کہاں، میں نے بھلا کس کا مال چرایا ہے؟ (کہ قید خانے میں سزا بھگتوں)