الف لیلی
میں وہ قصہ گو ہوں جو بازار کے چوک میں بیس پچیس لوگوں کی ساری توجہ کا مرکز بنا ہے وہ جو اپنی داڑھی کی چاندی کو اک ہاتھ کی انگلیوں سے کھجاتا ہے اور پھر کسی ایک سامع کے چہرے پہ نظریں جما کر یہ کہتا ہے ، ” تو ائے عزیزو وہ بنتِ […]
معلیٰ
میں وہ قصہ گو ہوں جو بازار کے چوک میں بیس پچیس لوگوں کی ساری توجہ کا مرکز بنا ہے وہ جو اپنی داڑھی کی چاندی کو اک ہاتھ کی انگلیوں سے کھجاتا ہے اور پھر کسی ایک سامع کے چہرے پہ نظریں جما کر یہ کہتا ہے ، ” تو ائے عزیزو وہ بنتِ […]
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے سونے والو جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے آنکھ سے کاجل صاف چرالیں یاں وہ چور بلا کے ہیں تیری گھٹری تاکی ہے اور تونے نیند نکالی ہے یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا ہائے مسافر دم میں نہ آنا […]
واقف کہاں رہی تھی جمالِ جنون سے ائے عہدِ ناسپاس ، تجھے کیا کہیں کہ ہم خود بھی دھواں دھواں تھے کمالِ جنون سے ائے وائے انحطاطِ تمنا ، یہ حال ہے ہوتے ہیں شرمسار ، سوالِ جنون سے ہم کہ سوارِ ناقہِ وحشت ہوئے ، سو ہم رستوں میں کھو گئے ہیں زوالِ جنون […]
وہ بجھ گیا کہ بھڑکتا تھا اور ہی صورت یہ پیار ، پیار نہیں تھا ، جدا کوئی شئے تھی میں تجھ پہ جان چھڑکتا تھا اور ہی صورت قدم تو خیر بگولوں کو پائلیں کرتے مگر جنون بھٹکتا تھا اور ہی صورت یہ زیر و بم جو ہوا ، نسبتاً سکوت ہوا دلِ تباہ […]
عریاں بھی ہو چکا ہے وہ خلوت نشیں کبھی ہم نے بھی حالِ دل پہ قناعت قبول کی اس نے بھی دل کو لَوٹ کے پوچھا نہیں کبھی گرنے لگا ہے روز ہی ہاتھوں سے کچھ نہ کچھ نایاب آسمان تو غائب زمیں کبھی ابھرے ہیں نقشِ پاء میں کبھی ہونٹ بن کے ہم متی […]
کاٹنی پڑ گئی حیات ہمیں میکدے عشق کے نہ چھٹتے تھے تیرے صدقے ملی نجات ہمیں ہم کہ ذروں سے ہارنے واے اور درپیش کائنات ہمیں کون سمجھا ہے آج تک آخر کون سمجھائے گا یہ بات ہمیں عمر داؤ پہ ایک عمر سے ہے موت ہی آ سکی نہ مات ہمیں اب تردد کی […]
لیکن ترے نقوش سلامت ہیں آج بھی مانا کہ کوئی نام مکمل نہیں رہا کچھ حرف لوحِ دل پہ عبارت ہیں آج بھی ناپید ہو چکے ہیں کنول سرخ رنگ کے لیکن تصورات کی زینت ہیں آج بھی ہے میری شاعری پہ وہ قربان آج بھی میرے سبھی گمان حقیقت ہیں آج بھی
ہو بہو تو کبھی تحریر کیا جا سکتا پہلے لازم تھا کوئی خواب دکھانا ہم کو تب کسی خواب کو تعبیر کیا جا سکتا ہم کہ رکھ لیتے رہائش ہی گئے لمحوں میں کاش لمحات کو تعمیر کیا جا سکتا رنگ ہی دستِ تخیل کو میسر ہوتے غم کی تجرید کو تصویر کیا جا سکتا […]
اب وہ آئے تو روایات سے ہٹ کر آئے دل کی یہ خام خیالی ہے کہ بہلے گا کبھی عشق موسم تو نہیں ہے کہ پلٹ کر آئے تُو فقط تُو تو نہیں تھا ، کہ تری صورت میں دل کی دہلیز پہ افلاک سمٹ کر آئے تھی ہمیں ضبط کی ڈھالیں تو میسر لیکن […]
ہم کہ اک لمحہِ ناپید میں جینے والے اک مسیحائے گریزاں کا تصور کر کے زخم تادیر سلگتے رہے سینے والے ہم کو آتے ہیں بلاوے کہیں گہرائی سے کب تلک تھام کے رکھیں گے سفینے والے عمرِ بے ربط ، کہ ترتیب سے عاری ٹھہری ہم سے ہوتے ہی نہیں کام قرینے والے ایک […]