کارِ عبث رہی ہیں جنوں کی وکالتیں

کب سن رہی تھیں محض حقیقت عدالتیں پاؤں کہ چادروں سے ہمیشہ نکل گئے پوشاک کی بدن سے رہیں کم طوالتیں تم ہو رہے ہم سے مخاطب تو کم ہے کیا اب کیا بیان کیجے شکستوں کی حالتیں اب ہیں نصیبِ زعمِ محبت ، ہزیمتیں اب خواہشوں کا آکر و حاصل خجالتیں پلتے رہے ہیں […]

اک حدِ اعتدال پہ لرزاں ہے دیر سے

وہ زندگی کہ مثلِ شرر ناچتی پھری رہرو تو رقص کرتے ہوئے جان سے گئے اک عمر گردِ راہ گذر ناچتی پھری بے خواب تھی جو آنکھ، مگر لگ نہیں سکی لوری کی دھن پہ گرچہ سحر ناچتی پھری سیماب ہو کے گھل گئے پاؤں تو دھوپ میں پائل تھی بے قرار ، مگر ناچتی […]

حرف نادم ہوئے بیاں ہوکر

راز حیران ہیں عیاں ہو کر دھند آنکھوں میں آن اتری ہے دید اڑنے لگی دھواں ہو کر میں تری ذات سے نہیں نکل پایا تو نہیں چھپ سکا نہاں ہو کر میں نہیں اب کسی گمان میں بھی میں کہ اب رہ گیا گماں ہو کر میرا ہم عمر اک بڑھاپا بھی میرے ہمراہ […]

اُڑتے ہوئے غبار میں اجسام دیکھتے

ہم تھک چکے مناظرِ ابہام دیکھتے اتنی قلیل عمر میں ممکن کہاں کہ لوگ اتنے شدید درد کا انجام دیکھتے صبحِ فراقِ یار تلک سنگ رہ گیا اس دل کی رونقوں کو سرِ شام دیکھتے جھپکی ہے آنکھ آج کہ اک عمر ہو گئی لوحِ ہوا پہ نقش کوئی نام دیکھتے ائے کاش ہم بھی […]

یہ مشورہ ہے کہ فی الحال ہمکلام نہ ہو

کہ چاٹتی ہے مرے فکر و فن کو آگ ابھی مرے حروف اڑاتے ہیں اب مذاق مرا یہ جی میں ہے کہ لگا دوں سخن کو آگ ابھی تو اپنے موم کے کرتب زرا موخر کر لگی ہوئی ہے مرے تن بدن کوآگ ابھی ٹپک رہے ہیں اناء پر شکست کے قطرے گھلا رہی ہے […]

المیہ

سر بہ زانو ہے ، شکستہ ہے خداوندِ سخن سر جھکائے ہوئے خاموش کھڑے ہیں اشعار قافیے گنگ ، سراسیمہ پریشاں بحریں اور سمٹی ہوئی بیٹھی ہیں جھجھکتی افکار صرف سانسوں کی صدا گونج کے رہ جاتی ہے موت کا سوگ کہ طاری ہے سرِ قصرِ سخن گاہے گاہے کبھی اٹھ جاتی ہیں خالی آنکھیں […]

تو اپنے پیار کی خیرات کو سنبھال کے رکھ

ترے فقیر نے اب زندگی بِتا لی بھی کسی کی چشمِ ہوس پوش میں لچکتی ہے تمہارے پھول سے نازک بدن کی ڈالی بھی میں تیرے عشق کے مرقد پہ شعر کہتا رہا کسی نے دور مری لاش نوچ ڈالی بھی میں خود پہ چیخ رہا ہوں سخن کے پردے میں غزل کے روپ میں […]

آہستگی سے شیشہِ دل پر خرام کر

میرا نہیں تو عشق کا ہی احترام کر ہے ماوراء بیاں سے مرا آٹھواں سفر ائے داستان گو ، مرا قصہ تمام کر میں تو اٹک کے رہ گیا نصف النہار پر گردش زمین کی ہی بڑھا اور شام کر رشکِ مطالعہ ، مجھے بین السطور پڑھ ائے نازِ گفتگو ، مری چپ سے کلام […]

چکھنی پڑی ہے خاک ہی آخر جبین کو

آئے نہ راس خواب ترے کور بین کو اک عکس اشک ہو کے کہیں جذب ہو گیا وحشت ٹٹولتی ہی رہی ہے زمین کو کیسے نگل گئی ہے پٹاری ، خبر نہیں مبہوت ہو کے دیکھ رہا تھا میں بین کو اُس وقت کیوں نہ روک لیا تھا مجھے کہ جب میں نے جنوں کی […]

وصل ہو ہجر ہو کہ تُو خود ہو

کچھ نہیں دل کو راس آ پایا غم رُبا بھی کوئی نہیں آیا اور نہ ہی غم شناس آ پایا تلخ کامی میں کام کون آتا وہ سراسر مٹھاس آ پایا سخت مشکل سے آ سکا لیکن دل سرِ بزمِ یاس آ پایا میں اگر تیرے پاس آیا بھی میں کہاں تیرے پاس آ پایا […]