اُٹھا کے آنکھ کو میں نے جہاں جدھر دیکھا
تو جلوہ تیرا ہی رب العُلا اُدھر دیکھا گدا کو شاہ کرے شاہ کو گدا شائق یہ اُس کے قبضۂ قدرت میں سربسر دیکھا
معلیٰ
تو جلوہ تیرا ہی رب العُلا اُدھر دیکھا گدا کو شاہ کرے شاہ کو گدا شائق یہ اُس کے قبضۂ قدرت میں سربسر دیکھا
کبھی مدار سے باہر بھی بھیڑیا نکلے ترا بھلا ہو کہ تیری وضاحتوں کے سبب مری شکست کے پہلو ہزارہا نکلے تھی ایک عمر میں خواہش کہ کھل سکے کوئی پر اب کے خوف ہے لاحق کہ کون کیا نکلے کبھی زمین پہ جم کر کھڑے بھی ہو پائیں چبھا ہوا ہے جو کانٹا جنون […]
چھٹ گئیں محفلیں اور گھر رہ گئے ہم تری دُھن میں محوِ سفر رہ گئے ایک دہلیز چومی تھی جھک کے کبھی اور پھر عمر بھر دربدر رہ گئے رقص کرتے ہوئے ہم دھواں ہو گئے دم بخود ذوقِ اہلِ نظر رہ گئے رقص کیا تھا کہ وحشت کی پرواز تھی کہ پروں کے تلے […]
میرا ہونا کیا معنی تھا اور نہ ہونا کیا معنی میں نے ساری عمر لگا کر یہ لاینحل شعر کہے کون بھلا مطلب تک پہنچا کون بھلا سمجھا معنی تیری برف سماعت پر میرے حرفوں کی آگ بجھی تیرے فہم کی دیواروں سے پھوڑ کے سر ہارا معنی جیسا ادق جتنا مشکل تھا ، تھا […]
کوچہِ خواب سے میں کیوں نہ کنارہ کر لوں تم وہ بے حس کہ مزاقاً مری تذلیل کرو میں وہ لاچار کہ ہر بار گوارا کر لوں روح کہتی ہے کہ یہ منزلِ مقصود نہیں جسم کہتا ہے بہرحال گزارا کر لوں
پھر دفن ہو گیا ہوں دفینے کے ساتھ ہی شرمندگی میں شکل عیاں ہو گئی مری سب رنگ بہہ گئے ہیں پسینے کے ساتھ ہی ساحل پہ کون ہے کہ سنے گا بھلا مجھے ڈوبے گی یہ صدا بھی سفینے کے ساتھ ہی دگنا ہے میرا کرب غمِ آگہی کہ میں مر کر بھی دیکھتا […]
یہ خآمشی ہے مری جاں بیاں سے بالاتر تمہاری کھوج میں پرواز کر کے آ پہنچا میں لامکان سے آگے، مکاں سے بالاتر عجیب ضد ہے کہ اک بار جا کے دیکھ سکوں جہاں نظر نہیں جاتی وہاں سے بالاتر میں دھول چاٹ رہا ہوں تمہاری خواہش پر مری تو خاک بھی تھی آسماں سے […]
مصروفِ رقصِ مرگ مگر پھر سے ہو گئے ہئیت وہ ہو چکی تھی کہ جب لوٹنا ہوا رستے جھجھک کے دور مسافر سے ہو گئے شاعر ہے نصف مجھ میں تو ہے نصف بھیڑیا اور تم خفا ہوئے بھی تو شاعر سے ہو گئے
پھرتا ہے جنوں دوش پہ لادے ہوئے گھر کو دھڑکن ہے کہ حلقوم میں پھر گونج رہی ہے اب کون سی حسرت ہے دلِ سوختہ سر کو اس شہرِ فراموش میں کیا فرق رہا ہے کس طور جدا جانئے دیوار سے در کو دل کھول کے رونے کے تعیش کی ہوس میں اب اور نچوڑوں […]
غبارِ خاطرِ برہم کبھی کا بیٹھ چکا کہولتوں نے بالاخر نقوش کو ڈھانپا خموشیوں میں شکستہ ہوا خدائے سخن زمین شق نہ ہوئی اور نہ آسماں کانپا وہ ماورائے گمانِ شکست ٹوٹ چکا وہ انتہائے سخن کا امیں خموش ہوا جو موقلم سے سحر میں گلال بھرتا تھا دھنک تراشنے والا سیاہ پوش ہوا وہ […]