اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف شاعر احسان دانش کا یومِ پیدائش ہے

احسان دانش(پیدائش: 15 فروری، 1914ء- وفات: 22 مارچ، 1982ء)
——
جہان دانش اور احسان دانش از راحت علی صدیقی
——
احسان دانش کی زندگی مشکلات و مصائب سے عبارت ہے، وہ زندگی کے ہر موڑ پر تکلیف دہ مراحل سے نبرد آزما ہوئے ہیں، بچپن سے ہی غربت کے شکنجہ میں کسے گئے بھر پیٹ کھانا بھی میسر نہیں آیا، تعلیمی میدان میں بھی ترقی کے منازل طے نہیں کرپائے اور غربت و افلاس راستہ کی دیوار بن گیا ، محض چوتھی جماعت تک ہی تعلیمی سلسلہ جاری رہ سکا ، اس کے بعد کتابیں تو دور روٹی کے لئے بھی پیسہ میسر نا ہوسکا، چنانچہ نکل پڑے اس راہ پر جہاں آرزوئیں دم توڑ دیتی ہیں، خواب دیکھنے کا موقع ہی فراہم نہیں ہوتا ہے اور جو خواب سنجو رکھے ہوں ، وہ بھی ذہن و دماغ سے محو ہو کر رہ جاتے ہیں، انسان کولہو کے بیل کے مثل ہوجاتا ہے، جس کا کام صرف چلنا ہے، احسان دانش بھی ایسی ہی صورت حال سے دوچار تھے،انہوں نے نم آنکھوں سے بستہ رکھا، اور پھاؤڑا و بیلچا اٹھا لیا، مزدوری کرنی شروع کردی، مختلف قسم کی مزدوریاں کیں، جسم کو تھکا دینی والی، ذہن کو اذیت میں مبتلا کرنے والی،جب مسائل حل ہوتے نظر نہیں آئے،محنت و مشقت کے باوجود حالات تکلیف دہ ہی رہے، تو ہجرت کی اور وطن چھوڑا، کاندھلہ کے محبت بھرے ماحول کو چھوڑ کر لاہور چلے گئے،وہاں مشکلات سے مقابلہ رہا،مزدوریاں کی،معمار بنے چپراسی بنے ،پہرے داری کی، رات رات بھر جاگے،ان تمام پریشانیوں کے باوجود خوابوں کے جزیروں کا سفر کرتے رہے،اور خوابوں کے تحفظ کے لئے کوشاں رہے،کتابوں سے تعلق استوار رکھا،مطالعہ کا سفر جاری رکھا ،جس کے باعث تخلیقی عمل جاری رہا ،اور وہ اپنے خوابوں کے حصول کی کوشش کو زندہ کئے رہے،اگر چہ ان کی تخلیقات میں تجربہ و مشاہدہ کا عکس زیادہ نظر آتا ہے،البتہ مطالعہ نے ان کی شخصیت کو جلا بخشی ان کی فکر میں وسعت اور تنوع پیدا کیا جس کا اظہار ان کی تخلیق و تنقید سے بخوبی ہو جاتا ہے،احسان دانش نے اپنی محنت کے بل پر اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کیا اور اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگئے، احسان دانش کی زندگی کا سفر قابل رشک ہے،غربت و افلاس اور کم علمی سے شروع ہوا یہ سفر متحیر کن منزل پر اختتام پزیر ہوا،اس کا اندازہ لگانے کے لئے یہ جان لینا کا فی ہے،کہ احسان دانش کے بیس سے زائد شعری مجموعہ زیور طباعت سے آراستہ ہوچکے ہیں ،اور اردو نثر میں ان کی سات کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ،جو خودنوشت تذکرہ لغت تنقید اردو قواعد جیسے موضوعات پر مشتمل تھیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز شاعر ، صحافی ڈاکٹر آذر تمنا کا یومِ وفات
——
احسان دانش کی زندگی کے سفر کا مطالعہ آنکھوں کو نم کرتا ہے، قلب کو تکلیف میں مبتلا کرتا ہے، لیکن جوں جوں سفر آگے بڑھتا ہے، آنکھوں میں چمک آنے لگتی ہے، غم رشک کی شکل اختیار کرلیتا ہے، احسان دانش کی زندگی کا مقام و مرتبہ سمجھ میں آنے لگتا ہے، احسان دانش نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کو جہان دانش کے صفحات پر بڑی خوبی سے رقم کردیا ہے، جس وقت انہوں نے یہ سب کیا اس وقت ظاہر بات ہے کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اتنا بلند مقام حاصل کریں گے، شاید انہیں اس کا احساس نہ ہو، اس وقت یہ یادیں ان کے سینہ میں محفوظ ہورہی تھیں، جن کو بعد میں احسان دانش نے صفحات پر رقم کردیا ، اور اپنی زندگی کو کھلی کتاب کی طرح پیش کردیا ہے، تصنع و تکلف سے گریز کرتے ہوئے حقائق کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے،قارئین کو احساس دلایا ہے کہ حوصلہ و محنت کے ذریعہ زندگی کے مشکل سے مشکل سوال کو حل کیا جا سکتا ہے، احسان دانش کا مقصد بھی یہی ہے، اس آپ بیتی کو پڑھنے والے حوصلہ و ہمت کی گراں قدر دولت سے مالامال ہوں اور اس زندگی سے سبق حاصل کریں، اپنی زندگی کے مسائل سے ہمت کے ساتھ مقابلہ کریں، وہ اپنی خودنوشت کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں،جس کا اظہار انہوں نے ان الفاظ میں کیا ہے:
’’میرے دھندلے دھندلے نقوش حیات ہیں اور اس خیال سے پیش کر رہا ہوں کہ شاید کسی رخ سے انسانیت کے لئے مفید ہوں۔‘‘(جہان دانش ،ص:13)
احسان دانش نے ذاتی مفاد کے لئے جہان دانش کو سپرد قرطاس نہیں کیا ہے، جیساکہ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے، وہ غربت اور تنگ دستی کی مشکلات سے دوچار تھے، لیکن خوددار تھے،ان کی پوری زندگی کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ چاپلوسی کاسہ لیسی اور مکر و فریب جیسے اوصاف رذیلہ ان میں نظر نہیں آتے ہیں، اس وجہ سے ان کی یہ ترقی مزید متحیر کن ہے، مذکورہ چالوں سے ترقی کے منازل آسانی سے طے کئے جاسکتے ہیں،اگرچہ اس صورت حال میں منزل مقصود پر پہونچ کر سکون و اطمینان نصیب ہوتا ہے، احسان دانش کے یہاں یہ تمام چیزیں نہیں ہیں وہ بھوکا رہنا تو پسند کرتے ہیں، لیکن قرض کا مطالبہ بھی برادشت نہیں کرتے چہ جائیکہ داد و امداد کی طلب جہان دانش میں بھی اس کا اظہار انہوں نے کیا ہے، اور اپنی یادوں کے اس قیمتی تحفہ کو سپرد قرطاس کرنے میں تاخیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’یہ کتاب جہان دانش جو آپ کے سامنے ہے میں نے اسے کئی بار لکھنے کا ارادہ کیا لیکن اپنے حالات کی طرف دیکھ کر اس خیال سے خاموش ہو گیا کہ کہیں پڑھنے والے اسے رحم کی درخواست نہ سمجھ لیں۔‘‘جہان دانش ، ص:11)
ان الفاظ میں احسان دانش کی غیرت خودداری انا قناعت اور بے نیازی کو بخوبی پرکھا جاسکتا ہے، ظاہر بات ہے جس شخص میں اتنی خوبیاں ہوں، اور اس کی زندگی میں اتنے نشیب و فراز ہوں تو اس کی روداد زندگی کتنی دلکش ہوگی، اور اس کا مطالعہ ذہن و قلب کے لئے کسی عطیہ سے کم نہیں ہوگا، جس میں مفلسی کے عتاب واضح ہوں گے، اور ہمت و حوصلہ کے ثمرات بھی نظر آئیں گے۔ (یہ بھی پڑھیں احسان دانش :شاعر فطرت – راحت علی صدیقی قاسمی)
جہان دانش میں احسان دانش کی زندگی کے اہم ترین واقعات قلم بند کئے ہیں، بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کے واقعات کو انہوں نے پیش کیا ہے،اس زمانے کے اہم ترین واقعات و حادثات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے،ادبی اور سیاسی صورت حال پر بھی اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی ہے، واقعات بیان کرنے میں سنین کا لحاظ کا نہیں کیا گیا ہے، جو واقعہ یادوں کے نقوش سے اتر کر نوک قلم پر آگیا اسے سپرد تحریر کردیا گیا، اس سے جہان دانش کے معیار پر حرف نہیں آتا ہے،چونکہ وہ تاریخی کتاب نہیں ہے،بلکہ شاعر مزدور کی یادوں کا خوبصورت گلدستہ ہے، یادوں کی روداد میں انہوں نے جس واقعہ کو اہم سمجھا ہے، اسے بیان کردیا کیا ہے، چاہے وہ بظاہر معمولی ہی نظر آتا ہو، جو واقعات ان کی نظر میں معمولی تھے ان کی جانب توجہ نہیں دی، اور طوالت سے بچنے کی کوشش کی ہے، حالانکہ اس کے باوجود کتاب طویل ہوگئے ہے ، لیکن اس کو پڑھتے ہوئے اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی ہے، صفحہ در صفحہ توجہ اور دلچسپی میں مزید اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
احسان دانش نے واقعات کا تاریخوں کے ساتھ تذکرہ نا کرنے کی وجوہات کو دیباچہ میں رقم کیا ہے، اور قارئین کے اشکالات کا بھرپور جواب دینے کی کوشش کی ہے، اس میں انہوں نے مرکزی طور یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ ان کا حافظہ ناموں اور تایخوں کو یاد کرنے سے قاصر رہتا ہے، جس کے باعث وہ تاریخوں کے تذکرہ کو چھوڑ رہے ہیں، اور واقعات تاریخ وسن کے تذکرہ کے بغیر پیش کر رہے ہیں، ان کے اس رویہ سے واقعات کی صداقت مشکوک ہونا فطری ہے جیسا کہ وہاج الدین علوی نے بھی اس سوال کو ذکر کیا ہے:
’’اسی طرح انہوں نے جہاں مشاعروں میں شرکت کا ذکر کیا ہے، اور لکھنؤ شملہ دہلی میرٹھ وغیرہ کی صحبتوں کا حال لکھا ہے، وہاں بھی سنہ وسال غائب ہیں،اس کی صداقت مشکوک اور متاثر ہوجاتی ہے، پوری خودنوشت میں اس بات کا التزام ملتا ہے، ایسا لگتا ہے احسان دانش نے عمدا تاریخی پہلو کو نظر انداز کر دیا ہے ۔‘‘(اردو خودنوشت فن و تجزیہ، وہاج الدین علوی ، ص: 183)
——
یہ بھی پڑھیں : نامور غزل گو اور صوفی شاعر اصغر گونڈوی کا یومِ پیدائش
——
میرے ذہن میں بھی جہان دانش کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوا، لیکن اس سوال کی تائید میں کوئی مضبوط دلیل سامنے نہیں آئی، شاعر مزدور کی ترقی کو ہضم کرنا لوگوں کے لئے آسان نہیں تھا، اور بعض لوگوں سے متعلق تو انہوں نے نام لیکر ان کی صورت حال ذکر کی تھی، مثلاً ساغر نظامی کا مشاعرہ میں بلاکر معاوضہ نا دینا اور اس کے علاوہ ان کے بارے میں سخت ترین جملے لکھے ہیں، اسی طرح لبھو رام کے گھر پر طرحی نشست کا انعقاد جس میں مرزا داغ کے مصرعے ــ’’دل کو تھاما ان کا دامن تھا کے‘‘ پر اشعار کہے گئے احسان دانش نے سب سے زیادہ اشعار کہے تھے، اس موقع پر جو شاعر موجود تھے، احسان دانش نے ان کا بھی تذکرہ کیا ہے، جب کتاب شائع ہوئی، تو یقینی تور پر ان لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچی ہوگی، اگر یہ واقعات جھوٹے ہوتے تو طوفان بدتمیزی برپا ہوگیا ہوتا، اور مختلف واسطوں سے وہ اشکلات ہم تک پہنچے ہوتے، لیکن کچھ نظر نہیں آتا، ’’لاہور کا جو ذکر کیا‘‘ میں گوپال متل نے احسان دانش کا ذکر کیا ہے، وہاں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آتی،لاہور کا جو ذکر کیا کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۱؁ء میں شائع ہوا تھا، لیکن دوسرا ایڈیشن جہان دانش کی اشاعت کے تین سال بعد منظر عام پر آیا اس میں بھی کوئی ایسی بات نظر آتی، جس سے یہ دعوی پختہ ہو جائے، اس کے علاوہ اردو میں خود نوشت سوانح حیات ڈاکڑ صبیحہ انور ،اردو خود نوشت فن و تجزیہ وہاج الدین علوی، آزادی کے بعد اردو خودنوشت سوانح حیات ڈاکڑ محمد نوشاد عالم تینوں میں جہان دانش پر تنقیدی مضمون شامل ہے لیکن کوئی جملہ بھی ایسا نقل نہیں کیا گیا جو جہان دانش میں جھوٹ کو ثابت کرتا ہو، اس لئے میرے دل میں پیدا ہونے والا یہ خیال ،خیال کی حد تک ہی ہے، حقیقت کی شکل اختیار نہیں کرتا ہے، ہر قاری اس خیال سے دوچار ہوسکتا ہے، اس کے علاوہ ایک اور خیال جہان دانش کے چند واقعات میں ذکرکی گء تفصیلات کو مشکوک کرتا ہے ، وہ خاص طور پر شمعی اور احسان دانش کی ملاقاتیں ہیں، جن میں جہان دانش کا زبان و بیان ناول کی سی شکل اختیار کرلیتا ہے، خاص طور پر جس طرح سے مکالمہ لکھے گئے ہیں، اور ملاقات کے ایک ایک جز کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، اس سے یہ احساس قوی طور پر پیدا ہوتا ہے ہیکہ ہم کسی ناول کا مطالعہ کررہے ہیں، اور احسان دانش کی یادیں اتنی دلکش خوبصورت ہوجاتی ہیں کہ قاری ان میں پورے طور پر ڈوب جاتا ہے، اور ناول کی سی لذت حاصل کرتا ہے، ان واقعات کے ذکر میں سب سے زیادہ باعث حیرت مکالمہ ہیں، جو احسان دانش اور شمعی کے درمیان وقوع پذیر ہوئے ہیں، یہی مکالمہ احسان دانش کی تخلیقی عظمت کا نشان بھی ہیں، اور اس کی صداقت مشکوک کرنے کا باعث بھی ہیں، حالانکہ ان پر بھی کوئی پختہ دلیل نہیں ہے، لیکن جس طرح ان واقعات کو پیش کیا گیا ہے،احسان دانش اور شمعی کے درمیان گفتگو کا تذکرہ کیا گیا،وہ سوالات پیدا کرتا ہے، اور یادوں کی بارات کے واقعات ذہن میں ابھرنے لگتے ہیں،حالانکہ احسان دانش نے شرم و حیا کا دامن اس تذکرہ میں نہیں چھوڑا ہے،اور ایک حد تک باحیا واقع ہوئے ہیں،جو یادوں کی بارات اور جہان دانش کا بنیادی فرق ہے،جہان دانش کی شمعی بھی طوائف ہونے کے باوجود اخلاق و کردار کی مثال ہے،وہ احسان دانش کی زندگی کو مرتب کرنے اور بلند مقاصد کی تکمیل کے لئے کوشاں رہنے میں بھی معاون و مددگار ہے ،شمعی کا تذکرہ جہان دانش کے لئے دلچسپی کا باعث ہیں، اور احسان دانش کی ترقی اور ان کے حوصلوں کو مہمیز کرنے میں ان کی فکر کو پختگی بخشنے میں،شمعی کا کردار نمایاں طور پر نظر آتا ہے، چند جملے پیش کرتا ہوں، جس سے بات مزید واضح ہو جائے گی۔
’’اول تو میں اپنے حالات سے ہی سرمایہ پرستوں اور مغرور حاکموں کی مخالفت پر تلا ہوا تھا، اس پر شمعی کی روزمرہ کی گفتگو نے میرے انداز فکر پر اور بھی سان لگادی، اب میرے مطالعہ میں صرف وہ کتابیں رہنے لگیں جو مظلوموں کی داستانوں اور ظالموں کے قصوں سے پر ہوتی ہیں، شمعی کے ذخیرہ کتب میں اساتذہ کے دواوین اور ناولوں کا ذخیرہ زیادہ تھا جو ذہنی تشنگی کا علاج تھا۔‘‘ (جہان دانش ، ص:167)
جہان دانش میں احسان دانش کے آباء و اجداد کا تذکرہ اختصار سے کیا گیا ہے،ان کا خاندان ایک زمانے میں قاضیوں کا خاندان تھا، لیکن غربت و جہالت ان کے خاندان میں کئی پشتوں سے چلی آرہی تھی،جس کا سب سے زیادہ حصہ انہیں نصیب ہوا،احسان دانش کے آباء واجداد کا تعلق باغپت سے تھا،البتہ احسان دانش کی پیدائش اپنی نانیہال کاندھلہ میں ہوئی، اس لئے جہان دانش میں وطن کے طور کاندھلہ ہی کا تعارف کرایا گیا ہے ،کاندھلہ کی جغرافیائی اور علمی وقعت ذکر کی گئی ہے،جن عظیم شخصیات نے اس سرزمین پر جنم لیا ،ان کے ناموں تذکرہ کیا گیا،بچپن کے حالات و واقعات کو بھی ذکر کیا گیا ہے ،گھر کا حال ٹوٹی چھت، ٹپکتا پانی ،،علاج کے لیے ماں کا ان کی آنکھ میں اپنا خون ڈالنا ،جن میں احسان دانش کا انگریزی بال کٹانے کا واقعہ بھی تفصیلی طور پر مذکور ہے، بچپن کے موسیقی کے شوق کا تذکرہ کیا ہے، جو بعد میں شاعری کی شکل اختیار کر گیا، تعلیم منقطع ہونے کی روداد ذکر کی گء ہے، جو انتہائی تکلیف دہ ہے، چوتھی جماعت کی کتابوں کے لئے ان کی والدہ نے برتن فروخت کر دئے تھے، اس کے بعد نا پیسے میسر ہوئے، اور نا احسان دانش اسکولی تعلیم حاصل کر سکے، البتہ اس مختصر مدت میں جن لوگوں سے وہ متاثر ہوئے، ان کا تذکرہ بھی جہان دانش میں بڑے دلکش انداز میں کیا گیا ہے، ان میں قاضی محمد ذکی جن سے احسان دانش بہت متاثر تھے، شاعری میں بھی ان سے اصلاح لیتے تھے، اور خوش خطی بھی ان سے سیکھی وہ احسان دانش کے ساتھ بہت اچھا معاملہ کرتے تھے، احسان دانش ان سے تعلق کے حوالے سے رقم طراز ہیں:
’’قاضی صاحب سے مجھے عقیدت اور انہیں مجھ سے ہمدردی تھی میری شاعری کی بنیاد انہی کی فیضان کرم کی رہین منت ہے۔‘‘ (جہان دانش صفحہ 66)
قاضی محمد ذکی کا تفصیلی تذکرہ ہے، ان کے علاوہ منشی عبدالرحمن جلال آبادی کا تذکرہ ہے ، حافظ محمد مصطفی کا تذکرہ ہے، جن سے احسان دانش نے قرآن کریم پڑھا،احسان دانش نے طالب علمی کے دوران جن لوگوں سے استفادہ کیا ان کا تذکرہ ہے، اس کے علاوہ عملی زندگی میں جن لوگوں سے متاثر ہوئے ان کا بھی ذکر کیا گیا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو علم و ادب اور شاعری کے میدان میں ان کے لئے راہبر ثابت ہوئے جہان دانش میں ان کا بھی بخوبی تذکرہ کیا گیا ہے، ان میں مولانا تاجور نجیب آبادی کا نام انتہائی اہم ہے، جو احسان دانش کو شاعری میں مفید مشوروں سے نوازتے تھے، اور اپنے ساتھ مشاعروں میں بھی لے کر جاتے تھے،مولانا تاجور نجیب آبادی اور حفیظ جالندھری میں ادبی چشمک تھی،جس کے باعث مولانا نے احسان دانش کا تعاون کیا،اور وہ حفیظ جالندھری کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے،احسان دانش کی آواز بہت خوب تھی ،وہ مشاعروں کی دنیا میں مقبول ہوتے چلے گئے، جہان دانش میں مولانا تاجور نجیب آبادی اور ان کی خدمات کا بھی تعارف کرایا گیا ہے، لوگوں نے جس طرح انہیں پریشان کیا گیا اس کا تذکرہ بھی جہان دانش میں ملتا ہے، البتہ جہان دانش میں حفیظ جالندھری اور مولانا تاجور نجیب آبادی کی چشمک کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے، اس سلسلے میں شورش کاشمیری نے ’’نورتن‘‘ میں تفصیلی گفتگو کی ہے، اس کے علاوہ جن ادباء وفضلاء نے احسان دانش کے ساتھ اچھا معاملہ کیا ان کے احسانات کا اعتراف کیا گیا ہے،
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر مختار صدیقی کا یوم پیدائش
——
’’مولانا تاجور نے جو مجھے شعور عطا کیا ہے، وہ فراموش نہیں کیا جاسکتا ، اگر چہ جناب جوش ملسیانی جناب محروم کے علاوہ جناب کیفی فراق گورکھپوری جوش ملیح آبادی مجنوں اور جناب نیاز فتح پوری کے علمی سرچشموں پر بھی مجھے بڑی ٹھنڈی چھاؤں ملی ہے، اور ان لوگوں کی نوازشات نے بھی مجھے بہت کچھ دیا ہے، میری روح ان کی شکر گذار ہے۔‘‘ (جہان دانش، ص: 398)
مولانا تاجور نجیب آبادی نے احسان دانش کی ملاقات علامہ اقبال سے بھی کرائی، اس ملاقات کو بھی جہان دانش میں تفصیلی طور پر ذکر کیا ہے، ان کے علاوہ اس عہد کے عظیم ادباء و شعراء جن سے احسان دانش متاثر تھے، ان کے فن پر بھی جہان دانش میں تنقیدی گفتگو کی گء ہے، ان کے فن کی خوبیوں اور خصائص پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس سے احسان دانش کا تنقیدی شعور واضح ہوتا ہے، جس میں فیض فراز، اختر شیرانی، ن میں راشد میراجی شامل ہیں، ان شعراء کے فن پر اختصار کے ساتھ بہت ہی وقیع گفتگو کی گئی ہے۔
احسان دانش نے جہان دیگر شعراء کے فن پر اظہار خیال کیا ہے، وہیں اپنی شاعری کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہے، اپنی شاعری کے موضوعات ، فکر ،اور جن لوگوں کا تاثر قبول کیا ہے، ان پر بھی روشنی ڈالی ہے، جن میں نظیر اکبر آبادی، میر انیس، اقبال اور جوش کا تذکرہ ہے، جوش سے ملاقات اور ان سے عقیدت کا بھی جہان دانش میں تذکرہ کیا گیا ہے، ادبی صورت حال کا بھی نقشہ کھینچا گیا ہے، اس کی خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں ذاتی مفاد کی خاطر موضوعات اختیار کئے جارہے ہیں ، اور ادباء کی ایک کھیپ اس میں مصروف ہے، جس کو احسان دانش دو ٹوک بیان کیا ہے، حالانکہ انہوں نے خوش کن پہلوؤں کا بھی تذکرہ کیا ہے۔
احسان دانش کو مشاعروں کے ذریعے عوام وخواص میں مقبولیت حاصل ہوئی، مشاعرے کی اسٹیج نے احسان دانش کو ادبی دنیا میں پہچان عطا کی، جہان دانش میں ان کی مشاعروں میں شرکت کی روداد تفصیلی طور پر ذکر کی گئی ہے، جس میں واضح طور پر یہ بات نظر آتی ہے، کہ غریبوں کے لئے ہر جگہ پریشانیاں ہیں، انسان سے زیادہ اس کے لباس کی قدر ہوتی ہے، مشاعروں کی روداد سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی دور میں لوگ ان کی حالت دیکھ کر انہیں مشاعرہ حال میں گھسنے نہیں دیتے تھے ، اسٹیج پر انہیں بیٹھنے کی جگہ میسر نہیں آتی تھی، لیکن انہوں نے اپنی محنت و مشقت کے ذریعے ان تمام پریشانیوں کو حل کرلیا، اور ان کی صدارت میں بھی مشاعرے پڑھے گئے، جہان دانش کا یہ حصہ بھی کا فی طویل ہے، اور احسان دانش کی محنت و مشقت مشاعروں میں پیش آمدہ واقعات اوران کی مقبولیت اس کے علاوہ مشاعروں کی صورت حال کو بخوبی واضح کرتا ہے، اور بڑے دلچسپ انداز میں اس روداد کوبیان کیا گیا ہے ۔
جہان دانش کا ایک بڑا حصہ احسان دانش کی مزدوی کی صورت حال پر مشتمل ہے، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی مزدوری کرنا، سرمایہ داروں کے ظلم و ستم جھیلنا ،چیچک کی حالت میں ناگ پھنی کاٹنا ،بارش میں چونا اندر پھینکنا، گھینہو کاٹنا،رہٹ کھینچنا،اور اس کے علاوہ زندگی کی سختیاں برداشت کرنا، اس حصہ میں احسان دانش کی مشکلات و مصائب کے ساتھ ساتھ سماج کے نظام کو بھی پیش کیا گیا ہے، جس میں غریب مزدور کو چھلا جا رہا ہے، اس کے حقوق تلف کئے جا رہے ہیں، کہیں ٹھیکیدار مزدوروں پر ظلم کر رہا ہے، کہیں سرمایہ دار کسانوں اور مزدوروں کی کمائی ہضم کرنے میں مصروف ہے، کہیں مالک ملازمین کی محنت و مزدوری کو ہڑپنے لگا ہے، جہان دانش کا یہ حصہ احسان دانش کے ساتھ ساتھ سماج کے مظلوم طبقہ کی روداد ہمارے سامنے پیش کرتا ہے ، جس میں اس نظام کو ختم کرنے کی خواہش بھی نظر آتی ہے، اور اس صورت حال سے بغض و عناد بھی بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے، جس سے احسان دانش ہی نہیں بلکہ ہر کمزور اور غریب کا دل بھرا ہوا ہے، اس حصہ سے بخوبی علم ہوتا ہے کہ مزدور اور غریب طبقہ ہر دور میں ستایا جاتا رہا ہے، جہان دانش سماج کے اس ہولناک منظر کی بخوبی عکاسی کرتی ہے۔
جہان دانش کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ احسان دانش غریبوں کمزوروں کی مدد کرنا چاہتے تھے ، ان کی آواز بننا چاہتے تھے، جس کا مشاہدہ ان کی شاعری میں بخوبی ہوتا ہے، اور ان کی زندگی کے نقوش بھی اس بات کے گواہ ہیں ، اس مقصد کے پیش نظر انہوں نے خاکساری تحریک میں شرکت کی،اس کی تعریف میں دو نظمیں خاکساروں کی نماز اور نغمئہ جہاد بھی کہیں،چونکہ اس تحریک کا بنیادی مقصد غریبوں کی مدد کرنا تھا، جو احسان دانش کی آرزو تھی، وہ غریبوں اور کمزوروں کی مدد کرنا چاہتے تھے، انہیں سرمایہ داروں کے ظلم و ستم سے نجات دلانا چاہتے تھے، اس لئے خاکساری تحریک میں شریک ہوگئے،اور اس تحریک کی بقا تک شامل رہے،جہان دانش میں احسان دانش کی قلبی کیفیت کو بخوبی پیش کیا گیا ہے، احسان دانش نے عملی طور پر سیاست میں کبھی قدم نہیں رکھا، البتہ نظریاتی طور وہ سیاست میں مظبوط نظریہ رکھتے تھے،جس کو انہوں نے جہان دانش میں وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے، اس میں مزدوروں کے درد علاج کا تلاش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، سیاست سے بھی یہی توقع کرتے ہیں کہ سرمایہ داروں کی غلام نا ہو، سیاسی رہنما کمزوروں کا تعاون کریں ان کے مسائل حل کریں، یہ احسان دانش کے دل کی آواز ہے، جو مختلف مقامات پر جہان دانش کی سطروں میں جلوہ گر ہے، اور احسان دانش کی قلبی کیفیت کی عکاس ہے۔
جہان دانش میں سماجی صورت حال کے ساتھ ساتھ احسان دانش کی گھریلو زندگی کا بخوبی نقشہ کھینچا گیا ہے، والدین کے ساتھ جس طرح عزت و اکرام معاملہ انہوں نے کیا ہے اسے بخوبی پیش کیا گیا ہے، اپنی کمائی کو والدہ کے جوتوں میں بھر دینا اسی کا ایک نمونہ ہے، بیوی کے ساتھ انکے رشتے کی صورتحال کا تذکرہ کیا گیا ہے، غربت و افلاس کے باوجود بیوی کی وفاداری حوصلہ افزائی کی تعریف اور احسان مندی کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے، شمعیں سے عشق و محبت کا تفصیلی تذکرہ ہے، شمعی سے شادی نا کرپانے کے افسوس اور تکلیف کو بھی ذکر کیا گیا ہے، جہان دانش میں احسان دانش کی گھر کے اندر کی زندگی بھی کھلی کتاب کی طرح پیش کر دی گئی ہے، اور گھر کے بار کی زندگی بھی، ان کے افکار و نظریات اور معاملات و تعلقات کو واضح طور پر پیش کر دیا گیا ہے، جو اس کتاب کی عظمت کا سبب ہے، اور احسان دانش کی شخصیت کے تمام پہلوؤں کو ہمارے سامنے پیش کرتی ہے، اس، عہد کے اہم حادثات و واقعات کے تاثر سے بھی واقف کراتی ہے۔
کتاب کا اسلوب اور طرز نگارش واقعات کی ترتیب، مکالموں کا انداز ان کے حافظہ اور قلم کی پختگی کے دلائل پیش کرتا ہے ان کی قلمی پختگی اور نثری جولانیوں کا قائل ہونے پر مجبور کرتا ہے ،حقائق کو انہوں نے جس ادبی چاشنی میں لپیٹ کر پیش کیا ہے ،وہ ادب سے وابستہ افراد کے لیے دولت بیش بہا سے کم نہیں ہے ،جب کسی منظر کا نقشہ کھینچتے ہیں ،نگاہیں پھٹی رہ جاتی ہیں ،اور ذہن حیرت و استعجاب کے عمیق دریا میں غرق ہوجاتا ہے، درد و غم کے ساتھ تشبیہات و تمثیلات اور استعارات و کنایات کی ایک خوبصورت دنیا بھی جہان دانش میں موجود ہے ،جو ادب کے ہر طالب علم کو متاثر کرتی ہے اور تکلیف و مصائب سے بھری اس زندگی پر مایوسی کا پردہ نہیں پڑنے دیتی ہے۔ مثال ملاحظہ کیجئے: اپنے دوست کے بھائی کا سارنگی بجانا، انہوں نے کس خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
’’جب وہ سارنگی کے تاروں پر گز کھینچتا اور پنچم کے تاروں پر انگلیوں کو لرزش دیتا تو ایسا معلوم ہوتا جیسے اس کی انگلیاں تاروں میں بندھی ہوئی ہیں اور رمضانی کے خیالات و جذبات کی ایماء پر چل رہی ہیں ،میرے دل میں گدگدیاں سی تیرنے لگتیں اور بعض اوقات تو ایسا معلوم ہوتا جیسے سارنگی کی آوازیں برفیلی ہوکر میرے شریانوں میں بہ رہی ہوں ۔‘‘(جہان دانش صفحہ۳۵)
سارنگی بجانے والے کی کیفیت اور اپنے قلب پر پیدا ہونے والے تاثر کو انہوں نے الفاظ کا جو خوبصورت پیکر عطا کیا ہے اور تشبیہات سے کیفیت کو جس طرح واضح کیا ہے ،وہ میرے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے ،منظر نگاری ،فطرت نگاری ،تشبیہات و تمثیلات الفاظ کی رنگا رنگی کتاب کی وہ خوبیاں ہیں ،جو اس کے معیار و وقار کو بلند تر کرتی ہیں اور اسے شاہکار ہونے کا شرف بخشتی ہیں ،احسان دانش کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ جس منظر کو انہوں نے بیان کیا ہے ،اتنے خوبصورت اور شاندار الفاظ کا جسم اسے عطا کیا ہے کہ دیدہ کو شنیدہ سے کہیں بڑھ کر بنادیا ہے ،اور گمان یہ ہوتا ہے کہ ہم اس منظر کو اپنی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں ،جب انہیں غربت اور بے روزگاری نے ایسے دوراہے پر لاکھڑا کیا ،کہ انہیں اپنی انا مسلی اور کچلی ہوئی محسوس ہوئی اور فحاشی کرنے والی عورتوں کے خطوط لکھنے کے لیے انہیں بھیج دیا گیا ،اس قبیح فعل کو انہیں بطور روزگار دیا گیا ،تو وہ صبح اپنی تمام تر رعنائیوں زیبائشوں خوبیوں اور خوبصورتی کے ساتھ احسان دانش کو کیسی محسوس ہوئی۔
ملاحظہ کیجئے منظر نگاری اور تشبیہات و تمثیلات کا جادو اپنے قلب پر چلتا ہوا محسوس کیجئے
——
یہ بھی پڑھیں : ممتاز ادیب لطف اللہ خان کا یومِ وفات
——
’’اس وقت تحصیل کے باغیچہ میں پھولوں کی کیاریاں تعزیت کی جامیں معلوم ہورہی تھیں ،پودوں اور درختوں کے نیچے دھوپ میں پھنسا ہوا سایہ دھواں سا دے رہا تھا، صبح کے کھلے ہوئے پھول شاخوں پر موسمی سرطان نظر آرہے تھے ،مکانوں کی اونچی اونچی اٹاریوں پر پھیلی ہوئی دھوپ کفن کی طرح سفید بھک ہوگئی تھی ‘‘۔(جہان دانش صفحہ۲۳۵)
ایک خوبصورت منظر دلگیر نظارہ نگاہوں کو روشنی بخشنے والا منظر ،غلط جگہ اور غلط مقام پر ہونے کی وجہ سے کتنا بدنما اور بدصورت ہوجاتا ہے ،ان سطروں سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ،جہاں یہ جہان دانش کے اسلوب نگارش کو نمایاں کرتی ہیں ،وہیں احسان دانش کی انا ان کے مزاج اور خودداری کو بھی واضح کرتی ہیں ، ایک ایسا شخص جو بھوک سے نڈھال تو ہوتا ہے ،تپتے سورج اور جلانے والی مسموم ہوا میں پھاوڑے کا رفیق تو ہوتا ہے ،رہٹ کو کھینچ کر بیلوں کا کام تو انجام دیتا ہے ،مگر گندی ناجائز اور غلط طریقہ سے حاصل کی ہوئی غذا سے پیٹ کی آگ نہیں بجھاتا ،بہرحال یہ سطریں بتارہی ہیں ، ہر شخص اپنے مشاہدہ کے معیار پر منظر اور کیفیت کو پرکھ سکتا ہے اور اس کے صحیح ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور جان سکتا ہے ۔
منظر کی خوبصورتی بھی قلبی کیفیت پر منحصر ہے ،جس طرح حقیقت کو احسان دانش نے اپنے تخلیقی انداز میں ان سطروں میں پیش کیا ہے ،اس سے ان کی تخلیقی پختگی کا اندازہ ہوتا ہے ،اس کے علاوہ خریداروں کے بڑھے ہوئے ہاتھوں کو پکی ہوئی کھیتی سے تشبیہ دیتے ہیں ،دھوکہ باز کی فاتحانہ مسکراہٹ کو گندی نالی میں سیپ کے بکھرے ہوئے بٹنوں سے تشبیہ دیتے ہیں ، زندگی کو شکاری کی گرفت سے بھاگی ہوئی نیل گائے سے تشبیہ دیتے ہیں ،چاند کو حسینہ کے چہرے سے تشبیہ دیتے ہیں ،صفحات پلٹتے جائیے اور تخلیقی قوتوں کا اندازہ کرتے جائیے ،تشبیہات و تمثیلات کی سینکڑوں مثالیں ہیں۔
کتاب کا مطالعہ اس کے تخلیقی معیار کو عیاں کرتا ہے ،اس کی خوبیاں نمایاں کرتا ہے ،اس کے لیے بلند مقام کا دعوی کرتا ہے ،اگر چہ کہیں کہیں حقائق تخلیق کی زد میں آجاتے ہیں اور قلب پر مبالغہ کا احساس ہوتا ہے ،لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ احسان دانش نے تاریخی بنیادوں پر کتاب نہیں لکھی ہے بلکہ اپنی زندگی کا منظر نامہ پیش کیا ہے ،جس میں وہ پوری طرح کامیاب ہیں ان کا تخلیقی معیار بھی اعلی ہے ،اور ان کا مقصد بھی بلند تر ہے ،جو جہان دانش کی اہمیت و افادیت کا مظہر ہے۔
——
منتخب کلام
——
بارہا احساسِ خود داری نے لہرائے علَم
پھر شکستِ فاش جب کھائی مرا سر جھک گیا
قادرِ مُطلق تو بیشک تُو ہے لیکن اے خدا
کیوں مجھے مجبورِ مُطلق کہتے کہتے رُک گیا
——
قرآن سامنے ہے احادیث روبرو
حیران ہوں سکوت کو توڑوں تو کیا کہوں
بے مثل اور اُس پہ زمان و مکاں کی قید
نُورِ خدا کہوں کہ ظہورِ خدا کہوں
——
یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسو
تری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہ
——
رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھی
سو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھی
——
کس کس کی زباں روکنے جاؤں تری خاطر
کس کس کی تباہی میں ترا ہاتھ نہیں ہے
——
زخم پہ زخم کھا کے جی اپنے لہو کے گھونٹ پی
آہ نہ کر لبوں کو سی عشق ہے دل لگی نہیں
——
یہ کون ہنس کے صحن چمن سے گزر گیا
اب تک ہیں پھول چاک گریباں کئے ہوئے
——
سینے کے داغ دل کو درخشاں نہ کر سکے
لاکھوں چراغ گھر میں چراغاں نہ کر سکے
——
اب کے یوں دل کو سزا دی ہم نے
اس کی ہر بات بھلا دی ہم نے
——
کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر
تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر
تاجر یہاں اگر ہیں یہی غیرت یہود
پانی بکے گا خون شہیداں کے بھاؤ پر
——
وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لیے
——
رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے
ہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھے
ہے فرق طلب گار و پرستار میں اے دوست
دنیا تھی طلب گار پرستار ہمیں تھے
اس بندہ نوازی کے تصدق سر محشر
گویا تری رحمت کے سزاوار ہمیں تھے
دے دے کے نگاہوں کو تصور کا سہارا
راتوں کو ترے واسطے بیدار ہمیں تھے
بازار ازل یوں تو بہت گرم تھا لیکن
لے دے کے محبت کے خریدار ہمیں تھے
کھٹکے ہیں ترے سارے گلستاں کی نظر میں
سب اپنی جگہ پھول تھے اک خار ہمیں تھے
ہاں آپ کو دیکھا تھا محبت سے ہمیں نے
جی سارے زمانے کے گنہ گار ہمیں تھے
ہے آج وہ صورت کہ بنائے نہیں بنتی
کل نقش دو عالم کے قلم کار ہمیں تھے
پچھتاؤگے دیکھو ہمیں بیگانہ سمجھ کر
مانوگے کسی وقت کہ غم خوار ہمیں تھے
ارباب وطن خوش ہیں ہمیں دل سے بھلا کر
جیسے نگہ و دل پہ بس اک بار ہمیں تھے
احسانؔ ہے بے سود گلہ ان کی جفا کا
چاہا تھا انہیں ہم نے خطاوار ہمیں تھے
——
توبہ کی نازشوں پہ ستم ڈھا کے پی گیا
”پی”! اس نے جب کہا تو میں گھبرا کے پی گیا
دل ہی تو ہے اٹھائے کہاں تک غم و الم
میں روز کے ملال سے اکتا کے پی گیا
تھیں لاکھ گرچہ محشر و مرقد کی الجھنیں
گتھی کو ضبط شوق کی سلجھا کے پی گیا
مے خانۂ بہار میں مدت کا تشنہ لب
ساقی خطا معاف! خطا کھا کے پی گیا
نیت نہیں خراب نہ عادی ہوں اے ندیم!
”آلام روزگار سے تنگ آ کے پی گیا”!
ساقی کے حسن دیدۂ میگوں کے سامنے
میں جلوۂ بہشت کو ٹھکرا کے پی گیا
اٹھا جو ابر دل کی امنگیں چمک اٹھیں
ہرائیں بجلیاں تو میں لہرا کے پی گیا
دل کچھ ثبوت حفظ شریعت نہ دے سکا
ساقی کے لطف خاص پہ اترا کے پی گیا
——
آج بھڑکی رگ وحشت ترے دیوانوں کی
قسمتیں جاگنے والی ہیں بیابانوں کی
پھر گھٹاؤں میں ہے نقارۂ وحشت کی صدا
ٹولیاں بندھ کے چلیں دشت کو دیوانوں کی
آج کیا سوجھ رہی ہے ترے دیوانوں کو
دھجیاں ڈھونڈھتے پھرتے ہیں گریبانوں کی
روح مجنوں ابھی بیتاب ہے صحراؤں میں
خاک بے وجہ نہیں اڑتی بیابانوں کی
اس نے احسانؔ کچھ اس ناز سے مڑ کر دیکھا
دل میں تصویر اتر آئی پری خانوں کی
——
مل مل کے دوستوں نے وہ دی ہے دغا مجھے
اب خود پہ بھی نہیں ہے گمان وفا مجھے
اف ابتدائے شوق کی معصوم جستجو
ہر پھول تھا چمن میں ترا نقش پا مجھے
اے کھنچنے والے دیکھ مری بے پناہیاں
آتی ہے دشمنوں سے بھی بوئے وفا مجھے
دنیا تمہیں عزیز ہے میرے سوا مگر
عالم ہے نا پسند تمہارے سوا مجھے
کرتی نہیں عبور تمہیں میری جستجو
کیا کر دیا ہے تم نے یہ کیا ہو گیا مجھے
وضعاً بھی ہنس پڑا ہوں تو پھر دل سے مدتوں
آئی کراہنے کی صدا پر صدا مجھے
پھر بات بات میں ہے لچک التفات کی
کیا پھر دکھاؤ گے کوئی خواب وفا مجھے
یہ ہے فغاں کا زور تو پھر وہ چکا قفس
کر دے گی میری شعلہ نوائی رہا مجھے
کوتاہیٔ نظر سے احاطہ نہ ہو سکا
ملنے کو یوں ملا ہے بتوں میں خدا مجھے
میری وفا پہ آپ ہی چیں بر جبیں نہیں
میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا ہو گیا مجھے
جس مدعائے شوق کی دریافت ہیں حضور
مایوس کر رہا ہے وہی مدعا مجھے
اک ضیق اک عذاب اک اندوہ اک تڑپ
تم نے یہ دل کے نام سے کیا دے دیا مجھے
ان کو گنوا کے حال رہا ہے یہ مدتوں
آیا خیال بھی تو بڑا غم ہوا مجھے
افلاس کے شباب مقدس میں بارہا
آیا ہے پوچھنے مرے گھر پر خدا مجھے
احسانؔ اپنے وقت پہ موت آئے گی مگر
جینے کا مشورہ نہیں دیتی فضا مجھے
——
ہزاروں غم ہیں اس منزل میں منزل دیکھنے والے
کلیجہ تھام لے اپنا مرا دل دیکھنے والے
یہ دل والوں کو تعلیم سجود پائے جاناں ہے
سر ہر موج کو برپائے ساحل دیکھنے والے
ہر اک ذرے میں پوشیدہ ہے اک طغیان مدہوشی
سنبھل کر دیکھنا پیمانۂ دل دیکھنے والے
مٹاتا جا رہا ہوں نقش پا صحرا نوردی میں
کہاں ڈھونڈیں گے مجھ کو میری منزل دیکھنے والے
تیرے دل میں ہزاروں محفلیں جلووں کی پنہاں ہیں
فلک پر انجم تاباں کی محفل دیکھنے والے
فشار ضبط سے لیلیٰ کہیں مجنوں نہ ہو جائے
نہ دیکھ اب سوئے محمل سوئے محمل دیکھنے والے
کسی کا عکس ہوں احسانؔ مراعات حقیقت میں
مجھے سمجھیں گے کیا تصویر باطل دیکھنے والے
——
پرستش غم کا شکریہ کیا تجھے آگہی نہیں
تیرے بغیر زندگی درد ہے زندگی نہیں
دیکھ کے خشک و زرد پھول دل ہے کچھ اس طرح ملول
جیسے مری خزاں کے بعد دور بہار ہی نہیں
دور تھا اک گزر چکا نشہ تھا اک اتر چکا
اب وہ مقام ہے جہاں شکوۂ بے رخی نہیں
عشرت خلد کے لیے زاہد کج نظر جھکے
مشرب عشق میں تو یہ جرم ہے بندگی نہیں
تیرے سوا کروں پسند کیا تری کائنات میں
دونوں جہاں کی نعمتیں قیمت بندگی نہیں
لاکھ زمانہ ظلم ڈھائے وقت نہ وہ خدا دکھائے
جب مجھے ہو یقیں کہ تو حاصل زندگی نہیں
دل کی شگفتگی کے ساتھ راحت مے کدہ گئی
فرصت مے کشی تو ہے حسرت مے کشی نہیں
اشک رواں کی آب و تاب کر نہ عوام میں خراب
عظمت عشق کو سمجھ گریۂ غم ہنسی نہیں
عرصۂ فرقت و فراق ایسا طویل تو نہ تھا
بھول رہے ہو تم مجھے میں کوئی اجنبی نہیں
زخم پہ زخم کھا کے جی اپنے لہو کے گھونٹ پی
آہ نہ کر لبوں کو سی عشق ہے دل لگی نہیں
ایک وہ رات تھی کہ جب تھا مرے گھر وہ ماہتاب
ایک یہ رات ہے کہ اب چاند ہے چاندنی نہیں
مژدہ کہ نا مراد عشق تیری غزل کا ہے وہ رنگ
وہ بھی پکار اٹھے کہ یہ سحر ہے شاعری نہیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ