ثبت ماتھے پہ نہیں کیا کوئی بوسہ میرے

اور کیا خاک بتاؤں گا جنوں کا باعث ثانیہ ایک ہی گزرا تھا بظاہر ، لیکن بن گیا عمر کی بے خواب شبوں کا باعث ثمرہِ سوزِ محبت ہے مری بے چینی اور کم بخت یہی مجھ کو سکوں کا باعث ثانوی ہے مری تکلیف ، کہ میرا کیا ہے تو بتا پہلے مجھے اپنے […]

دشتِ ویران میں آوازِ جرس باقی ہے

دل کو پھر آگ لگاؤ کہ یہ خس باقی ہے کون سا وصل کرے آ کے مداوا، کہ یہاں جس کو پایا تھا ابھی اس کی ہوس باقی ہے اس قدر کھل کے عنایات کہ کیا ہی کہنے مرگ سیراب ہوئی ہجر میں رس باقی ہے تم عبث دل میں پریشان ہوئے جاتے ہو کوئی […]

راکھ دعووں کی کہیں ، اور کہیں وعدوں کی

آندھیاں خاک اڑاتی ہیں تری یادوں کی ائے شبستانِ محبت کی مہکتی کلیو، کچھ خبر بھی ہے تمہیں خانماں بربادوں کی نوچ ڈالی گئی اوراق سے تحریرِ وفا چپ کرا دی گئی آواز سخن زادوں کی دشت کر ڈالے گئے دل کے محلات سبھی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی بنیادوں کی عہدِ بدذوق کو […]

آتے رہے انبیا کَمَا قِیلَ لَھُم

وَالخَاتَمُ حَقُّکُم کہ خاتم ہوئے تم یعنی جو ہُوا دفترِ تَنزِیل تمام آخر میں ہُوئی مُہر کہ اَکمَلتُ لَکُم اللہ کی سرتا بقدم شان ہیں یہ اِن سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ​ کعبہ سے اگر تربتِ شاہ فاضل ہے […]

اگرچہ کاسہِ حسرت میں خاکِ پا بھی نہیں

مگر فقیر کے لب پر کوئی صدا بھی نہیں تُو ، کم نصیب قیامت ، کہ ٹوٹنے سے رہی میں ایک محشرِ کم بخت جو بپا بھی نہیں کمال یہ ہے کہ وحشت کی انتہا پر ہوں مذاق یہ ہے کہ وحشت کی انتہا بھی نہیں عجب سیال اداسی میں آ گرا ہوں جہاں میں […]

ہو چکے معتبر کمال مرے

تیر پہلو سے اب نکال مرے دل تہہِ آب جا کے بیٹھ رہا گھل گئے جھیل میں خیال مرے یہ وہی لمحہِ جنون نہیں؟ کھا گیا تھا جو ماہ و سال مرے کوزہ گر، نم خمیر میں ہے ابھی نقش پھر ایک بار ڈھال مرے دے گیا ذہن ہی جواب مرا مطمئن ہوگئے سوال مرے […]

ہے ہمیں ہجر کی بھٹی میں پگھلنا سب کچھ

کیمیا ہوں کہ مسِ خام ، غرض یہ بھی نہیں ہے کوئی باقائدہ آغاز نہیں تھا کل بھی کوئی باضابطہ انجام ، غرض یہ بھی نہیں ہے کیوں چھپاتا ہے عبث اپنے بدن کے غنچے تجھ سے ائے پیکرِ گلفام ، غرض یہ بھی نہیں ہے ہم سے رکتی ہی نہیں سینہِ بِسمل میں صدا […]

بہت تلاش کرے گا ترا سنگھار مجھے

جمالِ یار ترا آئینہ شکست ہوا مقابلے پہ میں اپنے اتر نہیں پایا کہ حوصلہ مری دہشت سے میرا پست ہوا کہاں گئے ترے عشاقِ جاں نثار ، بتا مجھے تو چھوڑ کہ میں تو ہوس پرست ہوا پھر ایک اور مسافت کو بادبان کھلے پھر ایک اور قیامت کا بند و بست ہوا ہزار […]

کو بکو ڈھونڈا گیا اور جا بجا ڈھونڈا گیا

وہ جو نا موجود تھا اس کا پتا ڈھونڈا گیا کوئی اترا ہی نہیں سیلِ بلا کی گود میں سرسری سا یوں تو مجھ کو بارہا ڈھونڈا گیا اک تجسس تھا کہ جس سے سانس لی جاتی رہی عمر بھر تارِ تنفس کا سرا ڈھونڈا گیا زندگی تھی مختصر سو بد حواسی میں کٹی جانے […]

عصرِ حاضر ، مری توہین تو مت کر پھر بھی

میں کسی عہدِ گزشتہ کا خداوند سہی حسن دیکھے تو سہی زخم کے رِستے گوشے عشق خاموش سہی، ظرف کا پابند سہی سوچ لے پھر کہ میں اک بار ہی مر پاؤں گا کھیل دلچسپ سہی میں بھی رضامند سہی بیڑیاں ہیں تو چلو شوق کو پازیب ملی رہ گیا طوق تو وحشت کو گلو […]