تُم بہت گہری اُداسی کی وہ کیفیت ہو

جو مری رُوح پہ اک عمر سے طاری ٹھہری تُم نے جب لوحِ تنفس پہ لبوں سے لکھا حرمتِ لوح و قلم جان سے پیاری ٹھہری کون ہیں ہم کہ تری شئے پہ سوالات کریں زندگی تھی ، کہ بہر حال تمہاری ٹھہری تیری اُلجھی ہوئی سانسوں کے بطن سے پھوٹی وہ خموشی ، کہ […]

اک عہدِ گزشتہ کے کنارے پہ ٹِکا ہوں

گویا کہ میں سُولی کے سہارے پہ ٹِکا ہوں اک وحشتِ پُر خار کی وادی پہ معلق میں ہوں کہ توقع کے غبارے پہ ٹِکا ہوں سو سنگِ گراں ڈوب چکے وزن سے اپنے تنکا ہوں تبھی وقت کے دھارے پہ ٹِکا ہوں دیکھا ہے نمُو نے بھی کئی روپ بدل کر اک میں ہی […]

کہیں بھڑکا ہوا شعلہ کہیں پر پھول فن میرا

سخن میرا جہنم ہے ، سخن باغِ عدن میرا تصور میں ہوئی روشن تری آواز کی شمع پگھلنے لگ گیا ہے موم کی صورت سخن میرا تمہاری آرزُو ، عریاں مری آغوش میں اتری نیاز و عجز سے پسپاء ہوا ہے پیرہن میرا زمانوں کے مسافر کی سبک دوشی ضروری تھی مری پرواز کے رستے […]

اچھا ہوا بسیط خلاؤں میں کھو گئے

یوں بھی سماعتوں پہ مرے لفظ بار تھے کس کس کو رو چکا ہوں ، کسی کو کہاں خبر اس ایک شخص سے مرے رشتے ہزار تھے حسرت سے دیکھتے ہوئے گزرے حیات کو جو کم نصیب ، وقت کے رتھ پر سوار تھے تم نے تو پھونک مار دی لیکن خطوطِ دل نقشِ پسِ […]

آپ آتے تو نیا کھیل دکھایا جاتا

دل کے شیشے کو بلندی سے گرایا جاتا ہم تو راضی بہ رضا لوگ تھے فانی جو ہوئے وقت کب تھا کہ کسی ضد پہ لٹایا جاتا ہم کہ بے خوف بیابانِ جہاں سے گزرے تو میسر کبھی ہوتا تو گنوایا جاتا دل کی تزئین کو باقی ہے فقط رنگ ترا اور یہ رنگ کہیں […]

ایک الزام کے جواب میں کہی گئی نظم

!سنو، میری جاں تُم سدا ایک رَم خوردہ ، وحشت زدہ اور سراسیمہ ہرنی کی مانند ڈرتی ہو مجھ سے بدکتی ہو مجھ سے سنو، میری جاں! اور دیکھو مرے ہاتھ میں کوئی دو دھاری خنجر نہیں، میرا دل ہے مرے پاس ترکش نہیں ہے، غزل ہے خدا کی قسم، میرے رختِ سفر میں کتابوں، […]

‏چھوٹے بچوں کی طرح پَل میں بِگڑ بیٹھتے ہیں

لڑاکا لوگوں کے نام ‏چھوٹے بچوں کی طرح پَل میں بِگڑ بیٹھتے ہیں عِشق اِتنا ھے کہ ھم روز جَھگڑ بیٹھتے ہیں دو گھڑی صُلح صفائی، کئی پَل دنگا فساد کیسے معصوم ھیں ھنستے ھُوئے لَڑ بیٹھتے ہیں لاکھ ھم رُوٹھیں مگــر آپ منا لیں گے ھمیں بس اِسی مان پہ ھم آپ سے اَڑ […]

تجھے بھی اشتیاقِ دیدۂ نم ہے تو آ جا

بپا ہے محفلِ گریہ، اگر دم ہے تو آ جا رضاکارانہ سہتا ہوں میں غُصہ دِل جلوں کا ترا دل بھی کسی پیارے پہ برہم ہے تو آ جا گروہِ عاشقاں کی رُکنیت مشکل نہیں ہے ترا سب کُچھ فدائے حُسنِ جانم ہے تو آ جا عطا ہوتا ہے رزقِ غم، پھر آتی ہے یہ […]

اگر تُو کہے تو

اگر تُو کہے تو میں شاخِ شبِ قدر سے توڑ لاؤں چمکتے دمکتے ستاروں کے گُچھے ؟ اُنہیں اِک سنہری سبک طشتری میں رکھوں اور تجھے پیش کر دوں کہ لے ، میرے عشقِ زبوں پر یقیں کر اگر تُو کہے تو چہکتے بہشتی پرندوں پہ چُپکے سے اِک جال پھینکوں اُنہیں پھڑپھڑاتے ہوئے ہی […]