انقلاب 1947ء

زخمِ دل ہونے لگا پھر خوں چکاں پھر چمک اٹھا مرا دردِ نہاں آ سنائیں ہم تجھے اے مہرباں بن گئی ناسورِ دل جو داستاں انقلابِ کشورِ ہندوستاں دل گداز و روح فرسا خوں چکاں بن گیا جب کشورِ عالی نشاں کافر و مشرک ہوئے آتش بجاں ہاتھ میں لے کر اٹھے تیغ و سناں […]

ہم لوگ

تاریک پہلو سر بریدہ نہال ہیں ہم لوگ کس قدر بد مآل ہیں ہم لوگ پیکرِ صد ملال ہیں ہم لوگ خستہ دل خستہ حال ہیں ہم لوگ فکرِ عقبیٰ سے ہم کو بے فکری صیدِ مال و منال ہیں ہم لوگ سیئاتِ عمل خدا کی پناہ اب تو ضرب المثال ہیں ہم لوگ بے […]

ٹینکوں کی جنگ بر محاذِ سیالکوٹ 1965ء

آتی ہے جب بھی اے ندیم موجِ صبائے سیالکوٹ آتی ہے مجھ کو بالیقیں بوئے وفائے سیالکوٹ یاد ہے وہ شب سیاہ اور وہ عالمِ سکوت آئے تھے جب مثالِ دزد مادرِ ہند کے سپوت دشمنِ دیں وہ کینہ توز آئے وہاں تھے بہرِ جنگ دل میں لئے ہوئے لعیں فتحِ مبیں کی اک امنگ […]

جنگِ ستمبر 1965ء

وہ موسمِ گرما وہ شبِ ماہِ ستمبر دشمن کے خطرناک عزائم کا وہ منظر جب سرحدِ لاہور میں در آئے تھے چھپ کر مکار و جفا کار و سیہ کار و ستمگر سب بسترِ راحت سے ہم آغوش پڑے تھے دن بھر کے تھکے خواب میں مدہوش پڑے تھے مہتاب جبیں گھر میں ردا پوش […]

دید شنید

کتاب میں ہے ذکر کچھ تو دیکھنے میں اور ہے عجیب تجھ پہ وقت ہے عجیب تجھ پہ دور ہے نماز تجھ پہ بار ہے زکوٰة تجھ پہ شاق ہے تو نیکیوں میں سست ہے برائیوں میں چاق ہے دماغ میں غرور ہے خیال میں فتور ہے نگاہ نشہ خیز ہے شراب کا سرور ہے […]

تنظیمِ گلستاں

تنظیمِ گلستاں کی خاطر کیوں اہلِ گلستاں لڑتے ہیں ہے بات خلافِ ایماں یہ کیوں صاحبِ ایماں لڑتے ہیں ہم کیوں نہ کبیدہ خاطر ہوں جب حاملِ قرآں لڑتے ہیں فرمائے خدا ہی رحم ان پر آپس میں مسلماں لڑتے ہیں جب ایک ہی اپنا قبلہ ہے جب ایک ہی چاہِ زمزم ہے جب ایک […]

سہرا

بیٹے کی شادی پر چھوڑ کر اپنا پری خانۂ گلشن سہرا کس کی شادی میں چلا خوب یہ بن ٹھن سہرا جوں ہی پہنچا ہے سرِ بزم یہ روشن سہرا ہر طرف شور ہوا اھلاً و َّسہلاً سہرا کیف پرور ہے خوشا بر رخِ روشن سہرا للہ الحمد کہ دیکھا سرِ ‘احسن’ سہرا قابلِ دید […]

مسلم سربراہ کانفرنس

خلاقِ دو جہاں کے ثنا خواں ہوئے بہم پروانہ ہائے شمعِ ایماں ہوئے بہم اے مرحبا کہ پیروِ قرآں ہوئے بہم یا رب ترا کرم کہ مسلماں ہوئے بہم شام و عرب جزائر و مصر و یمن ہیں ایک لرزاں ہے سومنات کہ پھر بت شکن ہیں ایک رونق بڑی ہے رونقِ صد انجمن ہیں […]

روٹی کپڑا اور مکان

بھٹو کا یہ تھا اعلان اے میرے مزدور کسان ووٹ مجھے دو دوں گا میں روٹی کپڑا اور مکان بن کر صدرِ پاکستان بھولے ہیں قومی پیمان مانگے ان سے روز عوام روٹی کپڑا اور مکان سبزی دالیں گندم دھان آٹے چینی کا فقدان مہنگا ان کے آتے ہی روٹی کپڑا اور مکان سوئی دھاگہ […]

بلاخیز سیلاب 1973ء

زد میں امواجِ بلاخیز کے پنجاب آیا صوبۂ سندھ بھی در حلقۂ گرداب آیا گاؤں ڈوبے تو کہیں شہر تہِ آب آیا قہر اللہ کا ٹوٹا ہے کہ سیلاب آیا رات کے وقت یکایک یہ مصیبت آئی کبھی دیکھی نہ جو درپیش وہ صورت آئی تھا گماں بھی نہ کبھی جس کا وہ شامت آئی […]