اردوئے معلیٰ

Search

آج دنیا کے مشہور ترین شاعر ، بلبلِ ہندوستان ، فصیح الملک ناظم یار جنگ بہادر نواب میرزا خان داغ دہلوی کا یوم پیدائش ہے

 

داغ دہلوی(پیدائش: 25 مئی 1831ء – وفات: 17 مارچ 1905ء)
——
نواب مرزا خاں اور تخلص داغ تھا۔ 25 مئی 1831ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ابھی چھ سال ہی کے تھے کہ ان کے والد نواب شمس الدین خاں کاانتقال ہو گیا۔ آپ کی والدہ نے بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کر لی۔ اس طرح داغ قلعہ معلی میں باریاب ہوئے ان کی پرورش وہیں ہوئی۔ بہادر شاہ ظفر اور مرزا فخرو دونوں ذوق کے شاگرد تھے۔ لہٰذا داغ کو بھی ذوق سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ داغ کی زبان بنانے اور سنوارنے میں ذوق کا یقینا بہت بڑا حصہ ہے۔ غدر کے بعد رام پور پہنچے جہاں نواب کلب علی خان نے داغ کی قدردانی فرمائی اور باقاعدہ ملازمت دے کر اپنی مصاحبت میں رکھا۔ داغ چوبیس سال تک رام پور میں قیام پزیر رہے۔ اس عرصے میں انہوں نے بڑے آرام و سکون اور عیش و عشرت میں وقت گزارا یہیں انہیں”حجاب“ سے محبت ہوئی اور اس کے عشق میں کلکتہ بھی گئے۔ مثنوی فریاد ِ عشق اس واقعہ عشق کی تفصیل ہے۔ نواب کلب علی خان کی وفات کے بعد حیدر آباد دکن کارخ کیا۔ نظام دکن کی استادی کا شرف حاصل ہوا۔ دبیر الدولہ۔ فصیح الملک، نواب ناظم جنگ بہادر کے خطاب ملے۔ 1905ء میں فالج کی وجہ سے حیدرآباد میں وفات پائی۔ داغ کو جتنے شاگرد میسر آئے اتنے کسی بھی شاعر کو نہ مل سکے۔ اس کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔
——
نواب مرزا داغ دہلوی کی شاعری
——
داغ معجز بیان ہے کیا کہنا
طرز سب سے جدا نکالی ہے
——
داغ سا بھی کوئی شاعر ہے ذرا سچ کہنا
جس کے ہر شعر میں ترکیب نئی بات نئی
——
نہیں ملتا کسی مضمون سے ہمارا مضمون
طرز اپنی ہی جدا سب سے جدا رکھتے ہیں
——
بقو ل غالب
” داغ کی اردو اتنی عمدہ ہے کہ کسی کی کیا ہوگی!ذوق نے اردو کواپنی گود میں پالا تھا۔ داغ اس کو نہ صرف پال رہا ہے بلکہ اس کو تعلیم بھی دے رہا ہے۔“
بقول نفیس سندیلوی، ” داغ فطری شاعر تھے وہ غزل کے لیے پیدا ہوئے اور غزل اُن کے لیے ان کی زبان غزل کی جان ہے۔“
اردو شاعری میں زبان اور اس کی مزاج شناسی کی روایت کا آغاز سودا سے ہوتا ہے۔ یہ روایت ذوق کے توسط سے داغ تک پہنچی داغ نے اس روایت کو اتنا آگے بڑھایا کہ انہیں اپنے استاد ذوق اور پیش رو سودا دونوں پر فوقیت حاصل ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب داغ نے ہوش سنبھالا تو لال قلعے میں بہادر شاہ ظفر، استاد ذوق اور ان کے شاگرد زبان کو خراد پر چڑھا کر اس کے حسن کو نکھار رہے تھے۔ اور بہادر شاہ ظفر کے ہاتھوں اردو کو پہلی بار وہ اردو پن نصیب ہو رہا تھا۔ جسے بعد میں داغ کے ہاتھوں انتہائی عروج حاصل ہوا۔
——
یہ بھی پڑھیں : داغ دہلوی کی تمام نگارشات
——
داغ کے زمانے میں زبان کی دو سطحیں تھیں ایک علمی اور دوسری عوامی غالب علمی زبان کے نمائندے تھے۔ اور ان کی شاعری خواص تک محدود تھی۔ اس کے برعکس داغ کی شاعری عوامی تھی وہ عوام سے گفتگو کرتے تھے۔ لیکن ان کے اشعار خواص بھی پسند کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے اشعار معاملات عشق کے تھے اور اُن موضوعات میں عوام و خواص دونوں کی دلچسپی زیاد ہ ہوتی ہے۔ بقول عطا ” محبت کی گھاتیں اور حسن و عشق کی ادائیں داغ کے کلام کا طرہ امتیاز ہیں وہ عملی عاشق تھا اس کے اشعار اس کی عشقیہ وارداتوں کی ڈائری کے رنگین اور مصور اوراق ہیں۔“
——
داغ زبان کے بادشاہ:۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ داغ اردو زبان کے بادشاہ ہیں۔ ان کی کلام میں زبان کا چٹخارا، سلاست، صفائی، سحرآفرینی، رنگینی، شوخی چلبلاہٹ بلا کی پائی جاتی ہے۔ اردو زبان کو داغ کے ہاتھوں انتہائی عروج حاصل ہوا۔
——
تھے کہاں رات کو آئینہ تو لے کر دیکھو
اور ہوتی ہے خطاوار کی صورت کیسی
——
نہ ہمت، نہ قسمت، نہ دل ہے، نہ آنکھیں
نہ ڈھونڈا، نہ پایا، نہ سمجھا، نہ دیکھا
——
سادگی، بانکپن، اغماض، شرارت، شوخی
تو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
——
حسن بیان:۔
داغ کی سب سے بڑی خوبی ان کی زبان کا حسن ہے۔ انہوں نے شاعری کو پیچیدہ ترکیبوں، فارسی اور عربی کے غیر مانوس الفاظ سے بچانے کی کوشش کی اور سیدھی سادھی زبان میں واقعات اور محسوسات کو بیان کیا۔ اس وجہ سے ان کا کلام تصنع اور تکلف سے خالی ہے۔
——
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے
——
کہتے ہیں اسے زبان اردو
جس میں نہ ہو رنگ فارسی کا
——
نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زبان آتے آتے
——
زبان اور شاعری پر ناز:۔
داغ زبان و بیان اور فصاحت کے علمبردار شاعر ہیں اس لیے وہ اپنی زبان اور شاعری پر ناز کرتے ہیں۔ اُن کی اس شاعرانہ تعلیٰ کی مثالیں اُن کی شاعری میں جابجا موجود ہیں۔
——
کیا پوچھتے ہو کون ہے یہ کس کی ہے شہرت
کیاتم نے کبھی داغ کا دیوان نہیں دیکھا
——
داغ معجز بیان ہے کیا کہنا
طرز سب سے جدا نکالی ہے
——
داغ سا بھی کوئی شاعر ہے ذرا سچ کہنا
جس کے ہر شعر میں ترکیب نئی بات نئی
——
صاف اور با محاورہ زبان:۔
داغ اپنی شاعری میں صاف اور بامحاورہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ روزمرہ محاورے کا استعمال زیادہ کرتے ہیں، مثلاً
——
تو بھی اے ناصح کسی پر جان دے
ہاتھ لا اُستاد کیوں کیسی کہی
——
آپ کے سر کی قسم داغ کو پروا بھی نہیں
آپ کے ملنے کا ہوگاجسے ارمان ہوگا
——
غیر کی محفل میں مجھ کو مثلِ شمع
آٹھ آٹھ آنسو رلایا آپ نے
——
صاف گوئی:۔
داغ صاف صاف بات کرنے کے عادی ہیں اپنے دل کی بات واضح طورپر سامنے لاتے ہیں اور سادگی اختیار کرتے ہیں۔ اس سادگی اور اور صاف گوئی کی مثالیں جابجا داغ کی شاعری میں نظرآتی ہے۔ مثلاً
——
ہم ساتھ ہو لیے تو کہا اُس نے غیر سے
آتا ہے کون اس سے کہو یہ جدا چلے
——
لے لیے ہم نے لپٹ کر بوسے
وہ تو ہر کہتے رہے ہر بار یہ کیا
——
راہ میں ٹوکا تو جھنجلا کر بولے
دور ہو کمبخت یہ بازار ہے
——
حق گوئی :۔
داغ کا ظاہر و باطن ایک ہے اور اُن کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ وہ عملی زندگی میں جو کچھ کرتے ہیں اس پر شرمندہ نہیں ہوتے اور اس کا شاعری میں برملا اظہار کرتے ہیں،
——
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کاانتظار کیا
——
شب وصل ایسی کھلی چاندنی
وہ گھبرا کے بولے سحر ہو گئی
——
دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات
ہائے کمبخت کو کس وقت خدا یاد آیا
——
کلام میں دلکشی خلوص و صداقت:۔
داغ صرف زبان کا شاعر ہی نہیں بلکہ اُنکی شاعری میں صداقت اور خلوص کا جذبہ بھی کارفرما نظرآتا ہے۔ اُن کے کلام میں حد سے زیادہ دلکشی، خلوص اور صداقت واضح طور پر نظرآتاہے۔ مثلاً
——
جو گزرے ہیں داغ پر صدمے
آپ بندہ نواز کیاجانیں
——
تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتادو مجھ کو
دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو
——
انفرادیت:۔
داغ نے اپنے ہمعصر شعرا کی پیروی نہیں کی بلکہ اپنی الگ راہ سخن اور طرز گفتار نکالی جو ان سے شروع ہوئی اور ان ہی پر ختم ہوئی مثلا! وہ خود کہتے ہیں کہ،
——
یہ کیا کہا کہ داغ کو پہچانتے نہیں
وہ ایک ہی تو ہے سارے جہاں میں
——
داغ معجز بیان ہے کیا کہنا
طرز سب سے جدا نکالی ہے
——
داغ ہی کے دم سے تھا لطف سخن
خوش بیانی کا مزہ جاتا رہا
——
طنز و تعریض کی آمیزش:۔
داغ کی شاعری کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ محبوب کے بارے میں ان کے لب و لہجے میں طنز و تعریض کی آمیزش نظرآتی ہے۔ مثلاً
——
غیروں سے التفات پہ ٹوکا تو یہ کہا
دنیا میں بات بھی نہ کرے کیا کسی سے ہم
——
تمہارے خط میں نیا اک پیام کس کاتھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کاتھا
——
تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام
تم سنوارا کر و بیٹھے ہوئے گیسو اپنے
——
مکالمہ نگاری:۔
داغ کی شاعری میں مکالمہ نگاری کو اہمیت حاصل ہے۔ وہ اشعار اس طرح کہتے ہیں جیسے کسی کو سامنے بٹھا کر باتیں کرتے ہوں او ر یہ ان کی بہت بڑی خوبی ہے۔ مثلاً
——
کیا کہا؟ پھر تو کہو ! ہم نہیں سنتے تیری“
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں
——
خدا کے واسطے جھوٹی نہ کھائیے قسمیں
مجھے یقین ہوا مجھ کو اعتبار آیا
——
لطف مئے تجھ سے کیا کہوں واعظ
ائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں
——
زبان دہلی کا استعمال:۔
داغ نے لال قلعے میں پرورش پائی اور دہلی کی گلی کوچوں میں جوان ہوئے۔ اس لیے داغ اپنی شاعری میں زبان دہلی کا استعما ل کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
——
مستند اہل زباں خاص ہے دہلی والے
اس میں غیروں کا تعرف نہیں مانا جاتا
——
داغ کی شاعری کا محور:۔
داغ کی شاعری صرف ایک محور پر گردش کرتی ہے اور وہ ہے عشق۔ مومن کی طرح ان کے ہاں بھی نفسیاتی بصیرت کا اظہار جگہ جگہ ملتا ہے۔ مثال کے طورپر کہتے ہیں،
——
رخ روشن کی آگے شمع رکھ کے وہ یہ کہتے ہیں
ادھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے
——
اپنی تصویر پہ نازاں ہو تمہارا کیا ہے
آنکھ نرگس کی، دہن غنچے کا، حیرت میری
——
قیامت ہیں بانکی ادائیں تمہاری
ادھر آؤ لے لوں بلائیں تمہاری
——
جذبات کا شاعر:۔
داغ نہ فلسفی تھے اور نہ کوئی بڑا نظریہ حیات رکھتے تھے و ہ صرف شاعر تھے اور وہ بھی جذبات اور شوخی کے شاعر اُس نے اپنی شاعری میں جذبات کا بھر پور اظہار کیا ہے۔ مثلاً
——
بہت جلائے گا حوروں کو داغ بہشت میں
بغل میں اُس کے وہاں ہند کی پری ہوگی
——
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کا کیا کرے کوئی
——
تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہی
تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی
——
خوبصورت چہروں کا دلدادہ:۔
داغ کی زیادہ تر عمر عشق و عاشقی میں گزری دہلی کی ہر مشہور طوائف کے ساتھ اُن کا سلسلہ رہا۔ داغ خوبصورت چہروں کا دلدادہ رہے۔ خواہ وہ گوشت پوست کا انسان ہو یا پتھر کی مورت۔ اُن کی زندگی میں محبوب کے بچھڑنے کی کوئی اہمیت نہیں۔ کیونکہ وہ بہت جلد دوسری محبت تلاش کر لیتے ہیں۔
——
بت ہی پتھر کے کیوں نہ ہوں اے داغ
اچھی صورت کو دیکھتا ہوں میں
——
اک نہ اک کو لگائے رکھتے ہیں
تم نہ ہوتے تو دوسرا ہوتا
——
کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیں
دل بہل جائے گا کہیں نہ کہیں
——
معاملہ بندی:۔
داغ کی معاملہ بندی انشاء، رنگین اور جرات کی طرح نہیں ہے وہ داغ کی اپنی ہے جس میں بے تکلفی اور سچائی ہے اور تصنع اور بناوٹ سے بالکل خالی ہے مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں،
——
پہلے گالی دی سوال وصل پر
پھر ہوا ارشاد کیوں کیسی کہی
——
حوروں کا انتظار کرے کون حشر تک
مٹی کی بھی ملے تو روا ہے شباب میں
——
لے لیے ہم نے لپٹ کر بوسے
وہ تو کہتے رہے ہر بار یہ کیا
——
ناصح، واعظ اور رقیب:۔
داغ کے ہاں ناصح اور واعظ اور رقیب کے لیے اچھوتے قسم کے مضامین ملتے ہیں عام طور شعراء نے ناصح، رقیب اور واعظ کے ساتھ نت نئے انداز میں چھٹر چھاڑ کی ہے لیکن داغ نے ان کے دلوں کو ٹٹول کر ہمدردی اور افسوس کا اظہار بھی کیا ہے۔ مثلاً
——
وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرم سار آیا
رقیب پر مجھے بے اختیار پیار آیا
——
کچھ تذکرہ رنجش معشوق جوآیا
دشمن کے بھی آنسو نکل آئے میرے آگے
——
لطف مئے تجھ سے کیا کہوں واعظ
ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں
——
ترنم او رموسیقیت:۔
داغ کی غزلوں کی پسندیدگی میں اس کے ترنم اور موسیقیت کو اہمیت حاصل ہے۔ غزلوں کے ردیف اور قافیے کی تلاش میں ان کو کمال کا عبور حاصل ہے۔ اُن کی بحریں اور زمینیں نہایت باغ و بہار ہیں اُن کے ہاں الفاظ کا استعمال نہایت برمحل اور برجستہ ہے۔
داغ غیر ضروری الفاظ سے پرہیز کرتے ہیں بیان کی شوخی ،بے تکلفی، طنز، جذبے کی فروانی اور تجربہ و مشاہدہ کی کثرت سے ان کی غزلیں بھر پور ہیں۔ مثلاً
——
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
کسی کے دل کی حقیقت کسی کو کیا معلوم
بظاہر اُن کو حیادار لوگ سمجھیں گے
حیا میں ہے جو شرارت کسی کو کیا معلوم
——
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
وفا کریں گے نبھائیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کاتھا
——
داغ کے مصرعے جو محاورات بن کر اشعار کے قالب میں ڈھل کر ضرب الامثال بن گئے اور زبان زد خاص و عام ہو گئے ہیں۔
——
١)ہرروز کی جھک جھک سے مرا ناک میں دم ہے
٢)حضرت داغ جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے
٣)تو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی
٤)آپکے سر کی قسم داغ کو پروا بھی نہیں
٥)ہائے کمبخت تو نے پی ہی نہیں
٦) بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
٧)جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں
٨) ذکر حبیب کم نہیں وصل حبیب سے
——
مجموعی جائزہ:۔
داغ کی شاعر ی کے متعلق فراق فرماتے ہیں” اردو شاعری نے داغ کے برابر کا فقرہ باز آج تک پیدا کیا ہے اور نہ آئندہ پیدا کر سکے گی۔“
بقول رام بابو سکسینہ :
” ان کی زبان کے ساتھ اس خدمت کی ضرور قدر کرنی چاہیے کہ انہوں نے سخت اور معلق الفاظ ترک کیے اور سیدھے الفاظ استعمال کیے۔ جس سے کلام میں بے ساختگی اور فصاحت مزید بڑھ گئی ہے۔“ بقول خلیل الرحمن عظمی
”داغ کے طرز بیان میں جو صفائی اور فصاحت، جو چستی، جو نکھار، جو البیلا پن اور جو فنی رچاؤ ملتا ہے وہ بہت کم غزل گویوں کے حصے میں آیا ہے۔ داغ کا فن اُن کی شخصیت کی ایک تصویر ہے اس لیے اس میں بڑی جان ہے۔“
——
محاوراتی انتخاب
——
ابرو میں بل ہونا.(مکدّر ہونا، ترش رو ہونا)
ابرو میں جو بل ہے وہی گیسو میں شکن ہے
ہم کو تو نہ کچھ فرق سرِ مو نظر آیا
——
ابرو پر خم ہونا. (بھنووں میں بل پڑنا)
حسن میں انداز کے آتے ہی نخوت آ گئی.
زلف میں پڑتے ہی بل، ابرو بھی پُر خم ہو گیا
——
اب آئے. (ابھی آتے ہیں، ذرا سی دیر میں آنے والے ہیں)
وہ آئے اور اب آئے اور یہ آئے
بشارت دی مجھے بادِ صبا نے
——
آپ ہی آپ جلنا. (خودبخود رنج سے گھلا جانا، رشک کرنا)
داغ کو دیکھ کے بولے یہ شخص
آپ ہی آپ جلا جاتا ہے
——
آپ سے دُور، آپ کی جان سے دُور. (آپ کو نقصان نہ پہنچے، آپ کو خدا بچائے)
داغ کہتے ہیں جنہیں، دیکھئے وہ بیٹھے ہیں
آپ کی جان سے دُور، آپ پر مرنے والے
——
اپنے مطلب کی کہنا. (اپنے فائدے کی بات کہنا)
اپنے مطلب کی غیر کہتے ہیں
ان کی باتوں میں تم نہ آ جانا
——
اپنے سایہ سے بچنا. (ملنے سے انتہائی پرہیز کرنا. احتیاط کرنا)
مدعی کون وہاں دخل کسی کا کیسا
اپنے سایہ سے بھی بچتا تھا کیسا کیسا
——
اپنی راہ لینا. (اپنا راستہ اختیار کرنا، الگ ہونا)
دل جو لیتا ہے عشق کا رستہ
جان بھی اپنی راہ لیتی ہے
——
آپ میں آنا. (ہوش میں آنا)
اس نزاکت پہ گئے غیر کے گھر چلن سے تم
ہم اگر آپ میں آئے تو بمشکل آئے
——
آپی آپ. (خودبخود، آپ ہی آپ)
دیکھ کر آئینہ آپی آپ وہ کہنے لگے
شکل یہ پریوں کی، حوروں کی مورت ہو چکی
——
اپنا بنا لینا. (دوستی کرنا، دوست بنا لینا)
غیر کو اپنا بنا لیتے ہیں ہم تو وقت پر
دوست کو دشمن بنانا کوئی تم سے سیکھ جائے
——
اپنا سا منہ لے کر رہ جانا. (خفیف ہونا، اپنی بات کھونا)
بگڑتے ہو عبث رہ جاؤ گے اپنا سا منہ لے کر
اگر آئینہ منہ پر صاف کہہ بیٹھا صفائی ہے
——
آپس میں ہونا. (حجت ہونا، تکرار ہونا)
مری ان کی بھری محفل میں ہو گی
زبان پر آئے گی جو دل میں ہو گی
——
اپنے نام کا ایک ہی نکلنا. (بے مثل ہونا)
سچ تو یہ ہے کہ عاشقی میں داغ
ایک ہی اپنے نام کا نکلا
——
اپنے مطلب کے یار. (غرض آشنا ہونا)
تم اگر اپنی گوں کے ہو معشوق
اپنے مطلب کے یار ہیں ہم بھی
——
اپنا سا. (مقابل، خود جیسا)
تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو
دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو
——
اپنی بات اپنے ہاتھ ہونا. (اپنی عزت اپنے اختیار میں ہونا)
تم کو محبت غیر سے دن رات ہے
دیکھو اپنی بات اپنے ہات ہے
——
اپنے جی میں شرمانا. (پشیمان ہونا)
عدو سے مل کر پھر ایسی ڈھٹائی
ذرا شرماتے ہوتے اپنے جی میں
——
اپنی اپنی پڑنا. (اپنے اپنے بچاؤ کی فکر کرنا، نفسی نفسی ہونا.)
عدو بھی تنگ ہے ان کے ستم سے
اُسے اپنی، مجھے اپنی پڑی ہے
——
آپے سے گزر جانا. (بے ہوش ہونا، مغرور ہونا)
جب سماتا ہے ترا اس میں غرور
اپنے آپے سے گزر جاتا ہے دل
——
منتخب کلام
——
نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
——
تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا
یا نبی خوب ہوا خوب ہوا خوب ہوا
حسنِ یوسف میں ترا نور تھا اے نورِ خدا
چارۂِ دیدۂِ یعقوب ہوا خوب ہوا
حشر میں امتِ عاصی کا ٹھکانا ہی نہ تھا
بخشوانا تجھے مرغوب ہوا خوب ہوا
شبِ معراج یہ کہتے تھے فرشتے باہم
سخنِ طالب و مطلوب ہوا خوب ہوا
تھا سبھی پیشِ نظر معرکۂِ کرب و بلا
صبر میں ثانی ایوب ہوا خوب ہوا
داغ ہے روزِ قیامت مری شرم اسکے ہاتھ
میں گناہوں سے جو محوب ہوا خوب ہوا
——
کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے
سن کر مرا فسانہ انہیں لطف آگیا
سنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے
پیغامبر کی بات پر آپس میں رنج کیا
میری زباں کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے
کچھ تازگی ہو لذتِ آزار کے لئے
ہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے
جانبر بھی ہوگئے ہیں بہت مجھ سے نیم جان
کیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہے
حسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پر
کہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے
وقتِ خرامِ ناز دکھا دو جدا جدا
یہ چال حشر کی یہ روش آسماں کی ہے
فرصت کہاں کہ ہم سے کسی وقت تو ملے
دن غیر کا ہے رات ترے پاسباں کی ہے
قاصد کی گفتگو سے تسلی ہو کس طرح
چھپتی نہیں وہ بات جو تیری زباں کی ہے
جورِ رقیب و ظلمِ فلک کا نہیں خیال
تشویش ایک خاطرِ نامہرباں کی ہے
سن کر مرا فسانہء غم اس نے یہ کہا
ہوجائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے
دامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھا
خنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے
ہر ہر نفس میں دل سے نکلنے لگا غبار
کیا جانے گردِ راہ یہ کس کارواں کی ہے
کیونکر نہ آتے خلد سے آدم زمین پر
موزوں وہیں وہ خوب ہے جو سنتے جہاں کی ہے
تقدیر سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ عشق میں
تدبیر کوئی بھی ستمِ ناگہاں کی ہے
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
——
آزمایا ہے مدام آپ کو، بس بس، اجی بس
دونوں ہاتھوں سے سلام آپ کو، بس بس، اجی بس
آپ کی بندہ نوازی ہے جہاں میں مشہور
جانتا ہے یہ غلام آپ کو، بس بس، اجی بس
منہ نہ کھلوائیے میرا یونھی رہنے دیجے
یاد بھی ہے وہ کلام آپ کو، بس بس، اجی بس
کوچۂ غیر ہی میں زورِ نزاکت بھی ہوا
وہیں کرنا تھا قیام آپ کو، بس بس، اجی بس.
کیا برے ڈھنگ میں کوئی نہیں اچھا کہتا
غیر بھی رکھتے ہیں نام آپ کو، بس بس، اجی بس
ہم نے کل دیکھ لیا، دیکھ لیا، دیکھ لیا
کہیں جاتے سرِ شام آپ کو، بس بس، اجی بس
طالبِ وصل ہو کیوں کوئی جو دشنام سنے
کون بھیجے یہ پیام آپ کو، بس بس، اجی بس
حیلۂ مہر و وفا پر نہ تامّل نہ درن
اور وعدے میں کلام آپ کو، بس بس، اجی بس
کیجیے ہاتھ لگا کر جو مرا کام تمام
یہ بھی آتا نہیں کام آپ کو، بس بس، اجی بس
یہ تو کہیے کہ نشان اس کا مٹایا کس نے
یاد ہو داغ کا نام آپ کو، بس بس، اجی بس
——
ہم تو نالے بھی کِیا کرتے ہیں آہوں کے سِوا
آپ کے پاس ہیں کیا؟ تیز نِگاہوں کے سِوا
معذرت چاہیے کیا جُرمِ وَفا کی اُس سے
کہ گُنہ عُذر بھی ہے، اور گُناہوں کے سِوا
میں نہیں کاتبِ اعمال کا قائل، یا رب !
اور بھی کوئی ہے اِن دونوں گواہوں کے سِوا
حضرتِ خِضر کریں دشت نوَردی بیکار !
ہم تو چلتے ہی نہیں عِشق کی راہوں کے سِوا
خانۂ عِشق ہے منزِل اِنھیں مہمانوں کی
اور اِس گھر میں دَھرا کیا ہے تباہوں کے سِوا
اُن کے آنے کی خوشی، ایسی ہُوئی محفِل میں !
پگڑیاں بھی تو اُچھلتی تھیں کُلاہوں کے سِوا
وہ کریں مُلک پہ قبضہ، یہ کریں دِل تسخِیر
اِن حَسینوں کی حکومت تو ہے شاہوں کے سِوا
ظُلمتِ بخت مِری، تِیرَگئیِ زُلف تِری !
کوئی بڑھ کر نہیں اِن دونوں سِیاہوں کے سِوا
نہ سُنے داورِ محشر، تو کرُوں کیا؟ اے داغ !
سب سے اِظہار ہُوئے، میرے گواہوں کے سِوا
——
جس وقت آئے ہوش میں کُچھ بے خودی سے ہم
کرتے رہے خیال میں باتیں اُسی سے ہم
ناچار تم ہو دِل سے تو مجبُور جی سے ہم
رکھتے ہو تم کسی سے محبّت، کسی سے ہم
پُوچھے نہ کوئی ہم کو، نہ بولیں کسی سے ہم
کنُجِ لحد میں جاتے ہیں کِس بے کسی سے ہم
نقشِ قدم پہ آنکھیں مَلیں مَل کے چل دیے
کیا اور خاک لے گئے تیری گلی سے ہم
یوسف کہا جو اُن کو، تو ناراض ہو گئے
تشبیہ اب نہ دیں گے، کسی کو کسی سے ہم
ہوتا ہے پر ضرور خوشی کا مآل رنج
رونے لگے اخیر زیادہ ہنسی سے ہم
کہتے ہیں آنسوؤں سے بُجھائیں گے ہم تجھے
یہ دِل لگی بھی کرتے ہیں، دِل کی لگی سے ہم
کئی دن ہوئے ہیں ہاتھ میں ساغر لئے ہُوئے
کس طرح توبہ کرلیں الٰہی ابھی سے ہم
ہم سے چُھپے گا عشق یہ کہنے کی بات ہے
کیا کچُھ بُری بَھلی نہ کہیں گے کسی سے ہم
معشُوق کی خطا نہیں، عاشِق کا ہے قصُور
جب غور کر کے دیکھتے ہیں مُنصَفِی سے ہم
دُشمن کی دوستی سے کیا قتل دوست نے
دعوٰی کریں گے خون کا اب مُدّعی سے ہم
واعظ ! خطا معاف کہ انسان ہم تو ہیں
بن جائیں گے فرشتہ نہ کچُھ آدمی سے ہم
جس کو نہیں نصیب، بڑا بد نصیب ہے !
کھاتے ہیں تیرے عِشق کا غم کِس خوشی سے ہم
خَلوَت گزیں رہے ہیں تصوّر میں اِس قدر
معلوُم ہوں گے حشر میں بھی اجنبی سے ہم
اِس کا گواہ کون ہے یا رب تِرے سِوا
مرتے ہیں ہجرِ یار میں کِس بے کسی سے ہم
غیروں سے اِلتفات پہ ٹوکا، تو یہ کہا
دُنیا میں بات بھی نہ کریں کیا کسی سے ہم
مانُوس ہو نِشاط و سرُور و خوشی سے تم
حسرت سے ہم، ملال سے ہم، بے کسی سے ہم
کرتے ہیں ایسی بات، کہ کہہ دو دِل کی بات
یُوں مُدّعا نِکالتے ہیں مُدّعی سے ہم
دِل کچُھ اُچاٹ سا ہے تِرے طَور دیکھ کر
وہ بات کر، کہ پیار کریں تجھ کو جی سے ہم
عادت بُری بَلا ہے چُھٹتی نہیں کبھی
دُنیا کے غم اُٹھاتے ہیں کِس کِس خوشی سے ہم
وعدہ کیا ہے اُس نے قیامت میں وصل کا
اپنا وصال، چاہتے ہیں لو ابھی سے ہم
کرتے ہیں اِک غرض کے لئے اُس کی بندگی
بن جائیں گے غلام نہ کچُھ بندگی سے ہم
اَن بن ہُوئی ہو غیر سے اُس کی خُدا کرے
سُنتے ہیں لاگ ڈانٹ کسی کی کسی سے ہم
دِلگیر اِس قدر ہے کہ جا جا کے باغ میں
دل کو مِلا کے دیکھتے ہیں ہر کلی سے ہم
کہتے ہیں وہ سِتم میں ہمارے ہے خاص لُطف
یہ دُشمنی بھی، کرتے ہیں اِک دوستی سے ہم
واقِف رمُوزِ عِشق و محبّت سے، داغ ہے
مِلتا اگرتو پُوچھتے کچھ ، اُس وَلی سے ہم
کم بخت دِل نے داغ ! کِیا ہے ہَمَیں تباہ
عاشِق مِزاج ہوگئے آخر اِسی سے ہم
——
بُتوں نے ہوش سنبھالا جہاں شعور آیا
بڑے دماغ بڑے ناز سے غرور آیا
اُسے حیا اِدھر آئی اُدھر غرور آیا
میرے جنازے کے ہمراہ دور دور آیا
زُباں پہ اُن کےجو بھولے سےنامِ حور آیا
اُٹھا کے آئینہ دیکھا وہیں غرور آیا
تُمھاری بزم تو ایسی ہی تھی نشاط افزا
رقیب نے بھی اگر پی مجھے سرور آیا
کہاں کہاں دل مشتاقِدید نے یہ کہا
وہ چمکی برق تجلی وہ کوہِ طور آیا
تری گلی کی زمیں اور اس قدر پامال
مگر یہاں کوئی بے تاب ناصبُور آیا
جہاں میں لاکھ حسیں ہوں تو اُن کو رشک نہیں
قیامت آگئی جس وقت نامِ حور آیا
عدو کو دیکھ کے آنکھوں میں اپنے خون اُترا
وہ سمجھے بادہ گُل رنگ کا سُرور آیا
تیری گلی میں رہی باز گشت مثل نفس
کہ جتنی دور گیا واپس اُتنی دور آیا
قسم بھی وہ کبھی قُرآن کی نہیں کھاتے
یہ رشک ہے اُنھیں کیوں ذکرِ حُور آیا
پیامبر تیری باتوں میں ہم کب آتے ہیں
وہاں ضرور گیا اور تو ضرور آیا
کہا جب اُس نے تہِ تیغ کون آتا ہے
پُکاراُٹھا دل مُشتاق و ناصبور آیا
پیامبر سے شبِ وعدہ وہ بگڑ بیٹھے
بنے بنائے ہوئے کام میں فتور آیا
کسی نے جُرم کیا مل گئی سزا مجھ کو
کسی سے شکوہ ہوا مجھ پہ مُنہ ضرور آیا
جو خم کو جوش تو ساغر کو آگیا چکر
مرے ہی دل کو نہ اُس بزم میں سرور آیا
گزار دی شبِ وعدہ اسی توقع پر
مرے بلانے کو اب آدمی ضرور آیا
کہیں تھی راہنُمائی کہیں تھی راہزنی
کہیں ملا کہیں میں کارواں سے دور آیا
لگاوٹیں ہیں تجلی کی یہ تو اے موسیٰ
کہ سُرمہ بن کے جو آنکھوں میں کوہِ طور آیا
الہی اشک مصیبت کی آبرو رکھنا
یہ بیکسی میں بُرے وقت پر ضرور آیا
خُدا نے بخش دئیے حشر میں بُہت عاشق
خیال یار میں کوئی نہ بے قصور آیا
ترے نصیب کا اے دل وہاں بھی صبر نہیں
جو اب گیا وہ قیامت کے دن ضرور آیا
بنے ہو بزم میں ساقی تق یہ خیال رہے
کسے سرور نہ آیا کسے سرور آیا
شہید ناز بھی عاشق مزاج میں بھی ہوں
اسی لیے ملک الموت بنکے حور آیا
وہیں سے داغؔ سیہ بخت کو ملی ظلمت
جہاں سے حضرتِ موسیٰ کے ہاتھ نُور آیا
——
اس کعبہِ دل کو کبھی ویران نہیں دیکھا
اُس بت کو کب اللہ کا مہماں نہیں دیکھا
کیا ہم نے عذابِ شبِ ہِجراں نہیں دیکھا
تُم کو نہ یقیں آئے تو ہاں ہاں نہیں دیکھا
کیا تو نے میرا حال پریشاں نہیں دیکھا
اس طرح سے دیکھا کہ میری جاں نہیں دیکھا
جب پڑا وصل میں شوخی سے کسی کا
پھر ہم نے گریباں کو گریباں نہیں دیکھا
ہم جیسے ہیں،ایسا کوئی دانا نہیں پایا
تم جیسے ہو،ایساکوئی ناداں نہیں دیکھا
راحت کے طلبگا رہزاروں نظر آئے
محشر میں کوئی حور کا خواہاں نہیں دیکھا
نظروں میں سمایا ہوا ساماں نہیں دیکھا
لیلی نے کبھی قیس کو عریاں نہیں دیکھا
اُس بُت کی محبت میں قیامت کا مزہ ہے
کافر کو دوزخ میں پشیماں نہیں دیکھا
کہتے ہو کہ بس دیکھ لیا ہم نے ترا دل
دل دیکھ لیا اورپھر ارماں نہیں دیکھا
کیا ذوق ہے کیا شوق ہے سو مرتبہ دیکھوں
پھر بھی یہ کہوں جلوہ جاناں نہیں دیکھا
محشر میں وہ نادم ہوں خُدا یہ نہ دِکھائے
آنکھوں سے کبھی اُس کو پشیماں نہیں دیکھا
جو دیکھتے ہیں دیکھنے والے تِرے انداز
تو نے وہ تماشا ہی میری جاں ہی نہیں دیکھا
ہر چند تیرے ظلم کی کُچھ حد نہیں ظالم
پر ہم نے کسی شخص کو نالاں نہیں دیکھا
گو نزع کی حالت ہے مگر پھر یہ کہوں گا
کُچھ تمُ نے مرِا حالِ پریشاں نہیں دیکھا
تُم غیر کی تعریف کروقہر خدُا ہے
معشوق کو یوں بندہ احساں نہیں دیکھا
کیا جذب محبت ہے کہ جب سینہ سے کھینچا
سفاک تیرے تیر میں پیکاں نہیں دیکھا
ملتا نہیں ہمکو دل گمُ گشتہ ہمارا
تو نے تو کہیں اے غم جاناں نہیں دیکھا
جو دن مجھے تقدیر کی گردش نے دِکھایا
تو نے بھی وہ اے گردِشِ دوراں نہیں دیکھا
کیا داد ملے اُسے پریشانیِ دل کی
جس بتُ نے کبھی خوابِ پریشاں نہیں دیکھا
میں نے اُسے دیکھا،مرے دل نے اُسے دیکھا
تو نے اُسے اے دیدہ حیراں نہیں دیکھا
تُمکو مرے مرنے کی یہ حسرت یہ تمنا
اچھوں کو بُری بات کا ارماں نہیں دیکھا
لو اور سنو کہتے ہیں وہ دیکھ کے مجھکو
جو حال سنا تھا وہ پریشاں نہیں دیکھا
تم منہ سے کہے جاؤ کہ دیکھا ہے زمانہ
آنکھیں تو یہ کہتی ہیں ہاں ہاں نہیں دیکھا
کیا عیش سے معمور تھی وہ انجمنِ ناز
ہم نے تو وہاں شمع کو گرِیاں نہیں دیکھا
کہتی ہے مری قبر پہ رو رو کے محبت
یوں خاک میں ملتے ہوئے ارماں نہیں دیکھا
کیوں پوچھتے ہو کون ہے یہ کسکی ہے شہرت
کیا تم نے کبھی داغؔ کا دیوان نہیں دیکھ
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ