عریانی

پھر ایک بار بتایا گیا ، وضاحت سے کہ میں ہوں جذبہِ ناکام ، اور کچھ بھی نہیں مرا یہ زعمِ خدائی ، کہ خود فریبی ہے خیالِ خامِ دلِ خام ، اور کچھ بھی نہیں عبث گمان کا قیدی ہوں، اور کیا ہوں میں کبھی بھی یکتاء و نایاب شخص تھا ہی نہیں میں […]

شکوہِ ترکِ آرزو نہ گلہ

ان کوئی بات ہی نہیں باقی بات باقی بھی ہو کیا کہیے جب یہاں کوئی بھی نہیں باقی محفلِ شب میں خاک اڑتی ہے چاند میں روشنی نہیں باقی شعر لفظوں کا جھمگٹا ٹھہرے فکر میں دل کشی نہیں باقی جس قدر فاصلے ابھر آئے اس قدر زندگی نہیں باقی اب جنوں مصلحت پرست ہوا […]

وحشتِ بے پناہ سے بڑھ کر

آرزو کیا ہے آہ سے بڑھ کر چشمِ صحرا نورد میں تم تھے خوابِ آب و گیاہ سے بڑھ کر میں ترے وار کارگر کرنے آ رہا ہوں سپاہ سے بڑھ کر آن پہنچا فریبِ منزل تک واہمہ ہائے راہ سے بڑھ کر میں تری خامشی کو سنتا تھا دیکھتا تھا نگاہ سے بڑھ کر […]

میوزیم

حیاتِ گزشتہ کے انمٹ خزانے اسی آب اور تاب سے جگمگاتے ہوئے آج تک بھی پرانے زمانے کی ہر اک کہانی کہے جا رہے ہیں اور ان کے سرہانے جو کاغذ کے پرزے ہین ان پہ لکھا ہے کہ یہ چیز کیا ہے، یہ کتنی پرانی ہے اور کن زمینوں سے ان کو برامد کیا […]

کیا مرگ و نیستی ہے تو کیا بود و ہست ہیں

یہ فاصلے جنوں کے لیے ایک جست ہیں ہم پر کوئی بھی مان کوئی بھی یقین کیا ہم لوگ عشق پیشہ و وحشت پرست ہیں سر ہو چکیں تو علم ہوا ہم کو صاحبو یہ چوٹیاں بھی کرب کی قامت سے پست ہیں ہم کو ترے وجود سے کیا چاہیے کہ ہم اپنی فنا کے […]

میں کان ہاتھ سے ڈھانپے یونہی نہیں بیٹھا

کہ مجھ میں چیخ رہا ہے شکست خوردہ جنوں تمام عمر دکھایا نہ معجزہ کوئی تو آج خاک تماشہ دکھائے مردہ جنوں فنا ہوا ہے کہاں دست برد سے غم کی مقابلے پہ اترتا ہے دست بردہ جنوں سبھی لباس دلاسوں کے نوچ کر مجھ کر عجیب طنز سے ہنستا رہا فسردہ جنوں

جنوں کے ساتھ ابھی تک ہیں سلسلے گویا

تمہارے لمس کے سورج نہیں ڈھلے گویا حریمِ حرف کوئی تان بخش دے اب تو ترے ریاض میں اب کٹ چکے گلے گویا بس اپنا آپ لپیٹا تھا زادِ رہ کہہ کر بدن مٹا کے تری راہ پر چلے گویا تری تلاش کے رستوں میں جذب ہو ہو کر سرک سرک کے سمیٹے ہیں فاصلے […]

زنانِ مصر

حسیں ہاتھوں سے خنجر نے انوکھا کھیل کھیلا ہے رگوں سے خون جاری ہے مگر آنکھوں میں ایسی بے کلی کروٹ بدلتی ہے کہ جیسے انگلیاں کٹنا تو اک معمول ٹھہرا ہو مگر معمول سے ہٹ کر وہ حسنِ بے مثل کیا تھا؟ فقط اک مختصر لمحہ؟ بھلا پلکیں جھپکنے میں وہ جیتا جاگتا منظر […]

حریمِ ناز

حریمِ ناز، تری خوبروئی کے صدقے وہ درد ڈھونڈ لیا ہے جو لادوا ٹھہرے وہ شورِ شورشِ جذبات جب فسانہ ہوا تو چپ ملی مجھے ایسی کہ مدعا ٹھہرے حریمِ ناز ، تری صاف دامنی کے لئے مٹا لیے ہیں خد و خال آج اپنے ہی حریمِ ناز ، تری تازگی سلامت ہو گھٹا لیے […]

کیا تغزل تھا اس تکلم میں

بولتا تھا کوئی ترنم میں بہہ گیا جامِ ضبط سے آخر اور میں جذب ہو گیا تم میں آسماں گر پڑا ہے دھرتی پر اور میں پِس گیا تصادم میں عادتاً کھِنچ گئے تھے لب میرے کچھ معانی نہ تھے تبسم میں احمقو ، ناخدا بدلنے سے فرق کیا آگیا تلاطم میں