اردوئے معلیٰ

آج ممتاز شاعر، معلم، نقاد، محقق اور ماہرِ اقبالیات ڈاکٹر جعفر بلوچ کا یوم وفات ہے۔

 

ڈاکٹر جعفر بلوچ(پیدائش: 27 جنوری، 1947ء- وفات: 27 اگست، 2008ء)
——
ڈاکٹر جعفر بلوچ 27 جنوری 1947ء کو ضلع لیہ، موجودہ پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام غلام جعفر تھا۔ ڈاکٹر جعفر بلوچ تدریس کے شعبہ سے وابستہ تھے اور گورنمنٹ سائنس کالج وحدت روڈ لاہور سے بطور پروفیسر ریٹائر ہوئے۔
ڈاکٹر جعفر بلوچ بیک وقت اردو کے شاعر، محقق، نقاد اور ماہرِ اقبالیات تھے۔ وہ نعت گوئی میں تخصیص رکھتے تھے۔ ڈاکٹر جعفر بلوچ کی تصانیف میں اقبالیات اور اسد ملتانی، علاّمہ اقبال اور مولاّنا ظفر علی خاں، مجالس اقبال، برسبیل سخن، بیعت، مشارق، محاکم، اشارات، مطلعین، مشارق، ارمغانِ نیاز، اقبال شناسی اور سیارہ، یادنامۂ داؤدی اور آیات ِ اَدب شامل ہیں۔
ڈاکٹر جعفر بلوچ 27 اگست 2008ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے اور قبرستان شاہ کمال لاہور میں سپردِ خاک ہوئے۔
——
تصانیف
——
اقبالیات اور اسد ملتانی (اقبالیات)
علاّمہ اقبال اور مولاّنا ظفر علی خاں ( تحقیق و تنقید -اقبالیات) برسبیل سخن ( نظمیں )
مجالس اقبال ( تحقیق و تنقید -اقبالیات)
بیعت ( نعتیہ کلام )
اقلیم ( غزلیں، نظمیں )
نشید شیراز (مولانا ظفر علی خان کے فارسی کلام کی تدوین )
اقبال شناسی اور سیارہ (اقبالیات)
محاکمہ (دیوانِ غالب نسخۂ لاہور، مسروقہ)
——
یہ بھی پڑھیں : شاعرہ اور افسانہ نگار ناہید اختر بلوچ کی سالگرہ
——
یادنامۂ داؤدی (خلیل الرحمن داودی کے بارے میں مضامین کا انتخاب)
اشارات ( پروفیسر ساقی الحسینی کے مضامین کی تدوین)
مطلعین (راجا عبداللہ نیاز اور اسد ملتانی کے حالات اور کلام)
مشارق (حضرت اسد ملتانی کے مجموعے کی ترتیب و تدوین)
ارمغانِ نیاز (راجا عبد اللہ نیاز کے بارے میں مضامین کا انتخاب)
آیات ِ اَدب ( تذکرہ شعرائے لیہ و مظفر گڑھ)
——
قبلہ والد صاحب از مظفر حسین بلوچ
——
گھر کا ماحول ادبی تھا اور والد بزرگوار تہذیبی شخصیت کے حامل تھے۔ عزت اور احترام کےحوالے سے قبلہ اور حضور کے الفاظ کانوں میں پڑتے رہتے تھے۔ والد صاحب اپنے بزرگ دوستوں کو انہی القابات سے نوازا کرتے تھے۔ ایک روز میری سائیکل پنکچر ہو گئی اور میں پنکچر لگوانے سائیکل والے کے پاس گیا۔ اس وقت میری عمرِ عزیز یہی کوئی تیرہ چودہ برس کے لگ بھگ ہو گی۔ سائیکل مرمت کرنے والے صاحب ہمارے محلے کے رہنے والے تھے اور مذہبی حوالے سے خاصے شدت پسند واقع ہوئے تھے۔ پنکچر لگ گیا تو میں نے اجرت کے حوالے سے استفسار کیا: “حضور کتنے پیسے ہو گئے؟”
موصوف نے حضور کا لفظ سنا تو طیش میں آ گئے اور کہا کہ کچھ شرم و حیا کرو، حضور کا لفظ تو صرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مخصوص ہے اور تم مجھ جیسے گنہ گار کو اس لفظ سے مخاطب کر رہے ہو۔ میں نے معذرت کی اور کہا : اچھا قبلہ! بتائیے کتنی رقم ادا کروں؟” اس پر وہ استغفار استغفار کا ورد کرتے ہوئے کہنے لگے کہ پانچ روپے دو اور دفع دور ہو جاؤ۔
واپسی پر میں یہی سوچتا ہوا گھر آ گیا کہ قبلہ والد صاحب کی تربیت میں یقیناً کچھ کمی رہ گئی ہے جو آج ذلت آمیز دن دیکھنا نصیب ہوا ہے۔
والد صاحب لیہ (جنوبی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ دادی اماں کہا کرتی تھیں: میڈا جعفر پاکستان توں چار مہینے وڈا اے”دادا مرحوم کاشت کار تھے اور بلوچوں کی ایک شاخ چانڈیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ لیہ شہر کے مغرب اور دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر معمولی سا زمیندارہ تھا۔ والد صاحب کی عمر چھے سال تھی کہ سایہء پدری سر سے اٹھ گیا۔ باپ کی وفات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نا مساعد حالات کے باعث والد صاحب کی شخصیت میں وہ خلا پیدا ہو گیا جو زندگی بھر پورا نہ ہو سکا۔
حکیم عبد الکریم خان کلاچی میرے دادا مرحوم غلام حسن خان کے گہرے اور پرانے دوست تھے۔ انہوں نے اپنے مرحوم دوست کے بیٹے جعفر کے سر پر دستِ شفقت رکھا اور اپنے گھر لے آئے۔ والد صاحب کی کفالت حکیم صاحب کے زیرِ سایہ ہوئی۔ حکیم صاحب لیہ کے معزز، با رسوخ اور صاحب علم خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس گھر میں علمِ  دین اور طب کی کتابوں کے علاوہ تاریخ، لغت اور ادبیات سے متعلق کتب و جرائد کا خاصا زخیرہ تھا۔ والد صاحب کی علمی، ادبی اور تہذیبی پرداخت میں اس علمی فضا کا کردار بہت نمایاں رہا۔ حکیم صاحب نے دو شادیاں کر رکھی تھیں اور ان کے بیٹے، پوتے اور نواسے والد صاحب کے ہم عمر تھے۔ حکیم صاحب کا ایک نواسہ با آواز بلند اقبال کا شعر پڑھتا اور باقی بچے تالیاں بجاتے ہوئے دادِ سخن سے نوازتے رہتے:
والد صاحب حساس طبیعت کے مالک تھے۔ ایک دن روتے ہوئے اس خاندان کی بزرگ خاتون بوا جی ( آپا زبیدہ بلوچ) کے پاس جا شکایت کی اور کہا کہ میرا نام جعفر کیوں رکھا ہے۔ ۔ بوا جی نے اس درِ یتیم کے آنسو پونچھے اور شفقت بھرے انداز میں سمجھایا کہ تمہارا نام تو بہت خوب صورت ہےاور حضرت جعفر طیار کی مناسبت سے رکھا گیا ہے بنگال کے میر جعفر کی نسبت سے نہیں ہے۔ والد صاحب کی دلی تسکین ہو گئی اور پھر کبھی آزردہ خاطر نہیں ہوۓ۔
حسرت موہانی کی طرح جیل میں چکی تو نہیں پیسی لیکن حکیم صاحب کے مطب میں دوائیں کوٹا کرتے تھے۔ علاوہ اذیں گھر کے کام کاج بھی انہی سے لیے جاتے۔ کھلونوں، پھولوں، تتلیوں اور ماں باپ کی محبت سے خالی بچپن نے ایک ایسا احساس محرومی پیدا کر دیا جس کا مداوا ناممکن تھا۔ یہی احساس محرومی اور حساسیت انہیں شعر و سخن کی طرف لے آئی۔
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر مرزا جعفر علی خاں اثر لکھنوی کا یوم پیدائش
——
شعر اور سر کی کشش انہیں ہمیشہ اپنی طرف بلاتی رہی۔ لیہ ایک مردم خیز خطہ ہے۔ علم و ادب کے حوالے سے نابغہ روزگار ہستیاں ہر دور میں موجود رہی ہیں۔ لیہ میں آۓ دن مشاعرے اور مذاکرے ہوتے رہتے تھے اور والد صاحب کو ان میں شرکت کا موقع ملتا رہتا تھا۔ 1964 میں پہلی بار والد صاحب نے آل پاکستان مشاعرہ سنا۔ اس یادگار اور تاریخی مشاعرے میں مقامی شعرا ء کے علاوہ جوش ملیح آبادی، احمد ندیم قاسمی، عبد الحمید عدم، احسان دانش، طفیل ہوشیارپوری، مرتضٰی برلاس اور متعدد دیگر شعراۓ کرام نے شرکت کی۔ سید مصطفیٰ زیدی لیہ میں ایس ڈی ایم تھے اور یہ مشاعرہ انہی کی زیر نگرانی منعقد ہوا۔
ادبی مشاغل کے بڑھتے ہوئے جنون کی بدولت والد صاحب کی تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہوئ۔ وہ 1965 میں ایف ایس سی کا امتحان دینا چاہتے تھے لیکن ان ادبی مشاغل کے باعث انہوں نے یہ امتحان 1966 میں سیکنڈ ڈویژن میں پاس کیا۔ ۔ شعر و سخن کے حوالے سے نسیمِ لیہ کی شاگردی میں آۓ۔ راجہ عبد اللہ نیاز سے نیازمندی رہی اور کشفی ملتانی کے کشف وکرامات سے بھی بہرہ ور ہوتے رہے۔ 1966 کے اواخر میں ملیریا اریڈیکیشن پروگرام میں بطور مائیکرو سکوپسٹ ملازم ہوگئے۔ اس سلسلے میں انہیں مظفر گڑھ جانا پڑا۔ والد صاحب مظفر گڑھ کو شہرِ کشفی ملتانی کہا کرتے تھے کیوں کہ یہاں مشہور شاعر اور صحافی حضرت کشفی ملتانی اپنے ہفت روزہ ” بشارت” کے ساتھ رونق افروز تھے۔
ڈاکٹر جعفر بلوچ صاحب کی شادی خانہ آبادی ان کے محسن و مربی حکیم عبد الکریم خان کلاچی کی پوتی اور معروف ڈاکٹر غلام محمد خان بلوچ کی دخترِ نیک اختر سے ہوئی۔ اس وقت والد صاحب نے بی اے نہیں کیا تھا لیکن وہ بزرگوں کے فیصلے پر بہت خوش تھے۔ شادی کے بعد وہ لاہور آگئے اور انہوں نے بی اے بھی کر لیا۔ لاہور میں شاعرِ مزدور احسان دانش سے ان کی تفصیلی ملاقاتیں رہیں۔ 1975_1974 میں گورنمنٹ ہائی سکول لیہ میں پڑھانے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ وہ اس کو اپنی خوش بختی سمجھتے تھے کہ اسی اسکول سے انہوں نے میٹرک پاس کیا تھا اور ان کے متعدد اساتذہ کرام اسی سکول میں پڑھا رہے تھے۔ ایم اے اردو کرنے کے بعد 1975 کے اواخر میں پنجاب پبلک سروس کمیشن سے اردو کے لیکچرار منتخب ہو گئے۔ ڈاکٹر جعفر بلوچ نے عارف والا، وہاڑی اور پتوکی میں بطور لیکچرار کام کیا اور جنوری 1978 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں ان کا تبادلہ ہو گیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور آمد پر ڈاکٹر جعفر بلوچ نے کہا:
——
بوالہوس مبہوت ہیں، اہلِ کمیں حیران ہیں
بارگاہِ حسن میں جعفر کہاں سے آ گیا
——
گورنمنٹ کالج لاہور میں ڈاکٹر جعفر بلوچ صاحب نے گیارہ سال تدریسی خدمات سر انجام دیں۔ “راوی” کے مولانا محمد حسین آزاد نمبر 1983 کی ترتیب و ادارت کا بیشتر کام ان کے ذوقِ سلیم کا مظہر ہے۔ 1990 میں اسسٹنٹ پروفیسر ہو کر گورنمنٹ کالج آف سائنس، وحدت روڈ لاہور چلے آئے اور اسی کالج سے 26 جنوری 2007 کو بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر ریٹائر ہوئے۔
ڈاکٹر جعفر بلوچ صاحب کی دل آویز شخصیت کے گونا گوں پہلو تھے۔ مشفق باپ، مخلص دوست، مہربان استاد، زندہ دل رفیق کار، استاد شاعر، معتبر محقق اور مدون۔
زمانے کے گرم و سرد تھپیڑے سہے لیکن اپنے اندر کے معصوم بچے اور بچپنے کو صاف بچا لاۓ۔ وہی بچوں کی سی معصومیت، شوخی، شرارت، ہنسی مذاق، سادگی، زندہ دلی اور زندگی سے بھر پور قہقہے شخصیت کا اٹوٹ انگ بن گئے۔ بلا کے حاضر جواب تھے۔ بذلہ سنجی، بدیہہ گوئ، جملہ بازی اور جملہ سازی میں کوئ ان کا مد مقابل نہیں تھا۔ بلا کا حافظہ تھا اور بلا مبالغہ انہیں ہزاروں اشعار ازبر تھے۔ طبعِ رواں میں شگفتگی اور تازگی کے رچاؤ شخصیت کو پرکشش اور جاذب نظر بنا دیا تھا۔ وہ واقعی جان محفل بھی تھے اور شان محفل بھی۔
دوست احباب اور ہم عصر شعراء کے حوالے سے ایسے ایسے اشعار کہہ رکھے تھے جن کی تازگی اور طراوت آج بھی مرجھائے ہوئے چہروں پر مسکراہٹ کے پھول بکھیر دیتی ہے۔
ہمدمِ دیرینہ اور یار غار ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ قدرے تاخیر کا شکار ہوا تو اخراجِ  تحسین سے نواز دیا:
——
جب سے اے تحسین فراقی تیرے سپرد ہوا
عبد الماجد دریابادی، دریا برد ہوا
——
ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب کی بے نیازیوں کے حوالے سے یوں لب کشا ہوئے :
——
عیاں یہ بات تری ایک اک کل سے ہے
کہ تو جمال سے اجمل نہیں، جمل سے ہے
——
بخش لائل پوری کو بھی نہیں بخشا:
——
کچھ ہدایت، شرافت وغیرہ
اے خدا بخش، لائل پوری کو
——
سائنس کالج لاہور میں ایک پروفیسر بخاری صاحب ہوا کرتے تھے۔ جب ان سے معاملاتِ من و تو سر اٹھانے لگے تو قطعہ کلامی پر اتر آئے:
——
جن سے بڑھتا ہو آدمی کا وقار
ایسے اوصاف سے میں عاری ہوں
روز مجھ کو بخار چڑھتا ہے
اس میں کیا شک ہے میں بخاری ہوں
——
ڈاکٹر جعفر بلوچ کا پہلا شعری مجموعہ” اقلیم” 1986 میں شائع ہوا جس کی تقریب رونمائی 13 نومبر 1986 کو شام پانچ بجے فلیٹیز ہوٹل لاہور میں منعقد ہوئی۔ صدارت ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا صاحب نے فرمائ۔ فکر و فن کے حوالے سے ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر اجمل نیازی، پروفیسر جیلانی کامران اور پروفیسر پریشان خٹک نے اظہار خیال کیا۔ اس تقریب کا اہتمام ہم سخن ساتھی کے روح رواں جناب توفیق بٹ نے کیا۔ توفیق بٹ اور دلاور حسین ڈار کا شمار والد صاحب کے نیازمندوں میں ہوتا ہے۔ دونوں گورنمنٹ کالج لاہور میں ان کے طالب علم تھے۔ وہ دونوں اکثر ہیوی موٹر سائیکل پر آتے تھے۔ ہم انہیں “بٹوں کی ڈار” کہا کرتے تھے۔
والد صاحب کا نعتیہ مجموعہ “بیعت” 1989 میں زیور طبع سے آراستہ ہوا۔
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر پروفیسر شہرت بخاری کا یومِ وفات
——
والد صاحب کی رحلت کے بعد نام ور نعت خواں اور ثنا گر رسول (ص)، سرور حسین نقشبندی نے حفیظ تائب فاؤنڈیشن کے تعاون سے ڈاکٹر جعفر بلوچ صاحب کے نعتیہ کلام پر مشتمل ایک سی ڈی بھی تیار کی۔ ( اللہ مرحوم حفیظ تائب اور والد محترم کے درجات بلند فرمائے)۔
منظومات کا مجموعہ “بر سبیلِ سخن” کے نام سے 2006 میں شائع ہوا جس میں ڈاکٹر جعفر بلوچ صاحب کا وہ شاہکار مرثیہ بھی شامل ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں ہی کہہ دیا تھا۔ ان کی غیور اور خوددار طبیعت نے یہ بھی گوارا نہیں کیا کہ بعد از مرگ کسی کو مرثیہ لکھنے کی زحمت دوں۔
والد صاحب سادہ دل، سادہ مزاج اور درویش طبع انسان تھے وہ ہر تکلف سے بری تھے۔ مہمان نواز تھے اور اگر کوئی مہمان تکلف سے کام لیتا تو ذوق کا یہ شعر پڑھتے:
——
اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر
اچھے ہیں وہی جو کہ تکلف نہیں کرتے۔
——
مجھے بلاتے اور کہتے کہ دیکھو تحسین فراقی صاحب آۓ ہیں۔ چاۓ کا کہو اور دیکھو بساکیٹ ( بسکٹ کی جمع یہی کرتے تھے) بھی لے کر آنا۔ بس پھر ایک طویل نشست ہوتی، سارے گھر میں والد صاحب کے قہقہوں کی گونج سنائی دیتی اور وقفے وقفے سے چاۓ کے دور چلتے رہتے۔ جب وہ رخصت ہونے لگتے تو کہتے کہ یار چاۓ کا ایک اور دور ہو جائے۔
کسی کے گھر مہمان بن کر جاتے اور وہ خاطر مدارات کرتا تو اسے بھی بے تکلفی اور شکم پروری کا حوصلہ افزا پیغام دیتے ہوئے کہتے: “جناب! تکلف مت کریں، اپنا ہی گھر سمجھیں”۔
کراچی سے مشفق خواجہ ( خامہ بگوش) کا خط آتا تو اسے بہت اشتیاق سے پڑھتے، خط پڑھتے جاتے اور مسلسل با آوازِ بلند قہقہے لگاتے۔ ہم یہی سمجھتے کہ ابا حضور لطیفوں کی کتاب خرید لائے ہیں۔ خواجہ صاحب کے اسلوب میں جو حسِ لطافت اور مزاح ہوتا ہے وہی ان خطوط میں بھی موجود ہے۔ مشفق خواجہ صاحب جب بھی لاہور آنے کا قصد کرتے تو دس بارہ دن پہلے ہی خط کے ذریعے اطلاع کر دیتے اور یہ نوید بھی سناتے کہ آپ سے ملاقات نہیں، ملاقاتیں رہیں گی۔ برادرم تحسین فراقی سے آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ میں کہاں کہاں آپ کے لیے چشم براہ رہوں گا۔
ان کی آمد کے ساتھ ہی ظہرانوں اور عشائیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جاتا جس میں ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، ڈاکٹر تحسین فراقی، ڈاکٹر اورنگ زیب عالمگیر اور قبلہ والد صاحب پیش پیش ہوتے۔
بچپن میں والد صاحب ہم بہن بھائیوں کو گھمانے پھرانے بھی لے جاتے تھے۔ ایسا صرف گرمیوں کی چھٹیوں میں ہوا کرتا تھا۔ گھر کے قریب ہی گول باغ ہے۔ رات کے وقت ہم بہن بھائی ابا حضور کے ساتھ ساتھ پیدل مارچ کرتے ہوئے پہنچ جایا کرتے۔ باڑوں اور پتوں میں جگنوؤں کی روشنی ہوتی تھی۔ جگنو دیکھتے ہی والد صاحب شعر گنگنانے لگ جاتے:
——
جگنو میاں کی دم جو چمکتی ہے رات کو
سب دیکھ دیکھ اس کو بجاتے ہیں تالیاں
——
یا پھر اقبال کا شعر پڑھتے:
——
جگنو کی روشنی ہے کاشانہ ء چمن میں
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں
——
وہ جگنوؤں کی اس مدھم روشنی میں بہتے بہتے کہیں دور، بہت دور اپنے بچپن کی سرحد پر پہنچ جایا کرتے اور ہم کھیلتے کھیلتے ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے۔ اب جب ہم خود عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے ہیں تو یہ راز، راز نہیں رہا کہ ان کی غزل میں جگنو کی علامت اتنی توانا اور روشن کیوں ہے اور اس کا جادو سر چڑھ کر کیوں بولتا ہے۔
اقبال اور ظفر علی خاں ان کے محبوب شاعر تھے۔ غالب کی شاعرانہ عظمت کے قائل ہی نہیں، گھائل بھی تھے۔
یہ مشہور زمانہ پیروڈی والد صاحب ہی کی اختراع ہے:
——
غالبِ خستہ کے بغیر سارے ہی کام بند ہیں
روئیے زار زار بھی، کیجیے ہائے ہائے بھی
——
انٹر میڈیٹ کے دوران میں نے شاعری بھی شروع کر دی لیکن ڈرتے ڈرتے۔ والد صاحب شاعری کو باعثِ عزت و احترام نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ شاعری اقبال و ظفر علی خاں جیسی ہو تو سبحان اللہ! ورنہ یہ بے کار کام ہے۔ خیر ہم کہاں باز آنے والے تھے:
چپکے چپکے گھر میں بیٹھے شاعری کرتے رہے
اب صورت حال یہ ہوتی تھی کہ فزکس کی کتاب میں شکیب جلالی کا مجموعہ غزلیات چھپا رکھا ہے اور خوب محنت کی جا رہی ہے۔ سردیوں میں” نسخہ ہاۓ وفا” سے براہ راست فیض حاصل کیا جا رہا ہے۔ اب اگر والد صاحب اچانک آ جاتے ہیں تو فیض صاحب، کمبل پوش ہو جاتے ہیں اور آغوش میں کیمسٹری کی کتاب کھلی ہوئی ہے۔ خیر یہ آنکھ مچولی دو سال چلتی رہی اور جب رزلٹ آیا تو ہم فزکس، کیمسٹری میں فیل تھے۔
ہم نے والد صاحب سے بہ صد عجز و نیاز عرض کیا کہ یہ سائنس وائینس ہمارے بس کا روگ نہیں ہے۔ ہم اردو فارسی پڑھیں گے اور والد صاحب نے بھی کمال شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اجازت مرحمت فرما دی۔
——
یہ بھی پڑھیں : پروفیسر سید وقار عظیم کا یوم پیدائش
——
ایک دن ہماری بیاض ان کے ہاتھ لگ گئی اور انہوں نے ہماری غزلوں کا لسانی اور غیر پارلیمانی مطالعہ شروع کر دیا۔ ایک شعر پر آ کر توقف کیا، پھر پن سے اس شعر کو دائرے میں محصور کیا اور ہمارے کمرے میں گرجتے برستے آن پہنچے۔ ہماری بیاض ہمارے ہاتھوں میں تھما کر کہا کہ پڑھو! یہ کیا بکواسیات ہے۔ ہم نے اس شعر کا بغور مشاہدہ کیا لیکن
ہمیں تو کوئ فنی یا عروضی سقم دکھائی نہیں دیا:
——
دیر تک اتری رہی دریا میں وہ
دیر تک پھر موج میں دریا رہا
——
پھر کہنے لگے کہ کوئی شرم و حیا ہوتی ہے، کوئ تہذیب و شائستگی ہوتی ہے۔
ہمیں تو کوئ فنی یا عروضی سقم دکھائی نہیں دیا:
ہم نے نہایت متانت اور سنجیدگی سے کہا کہ ابا حضور ! تہذیب و شائستگی، تحقیق و تدوین میں ہو تو ہو، شاعری میں اس کا کیا کام ہے۔
اس مدلل جواب کے بعد تو وہ باقاعدہ جلال میں آ گئے اور بولے: الو کے پٹھے! میں تمہاری بات کر رہا ہوں، شاعری کی نہیں۔۔۔۔۔
ہم نے کہا پھر تو آپ بر حق ہیں، آئیندہ احتیاط سے کام لوں گا۔۔
پروفیسر رانا ناہر نے ہمیں خاصا ٹف ٹائم دیا۔ ایم اے اردو کے دوران میں اکثر کوئی نیا مضمون بغل میں دبائے، منہ اٹھائے ہمارے درِ دولت پر حاضر ہو جاتا تھا۔ کبھی حفیظ تائب کی نعت گوئی پر مضمون لکھ لاتا تو کبھی ڈاکٹر جعفر بلوچ صاحب کی نعت گوئی کے گن گانے لگتا۔ میں نے اس سے اشاروں کنایوں میں بارہا سمجھایا کہ باز آ جاؤ۔ تم تو غم دے کے بھول جاتے ہو، میری پریڈ مارچ شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے جانے کے بعد والد صاحب مجھے طلب کر لیا کرتے اور فضیحت آمیز نصیحتیں شروع ہو جایا کرتیں۔ رانا اور بلوچ کا تقابلی جائزہ لیا جاتا اور بلوچ رجمنٹ ہمیشہ شکست و ریخت سے دو چار ہوتی۔ ۔ ان دنوں رانا ناہر مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ اب کچھ عرصہ ہوا ہے تو ہمارے معاملات اور تعلقات انسانی سطح پر لوٹ آۓ ہیں۔ ۔ معاملہ صرف ایک رانا ناہر تک محدود ہوتا تو پھر بھی صبر آ جاتا۔
اگر کسی نے ٹائیپنگ کا کورس کیا ہے، یا کوئ کمپیوٹر کا ڈپلومہ کیا ہے اور کاغذات تصدیق کرانے آ گیا ہے تو اس سے بھی متاثر ہو کر مجھے یہی کہا جاتا کہ دیکھو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور تم شاعری کرتے پھرتے ہو۔ آج ان قدر شناسانِ ماہ و سال میں سے کوئی کلرک ہے تو کوئی کسی دکان پر منشی۔
ایک دن حفیظ تائب کی غزلیات کا مجموعہ ” نسیب ” مجھے عطا کیا اور کہنے لگے کہ اس پر تنقیدی مضمون لکھ دو۔ اتفاق سے مجذوب خیالی بھی تشریف فرما تھے۔ کہنے لگے: حفیظ تائب تو غزلوں سے توبہ تائب ہو چکے ہیں اور اپنے آپ کو حمد و نعت اور منقبت تک محدود کر لیا ہے۔ اب ان کی غزل گوئی پر تبصرے کا صاف مطلب تو یہی ہے کہ:
——
آپ بھی شرم سار ہو، اس کو بھی شرم سار کر
——
والد صاحب خاموش ہو گئے اور ہم رفو چکر۔
اولاد کی کامیابیوں اور کامرانیوں پر بہت خوش ہوتے اور طرح طرح سے اس کا اظہار بھی کیا کرتے۔ بڑی بہن سعدیہ حسن نے ایم اے اردو میں گولڈ میڈل حاصل کیا تو اسے کئی مہینے داد و تحسین سے نوازتے رہے۔ مجید امجد کا کلیات بطور تحفہ عنایت کیا۔ ۔ جامعاتی تحقیق سے نالاں ہی رہتے تھے۔ جب کوئ نا اہل پی ایچ ڈی کر لیتا تو دوسروں کو فخریہ کہا کرتے کہ دیکھو وہ نالائق بھی ڈاکٹر ہو گیا ہے۔ شکر ہے میں نے پی ایچ ڈی نہیں کی۔ ورنہ ہم دونوں میں کیا فرق رہ جاتا۔
اکثر اپنا ہی تضمین کردہ قطعہ پڑھا کرتے تھے:
——
جب نظر آۓ کوئی پی ایچ ڈی
یاد آتیں ہے بات سعدی کی
نے محقق بود، نہ دانش مند
چارپاۓ برو کتابے چند
——
“اردو میں حمدیہ شاعری” کے موضوع پر والد صاحب پی ایچ ڈی کر رہے تھے لیکن تاخیر ہو گئی اور فراقی صاحب نے کہا: لو جی جعفر صاحب فنا فی اللہ ہو گئے ہیں۔
بعد ازاں بڑی بہن سعدیہ حسن نے اسی موضوع پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
اکثر کہا کرتے تھے کہ میری شادی اکیس سال کی عمر میں ہو گئ تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ لیٹ ہوئ تھی۔ اب تم چوبیس سال کے ہو کر بھی مجرد زندگی بسر کر رہے ہو۔ اگر کوئی ایسی ویسی بات ہے تو اس (محبت) کا نام ایک چٹ پر لکھ کر میرے سرہانے کے نیچے رکھ دو، میں دیکھ لوں گا۔ میں نے جھجک اور شرم سے کام لیا۔ آج سوچتا ہوں کہ کاش وہ وقت لوٹ آۓ تو میں ایک کیا، تین تین چٹیں لکھ کر سرہانے کے نیچے رکھ دوں۔
یاد ماضی کے اوراق پہ جا بجا اب یہ تحریر ہے
چاہیے تو یہ تھا، چاہیے تو یہ تھا، چاہیے تو یہ تھا
میرے امریکہ پلٹ ماموں زاد کی شادی خانہ آبادی کی تقریب پرل کانٹی نینٹل ہوٹل لاہور میں منعقد ہوئی۔ والد صاحب خصوصی طور پر سہرا لکھ کر لاۓ جس کا آخری شعر خاص طور پر توجہ طلب ہے:
——
اب اس سہرے کا اتنا تو اثر فی الفور ہو جائے
ہماری بھی کم از کم ایک شادی اور ہو جائے
——
والد صاحب شوگر کے مریض بھی تھے اور شوگر کے خوگر بھی۔ دوست احباب اور اہلِ خانہ لاکھ سمجھاتے لیکن کسی کی نہیں سنتے تھے۔ چاۓ میں چینی کی بجائے شکر کے دو چمچ ڈال لیتے تھے لیکن چینی کی کمی گاجر کے حلوے، گڑ اور مٹھائی سے پوری کر کے دم لیتے۔
“علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خاں” اقبال اکادمی پاکستان، لاہور سے شائع ہوئی۔ مشفق خواجہ صاحب نے کراچی سے خط لکھ کر داد و تحسین سے خوب نوازا اور کہا کہ کیا شان دار اور مردوں والا کام کیا ہے، سبحان اللہ!
این کار از تو آید و مرداں چنںن کنند۔
تحسین فراقی صاحب تو یار غار تھے، روز کا ملنا جلنا۔ شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا کہ انار کلی، اردو بازار اور اوری اینٹل کالج کی تکون نا مکمل رہ جائے۔ فراقی صاحب کی موٹر سائیکل پر کوچہ بہ کوچہ اور کو بہ کو سیر و سیاحت ہوتی۔ کتابیں خریدی جا رہی ہیں، مشاعرے پڑھے جا رہے ہیں اور تنقیدی جلسوں میں شرکت ہو رہی ہے۔ خانہ اور اہل خانہ راہ تک رہے ہیں اور والد صاحب فراقی صاحب کی موٹر سائیکل پر بیٹھے یہی نغمہ جاں فزا گا رہے ہیں:
——
سراسر ہے وصالی ذات اس کی
براۓ نام ہے تحسیں ، فراقی
——
ایک دن دونوں دوست اسی تاریخی موٹر سائیکل پر رواں دواں تھے اور بے خبری میں سرخ بتی ( ریڈ سگنل ) کو ہرا سمجھ کر محوِ سفر رہے۔ کچھ فاصلے پر ٹریفک وارڈن اپنے شکار کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور پر تپاک استقبال کرتے ہوئے دونوں دوستوں سے مصافحہ کیا۔ اس سے پہلے کہ معانقے کی نوبت آتی فراقی صاحب نے اپنا تعارف کرایا کہ میں پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں اور جعفر صاحب سائئنس کالج میں اردو کے پروفیسر ہیں۔ ٹریفک وارڈن نے شکار ہاتھ سے نکلتے ہوئے دیکھا تو بے بسی کے عالم میں کہنے لگا : اشارے توڑی جاندے او۔ جے پروفیسراں دے اے حال اے تے شاگرداں دا فیر اللہ ای حافظ اے ”
انہی دنوں والد صاحب نے نئی کار مہران خریدی تھی۔ ایک دن فراقی صاحب اپنی موٹر سائیکل پر آۓ اور دونوں دوستوں نے کسی شادی کے سلسلے میں ڈیفنس جانا تھا۔ والد صاحب نے کہا یار ایسا کرتے ہیں گاڑی پر چلتے ہیں، تم اپنی موٹر سائیکل اندر گیراج میں کھڑی کر دو۔ والد صاحب کو ڈرائیونگ نہیں آتی تھی۔ فراقی صاحب نے ڈرائیونگ کی اور ڈیفنس پہنچ گئے۔ واپسی پر شادی ہال سے نکلے تو دیکھا کہ قطار اندر قطار گاڑیاں کھڑی ہیں۔ اب یہ طے ہو گیا کہ اپنی گاڑی سوزوکی مہران ہی تھی اور رنگ بھی سفید ہی تھا لیکن گاڑی کا نمبر یاد نہیں تھا۔ اللہ کا نام لے کر ایک دو گاڑیوں میں چابی گھمائ۔ آخر کار ایک مہران مہربان ہو گئ اور اس نے اپنا در وا کر دیا۔ دونوں دوست بیٹھ گئے۔ اب سٹارٹ کرنے کی کوشش کی تو گاڑی نے صاف انکار کر دیا۔ ابھی اس طرہ پر پیچ و خم کا آخری خم باقی تھا کہ گاڑی کا اصل مالک آن پہنچا اور انہیں غصے سے گھورنے لگا۔ دونوں دوست باہر نکلے اور معذرت کی کہ غلط فہمی میں ایسا ہو گیا ہے۔
اردو بازار اور انار کلی میں حفیظ الرحمن احسن، خالد علیم اور دیگر احباب سے محفلیں جمتیں۔ ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب کے ساتھ تعلقِ خاطر رہا اور ان کا شعری مجموعہ” رائگاں” مجھے خاص طور پر دیا اور کہا کہ اسے دیکھو، کیسا خوب صورت شعری مجموعہ ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : پروفیسر عبد الغفور احمد کا یوم وفات
——
گورنمنٹ کالج لاہور میں پروفیسر مشرف انصاری، پروفیسر صابر لودھی اور ڈاکٹر سعادت سعید صاحب سے تعلقِ خاطر رہا اسی طرح سائنس کالج میں پروفیسر عمر فیضی، ڈاکٹر سید معراج نیر زیدی، ڈاکٹر علی محمد خاں، ڈاکٹر عبدالغنی فاروق، ڈاکٹر ناصر بلوچ، پروفیسر سید محمد اختر اور پروفیسر آفتاب حسین صاحب کے ساتھ خوش گوار صحبتیں رہتیں۔
پروفیسر سید محمد اختر ہمیں انٹرمیں اردو پڑھایا کرتے تھے۔ والد صاحب کی درخواست پر انہوں نے میرے سیکشن کو اردو لازمی پڑھائی۔ ہمیشہ مجھے کلاس میں کھڑا کر دیتے اور نظم و نثر پڑھنے کا حکم دیا کرتے۔ بہت زندہ دل اور محبت سے پڑھانے والے استاد ہیں۔ اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ آفتاب حسین اردو غزل کی توانا آواز ہیں۔ ان پر بہت مہربان رہتے تھے۔ شعرو سخن کے حوالے سے ہم آہنگی بھی تھی اور بے تکلفی بھی۔ “مطلع” پر آفتاب حسین صاحب کو داد و تحسین سے نوازا اور مجھے بھی کہا کہ دیکھو کیسا جان دار شعری مجموعہ یے۔
ڈاکٹر عبداللہ شاہ ہاشمی صاحب ریٹائر ہو چکے ہیں۔ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے والد صاحب کے اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کرتے ہیں۔ مجھے قیمتی اور نوادر کتابوں کے تحفوں سے مسلسل نوازتے رہتے ہیں۔
اپنے تلامذہ کی تربیت میں ہمیشہ مشغول اور منہمک رہتے۔ ان کی ضروریات کا خیال رکھتے تھے اور ہر حوالے سے تعاون کے لیے کمر بستہ رہتے تھے۔ تیمور حسن تیمور پر تو بہت مہربان تھے۔ اس کو ایک حادثے میں شدید چوٹیں آئیں تو ڈاکٹر علی محمد خاں صاحب کے ساتھ ہسپتال گۓ اور بعد ازاں اس کے گھر جا کر بھی تیمار داری کی۔ تیمور حسن تیمور نے بھی ہر پلیٹ فارم پر اپنے محبوب استاد کی شعری عظمت کا پرچم سر بلند رکھا۔ اپنے پہلے شعری مجموعے”غلط فہمی میں مت رہنا” کا انتساب اپنے استاد محترم کے نام کیا. ان کا شخصی خاکہ لکھا جو سائینس کالج کے ادبی مجلے کی زیب و زینت بنا اور ان کے حوالے سے خوب صورت نظم بھی کہی جس کی مہک اور خوشبو سے گورنمنٹ کالج لیہ کے میگزین” تھل” کا گوشہء ڈاکٹر جعفر بلوچ معطر ہو رہا ہے۔ والد صاحب کے بے شمار تلامذہ اور ارادت مند بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ بہت سے شعبہ ء تعلیم سے وابستہ ہیں۔ صالح طاہر، پروفیسر احمد علیم، پروفیسر ڈاکٹر نعیم بزمی، پروفیسر توفیق بٹ، پروفیسر اشفاق احمد ورک، پروفیسر جمیل احمد عدیل پروفیسر خالد محمود، برادرم راشد ظہور، ڈاکٹر تیمور حسن کے علاوہ بھی بے شمار شاگرد ہیں جو والد صاحب کی نسبت سے اس خاکسار کو عزت و تکریم سے نوازتے ہیں اور بھولی بسری یادوں کو ترو تازہ اور سرسبز وشاداب کر دیتے ہیں۔
اہالیانِ لیہ کے لیے تو دیدہ و دل فرش راہ کیے رکھتے اور چشمِ ما روشن، دلِ ما شاد کا عملی مجسمہ بن جاتے۔ پروفیسر مہر اختر وہاب، ڈاکٹر افتخار بیگ، ڈاکٹر مزمل حسین، پروفیسر ریاض راہی، پروفیسر کاشف مجید، سلیم گرمانی اور احسن بٹ کے ساتھ لیہ کے ادبی افق کو گرما گرم نورانی چاۓ کے ساتھ روشن تر کیا جاتا۔ لیہ سے پروفیسر مہر اختر وہاب کا فون آ جاتا تو ایسا محسوس ہوتا کہ والد صاحب بہ نفسِ نفیس لیہ پہنچ گئے ہیں۔ ڈھیروں باتیں ہوتیں اور ہم سمجھ جاتے کہ اب فون بک ہو گیا ہے۔ پروفیسر مہر اختر وہاب صاحب گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لیہ سے بہ طور پرنسپل ریٹائر ہوئے ہیں اور جاتے ہوۓ بھی کالج میگزین” تھل” 2020_2019 کو گوشہء جعفر بلوچ سے آراستہ و پیراستہ کر دیا ہے۔
جنوری 2007 میں ڈاکٹر جعفر بلوچ ریٹائر ہوئے تو پنشن کے پیچیدہ اور گنجلک مسائل نے آن گھیرا۔ شوگر کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اے جی آفس کی چڑھتی ہوئی سیڑھیوں نے زندگی کو اور مشکل بنا دیا:
——
زندگی مشکل ہے اور مشکل بہت
——
یمور حسن کو علم ہوا تو اس نے عباس تابش صاحب کو فون کر کے کہا کہ سر آپ کے دوست شکیل جاذب اکاؤنٹس میں اتنے بڑے افسر ہیں، کچھ کیجیے۔ اگلے ہی دن تیمور حسن، عباس تابش صاحب اور شکیل جاذب صاحب ہمارے گھر تشریف لے آئے اور یوں یہ مراحل بھی طے ہو گئے۔
شعر گوئی اور علم العروض کے حوالے سے شاگردوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ جو طالب علم زانوئے تلمذ تہہ کرنا چاہتا اس کے لیے اول و آخر شرط یہی ہوتی تھی کہ غالب اور اقبال کے کم از کم پچاس پچاس اشعار ازبر ہوں۔ اس کڑے معیار پر کم ہی لوگ پورا اترتے تھے زیادہ تر جوازِ پیش و پس فراہم کر کے لوٹ جاتے تھے۔ سیکھنے اور سکھانے کے معاملے میں کبھی شرم، تکلف یا بخل سے کام نہیں لیا۔ والد صاحب شہیدِ ذوقِ تغزل تھے اس لیے یہ تو کہا جا سکتا ہےکہ بعض معاملات میں ڈاکٹر جعفر بلوچ کم گو اور کم آمیز تھے لیکن زندگی کے بے شمار امور میں ان کی فہم و فراست اور بصیرت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
شوگر کو جوانی سے پال رکھا تھا۔ اگر کوئی پوچھتا کہ شوگر کا کیا حال ہے تو قہقہہ لگا کر کہتے کہ بہت مزے میں ہے، تن درست اور توانا۔ البتہ میرا حال پتلا ہے۔ ایک مرتبہ معروف شاعر نوید صادق گھر تشریف لائے تو انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر اندرون خانہ چلے گئے۔ واپسی پر ہاتھ میں ایک پلیٹ تھی۔ ڈرائنگ روم کا در بند کیا اور چٹخنی چڑھا کر کہنے لگے کہ یہ کھجوریں لیہ سے آئی ہیں اب میں تمہارا نام لے کر لے آیا ہوں اور میں اکیلا ہی کھاؤں گا۔ تم صبر و تحمل سے کام لینا۔
شدید گرمی میں بہت بے چین رہتے تھے۔ گھر سے بہت کم نکلتے۔ رات کو صحن میں چھڑکاؤ کرتے اور اپنی چارپائی کے چار پایوں کے نیچے کٹورے رکھ کر انہیں سیراب کر دیا کرتے۔ صبح دم سطحِ آب پر چیونٹیوں کے لاشے تیر رہے ہوتے تھے
22 اگست 2008 کی رات کو سینے میں درد اٹھا۔ کچھ درد تو شوگر نے محسوس نہیں ہونے دیا اور کچھ درد والد صاحب نے ضبط کر لیا۔ صبح مجھے بتایا تو ہم سیدھے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچے۔ وہاں اپنے دو شاگردوں کو تلاش کرنے کا کہا جو ڈاکٹر تھے۔ آخر کار ان کو داخل کر لیا گیا لیکن دل کا معاملہ تھا اور کافی دیر ہو چکی تھی۔ پانچ دن زندگی اور موت کی کشمکش جاری رہی۔ 27 اگست کی صبح کو تین بجے کے قریب قبلہ والد صاحب نے قبلہ رخ ہو کر داعی اجل کو لبیک کہہ دیا
——
گرمیوں کے تھے ستاۓ ہوئے جعفر صاحب
بعد مرنے کے سلایا انہیں تہہ خانے میں
——
منتخب کلام
——
کشاد ذہن و دل و گوش کی ضرورت ہے
یہ زندگی ہے یہاں ہوش کی ضرورت ہے
سنائی دے گی یقیناً ضمیر کی آواز
مخاطبین سبک گوش کی ضرورت ہے
اب احتیاج نہیں سرو‌ قامتوں کی مجھے
مجھے تو اب کسی ہم دوش کی ضرورت ہے
خروش خم کا بھرم کھولنا ہے کیا مشکل
بس ایک رند بلا نوش کی ضرورت ہے
نگار صبح کے آنسو سمیٹنے کے لیے
گلوں کو وسعت آغوش کی ضرورت ہے
کہیں فقط متکلم سکوت کی حاجت
کہیں تکلم خاموش کی ضرورت ہے
——
وہ شخص میری رسائی سے ماورا بھی نہ تھا
بشر بھی خیر نہ ہوگا مگر خدا بھی نہ تھا
کہا شعور نے اس وقت حرف قم مجھ سے
کہ لا شعور جگانے سے جاگتا بھی نہ تھا
عجب تھی ساعت آغاز گلستاں بندی
نوید گل بھی نہ تھی مژدۂ صبا بھی نہ تھا
وہ ابتدائےسفر اب بھی یاد آتی ہے
سی میں میری رفاقت کا حوصلہ بھی نہ تھا
غلط نما و غلط بیں ہیں بعض آئینے
اس اعتراض کو نقاد مانتا بھی نہ تھا
شہید ذوق تغزل تھا کم سخن جعفرؔ
غزل کی بات نہ چلتی تو بولتا بھی نہ تھا
——
اگرچہ آہ سر شام بھی ضروری ہے
دل ستم زدہ آرام بھی ضروری ہے
ستم شعار کی تفریح سامعہ کے لیے
خروش مرغ تہ دام بھی ضروری ہے
ضیائے کرمک شب تاب ہی نہیں کافی
ستارۂ سحر انجام بھی ضروری ہے
گراں بہا ہے مباحث کی شبنم آگینی
اگرچہ برش صمصام بھی ضروری ہے
بڑی ہے بات تو منہ بھی بڑا مہیا کر
پھر اس کے ساتھ بڑا نام بھی ضروری ہے
سکوت گل کا اگر ناگزیر ہے جعفرؔ
تو عندلیب کا کہرام بھی ضروری ہے
——
کتنی سزا ملی ہے مجھے عرض حال پر
پہرے لگے ہوئے ہیں مری بول چال پر
کہتے ہیں لوگ جوشش فصل بہار ہے
پھولوں کا جب مزاج نہ ہو اعتدال پر
تو اپنی سسکیوں کو دبا اپنے اشک پونچھ
اے دوست چھوڑ دے تو مجھے میرے حال پر
پھر آج عصمتوں کی جبیں ہے عرق عرق
تہمت لگی ہے پھر کسی مریم خصال پر
محسوس بارہا یہ ہوا ہے کہ زندگی
اک برف کی ڈلی ہے کف برشگال پر
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات