مے کفر کی در جامِ اسلام نہیں لوں گا

جویائے حقیقت ہوں، اوہام نہیں لوں گا ساقی ترے ہاتھوں سے میں جام نہیں لوں گا نظروں سے پلا دے بس پھر نام نہیں لوں گا یہ لذتِ پیہم ہے، وہ لذتِ دو روزہ آلام کے بدلے میں آرام نہیں لوں گا تو دامِ محبت میں پھنستا ہے تو پھنس اے دل میں اپنی زباں […]

چہرہ ان کا صبحِ روشن، گیسو جیسے کالی رات

باتیں اُن کی سبحان اللہ، گویا قرآں کی آیات رُخ کا جلوہ پنہاں رکھا پیدا کر کے مخلوقات حُسنِ ظاہر سب نے دیکھا، کس نے دیکھا حُسنِ ذات جذبہ کی سب گرمی، سردی، بہتے اشکوں کی برسات ہم نے سارے موسم دیکھے، ہم پر گزرے سب حالات غم کی ساری چالیں گہری، بچتے بچتے آخر […]

کون آخر زینتِ آغوشِ محفل ہو گیا

ایک ہی نظارہ میں جانِ رگِ دل ہو گیا دو نگاہوں کا تصادم اپنا اپنا پھر نصیب کوئی قاتل اور کوئی مرغِ بسمل ہو گیا اے دلِ نا عاقبت اندیش جلتا ہے تو جل حسنِ عالم سوز کے تو کیوں مقابل ہو گیا ہیں کرم فرما کبھی اس پر کبھی جور آزما خوب ہے جیسے […]

ہمارا کارِ سخن کتنے کام کا نکلا

غزل کے موڑ سے رستہ سلام کا نکلا ذرا جو غور کیا تو خُدا کے ہاتھ میں بھی عَلَم حُسَین علیہہ السلام کا نکلا کتابِ عشق کا جب بہترین لفظ چُنا تو وہ بھی اسمِ گرامی اِمام کا نکلا شرُوع کی تھی ذرا دیر پہلے جس سے نعت ذرا کُھلا تو وہ مصرعہ سلام کا […]

یہ کون مجھ کو صلِّ علیٰ یاد آ گیا

یکتائیوں کے ساتھ خدا یاد آ گیا غربت میں جب وطن کا مزا یاد آ گیا لوگوں کا مجھ کو بختِ رسا یاد آ گیا دل اپنا اس کا تیرِ جفا یاد آ گیا بیٹھے بٹھائے ہائے یہ کیا یاد آ گیا اس رات مجھ کو نیند نہ آئی تمام رات جس رات خوابِ زلفِ […]

تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا

تجھے دیکھا جدھر دیکھا تجھے پایا جدھر پایا کہاں ہم نے نہ اس درد نہانی کا اثر پایا یہاں اٹھا وہاں چمکا ادھر آیا ادھر پایا پتا اس نے دیا تیرا ملا جو عشق میں خود گم خبر تیری اسی سے پائی جس کو بے خبر پایا دل بے تاب کے پہلو سے جاتے ہی […]

شبِ وعدہ ہے تُو ہے اور میں ہوں

شب وعدہ ہے تو ہے اور میں ہوں ہجوم آرزو ہے اور میں ہوں دل بیگانہ خو ہے اور میں ہوں بغل میں اک عدو ہے اور میں ہوں مٹاتا ہی رہا جس کو مقدر وہ میری آرزو ہے اور میں ہوں پریشاں خاطری کہتی ہے اپنی کسی کی جستجو ہے اور میں ہوں شب […]

صبح ہو شام جدائی کی یہ ممکن ہی نہیں

ہجر کی رات وہ ہے جس کے لیے دن ہی نہیں صبح کرنا شب غم کا کبھی ممکن ہی نہیں آ کے دن پھیر دے اپنے وہ کوئی دن ہی نہیں دل بے تاب محبت کو ہو کس طرح سکوں دونوں حرفوں میں جب اس کے کوئی ساکن ہی نہیں کیا مذمت ہے مجھے صبح […]

مردے کو بھی مزار میں لینے نہ دے گی چین

صد شکر بجھ گئی تری تلوار کی ہوس قاتل یہی تھی تیرے گنہ گار کی ہوس مردے کو بھی مزار میں لینے نہ دے گی چین تا حشر تیرے سایۂ دیوار کی ہوس سو بار آئے غش ارنی ہی کہوں گا میں موسیٰ نہیں کہ پھر ہو نہ دیدار کی ہوس رضواں کہاں یہ خلد […]

کیوں وصل میں بھی آنکھ ملائی نہیں جاتی

وہ فرق دلوں کا وہ جدائی نہیں جاتی کیا دھوم بھی نالوں سے مچائی نہیں جاتی سوتی ہوئی تقدیر جگائی نہیں جاتی کچھ شکوہ نہ کرتے نہ بگڑتا وہ شب وصل اب ہم سے کوئی بات بنائی نہیں جاتی دیکھو تو ذرا خاک میں ہم ملتے ہیں کیونکر یہ نیچی نگہ اب بھی اٹھائی نہیں […]