غبارِ غم بسلسلۂ مرگِ زوجۂ اول (1958ء)

کٹ چکی ہے رات ہے پچھلا پہر نیند کوسوں دور آنکھوں سے مگر روئے عالم پر ہے اک افسردگی جس طرف دیکھو ادھر پژمردگی محفلِ انجم بھی ہے ماتم گسار آنکھ ہر تارے کی کیوں ہے اشک بار چاند کے چہرہ کا بھی ہے رنگ زرد ہے لبِ موجِ ہوا پر آہِ سرد گریۂ شبنم […]

شامِ انتخاب 1970ء

انتخابِ عام کا ظاہر نتیجہ ہو گیا کلمہ گوؤں کے دلوں کا راز افشا ہو گیا حسنِ ظن ان کی طرف سے تھا جو رسوا ہو گیا محوِ حیرت ہوں کہ کیا ہونا تھا اور کیا ہو گیا ہم کہ پر امید تھے آئے گی صبحِ زر نگار خیمہ زن ہو گی چمن میں ہر […]

مکالمہ مابین مسلمان اور سوشلسٹ

مسلمان اپنا یہ چمن دیں کی نواؤں کے لئے ہے اسلام کی جاں بخش فضاؤں کے لئے ہے ہم فلسفۂ دینِ محمد کے فدائی دستورِ شریعت کے ہیں اس ملک میں داعی ہم امن و مساوات و محبت کے پیامی آپس میں رواداری و نصرت کے ہیں حامی دنیا ہمیں درکار ہے بس دین کی […]

ضبطِ تولید

ہے ملک میں جو تیزی رفتارِ ولادت آزردہ و آشفتہ ہیں اربابِ حکومت کہتے ہیں کہ محدود ہے سامانِ معیشت اب ملک میں انساں کی نہیں اور ضرورت آئے نہ کہیں فاقوں سے مر جانے کی نوبت ہے قوم پہ لازم عملِ ضبطِ ولادت میداں میں نکل آئے ہیں کچھ عالمِ دیں بھی ثابت اسے […]

اس کی تجلیات کا مظہر بنا ہوں میں

گو عینِ حق نہیں ہوں مگر حق نما ہوں میں پھرتا ہوں در بدر کہ اسے ڈھونڈتا ہوں میں دکھلا دے کوئی راہ کہ بھٹکا ہوا ہوں میں جس سمت جاؤں اس کے ہی جلوے ہیں جابجا دیکھوں جدھر بھی صرف اسے دیکھتا ہوں میں گونجی تھی جس کی عالمِ لاہُوت میں صدا وہ بازگشتِ […]

ساتھ کب تک کوئی چلا مت پوچھ

کس نے کی کس قدر وفا مت پوچھ مختصر یہ کہ ہو گئے آزاد کون کس سے ہوا رِہا مت پوچھ تھی قیامت مگر گزر ہی گئی تذکرہ اس کا بارہا مت پوچھ پوچھ مجھ سے جو میرے دل میں ہے لوگ کہتے ہیں کس سے کیا، مت پوچھ تب مجھے بھی نہیں تھی اپنی […]

ہاتھ جوڑے ہیں التجا کے لیے

مان بھی جاؤ اب خدا کے لیے اشک کرتے ہیں حال دل کا بیان لفظ ملتے نہیں دعا کے لیے حرفِ تسکیں کی بھیک ہے درکار ایک مہجور و بے نوا کے لیے مہر و الفت سے بڑھ کے کیا ہو گا آج انسان کی بقا کے لیے لاکھ مجھ پر زمانہ ڈھائے ستم ہنس […]

کسی کی ذات سے کچھ واسطہ نہ ہوتے ہوئے

"​میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے”​ کسی کے ساتھ گزارے تھے جو خوشی کے پل بہت رلاتے ہیں اب رابطہ نہ ہوتے ہوئے ہزار مصلحتوں کا حجاب حائل تھا ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہ ہوتے ہوئے عجیب شے ہے محبت کہ دل کے زخموں نے ترے ستم کو بھی مرہم کہا، نہ […]

ملیں گے رہنما ایسا نہیں ہے

کہ الفت راستہ ایسا نہیں ہے جو خود جل کر کرے دنیا کو روشن یہاں کوئی دیا ایسا نہیں ہے کبھی ان پھول سے ہونٹوں پہ ٹھہرے ہمارا تذکرہ ایسا نہیں ہے چلو مانا اسے تھی فکر میری مگر وہ پیار تھا ایسا نہیں ہے کہا میں نے مجھے تم چھوڑ دو گے مگر اس […]