دل واقفِ اندازِ روایاتِ کہن ہے

اس بار مگر درد کا کچھ اور چلن ہے مانا کہ تجھے عشق سے مطلب ہی نہیں ہے کیا ہو کہ یہی خانماں برباد کا فن ہے تو حسنِ مکمل ہے تو میں شاعرِ یکتاء تو وجہِ سخن بن کہ فقط محوِ سخن ہے تھا لمس ترا نرم بہت ، جھیل گیا ہوں ویسے تو […]

متاعِ جان ، تجھی سے بگاڑ بیٹھے ہیں

جنوں میں شہرِ محبت اُجاڑ بیٹھے ہیں بتا فنونِ حرب کی نئی کوئی تکنیک مرے حریف مری لے کے آڑ بیٹھے ہیں یقین ہے کہ سلامت ہے درد کی چادر گمان ہے کہ گریبان پھاڑ بیٹھے ہیں عذابِ ترکِ تمنا میں صرف دامن کیا ترے فقیر ترا عشق جھاڑ بیٹھے ہیں کہیں گے تازہ غزل […]

جہاں پہ سر تھا کبھی اب ہے سنگِ در کا نشاں

اب اس سے بڑھ کے ترے سجدہ ریز کیا کرتے عذاب یہ ہے کہ رستے میں خود ہی پڑتے تھے اب اپنے آپ سے آخر گریز کیا کرتے سلگ رہے ہیں سرِ راہِ شوق ، نقشِ قدم ہم اپنی چال بھلا اور تیز کیا کرتے کِھلے نہیں تھے کہ نظروں میں آ گئے غم کے […]

یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی

چراغ ہو تو گیا ہے وہ انجمن کا سہی تمام عمر کہ یوں بھی سفر میں گزری ہے سو اب کی بار زمیں تک سفر تھکن کا سہی جواب یہ کہ فناء لُوٹ لے گی بالآخر سوال گرچہ ترے شوخ بانکپن کا سہی اسیرِ دشتِ حوادث تو پھر بھی مت کیجے غزالِ دل کو بڑا […]

رقص کیا رات بھر حدوں میں تھا

میں نہیں تھا اگر حدوں میں تھا عشق جب سلطنت پہ حاکم تھا کس قدر چین سرحدوں میں تھا رات بھر شورِ ہاؤ ہُو کر کے دل ، بوقتِ سحر حدوں میں تھا رنگ بے حد حسین تھے ہر سُو عجزِ دستِ ہنر حدوں میں تھا کُھل گئے پھر تو وحشتوں کے پر صرف پہلا […]

حزنیہ ہے کہ طربیہ، جو ہے

حزنیہ ہے کہ طربیہ ، جو ہے مسکراہٹ نہیں گئی اب تک چھو کے ماتھے کو حال پوچھا تھا سنسناہٹ نہیں گئی اب تک دل کے آنگن میں خاک اڑتی ہے تیری آہٹ نہیں گئی اب تک سانپ رینگا تھا ہجر کا دل میں سرسراہٹ نہیں گئی اب تک کپکپاتے لبوں کے بوسے کی تھرتھراہٹ […]

نظر میں تاب کہاں تیرے نُور کی خاطر

ترا جمال قیامت ہے طُور کی خاطر بہت ہی دیر رہا منتظر جہانِ سخن جہانِ غم میں ہمارے ظہور کی خاطر اگرچہ عشق ہمیں خود کشی ہوا لیکن دکھا رہے ہیں تماشہ حضور کی خاطر گہن زدہ ہے غمِ روزگار سے وحشت کہاں بنے تھے ہم ایسے امور کی خاطر سفرکیا ہے بڑی دیر ، […]

ہم ڈھانپ تو لیں نین ترے نین سے پہلے

مرتے ہیں ذرا سانس تو لیں چین سے پہلے دھندلا سا تصور ہے ترے شوخ بدن کا کچھ بیضوی اشکال ہیں قوسین سے پہلے یہ بات بجا ہے کہ حوالہ ہے ہمارا یہ دیکھ بیاں کس کا ہے واوین سے پہلے پھر دل کو بھلے جو بھی سزا چاہے سنا دے تو سن تو سہی […]

تم نے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا؟

غارت گرِ شعُور ، کہ میں سوچتا بھی ہوں سیراب صرف جسم کے ہونے پہ خوش رہوں؟ میں کیا کروں حضُور ، کہ میں سوچتا بھی ہوں تیرا گِلہ ، کہ سر کو جھکاتا ہوں دیر سے مجھ کو یہی غرور ، کہ میں سوچتا بھی ہوں منظر تراشتا ہوں مناظر سے ماوراء مجھ سے […]

صداء کوئی نہیں اب کے ، فقط دہلیز پر سر ہے

ندامت بھی ہے ، اپنے رائیگاں جانے کا بھی ڈر ہے مجھے تو منطقی لگتی ہے اپنی بد حواسی بھی مجھے لگتا ہے میں ہوں آئینے میں ، عکس باہر ہے ہزاروں ہی بھنور لپٹے ہوئے ہیں جسم سے لیکن نگاہوں میں ابھی تک الوداع کہنے کا منظر ہے ترستی ہیں مری پوریں در و […]