ندانم بیش ازیں عشق از منِ بیدل چہ می خواہد

غریبم، بے نوایم، خانہ ویرانم، پریشانم نہیں جانتا کہ عشق مجھ بیدل سے اِس سے زیادہ اور کیا چاہتا ہے کہ (پہلے ہی اس عشق میں) غریب الوطن (در بدر) ہوں، بے نوا ہوں، خانہ ویراں ہوں، پریشاں ہوں

اس لیے لکھتا نہیں میں دل ِغمگین کا دکھ

اس لیے لکھتا نہیں میں دلِ غمگین کا دکھ کون سمجھے گا یہاں میرے مضامین کا دکھ ایک تو چیر گئی اس کی غزل دل میرا اور اس پر وہ مرے نعرہء تحسین کا دکھ اک طرف کابل و کشمیر کراچی کی آگ اک طرف شام حلب اور فلسطین کا دکھ ایک دنیا ہے دکھوں […]

ایک دو اشکوں سے کب غم کا فسوں ٹوٹتا ہے

آنکھیں جب دشت بنیں زور ِ جنوں ٹوٹتا ہے کسی انجان اذیت کا ہے یہ رد ِ عمل جب دروں جوڑتا ہوں میں تو بروں ٹوٹتا ہے تو مرے گریے کی تحویل میں کیسے آیا میں تو جس شخص سے ہنس کے بھی ملوں ٹوٹتا ہے جانے والے نے بتایا نہیں جانے سے قبل ورنہ […]

جسم میں گونجتا ہے روح پہ لکھا دکھ ہے

تو مری آنکھ سے بہتا ہوا پہلا دکھ ہے کیا کروں بیچ بھی سکتا نہیں گنجینۂ زخم کیا کروں بانٹ بھی سکتا نہیں ایسا دکھ ہے یہ تب و تاب زمانے کی جو ہے نا یارو کیجیے غور تو لگتا ہے کہ سارا دکھ ہے تم مرے دکھ کے تناسب کو سمجھتے کب ہو جتنی […]

جنوں پسند بھی ہوں اور ‘ خاک بھی کہیں اُڑا نہیں رہا

میں صرف دشت یاد کر رہا ہوں روز’ دشت جا نہیں رہا لکیریں کھینچ کھینچ وقت کی سلیٹ پر ہوئے جو ہاتھ شل حساب کر رہا ہوں ‘ کیا رہا ہے پاس میرے ؟ کیا نہیں رہا مباحثوں مذاکروں شکایتوں سے شان ِ ہجر مت گھٹا تو صاف جانتا ہے’ میں ترا نہیں ہوں ، […]

راستہ خواب کا جب نیند کو پتھریلا پڑے

زہر آنکھوں میں سیہ رات کا زہریلا پڑے تو سمجھ جانا بچھڑنے کا سمے آ پہنچا ہاتھ جب تیری کلائی پہ مرا ڈھیلا پڑے حسن ِ سادہ مری خواہش ہے سنورتے ہوئے بھی آئنہ ٹوٹے ترا عکس نہ چمکیلا پڑے کچھ نہیں پھول تو دوچار نکل آئیں گے خشک مٹی پہ اگر پیر ترا گیلا […]

سر میں ہے خاک پاؤں میں زنجیر، ہم فقیر

بیٹھے ہیں بن کے عشق کی تصویر، ہم فقیر وہ قیس تھا جو دشت کو بھاگا تھا ناصحو ہر روز تم سے ہوں گے بغل گیر ، ہم فقیر اپنے ہی خون میں رہی لت پت ہماری لاش اپنے ہی خواب کی بنے تعبیر ، ہم فقیر دریا کے ہر بھنور میں تری آنکھ کا […]