اردوئے معلیٰ

Search

آج معروف شاعر مترجم اور کالم نگار فہیم شناس کاظمی کا یوم پیدائش ہے

فہیم شناس کاظمی(پیدائش: 11 مئی، 1965ء)
——
فہیم شناس کاظمی 11 مئی، 1965ء کو ضلع نوابشاہ، صوبہ سندھ میں پیدا ہوئے۔
ان کا اصل نام سید فہیم اقبال ہے لیکن ادبی دنیا میں فہیم شناس کے نام سے معروف ہیں۔
ان کا تعلق ضلع چکوال کے ایک صوفی بزرگ سید شاہ شرف کے خاندان سے ہے۔
انہوں نے سندھ یونیورسٹی جامشورو سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں سندھ مسلم گورنمنٹ آرٹس اینڈ کامرس کالج کراچی میں بطور لیکچرار وابستہ ہو گئے، جہاں وہ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ مزید برآں انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے اردو کے مشہور شاعر عزیز حامد مدنی کی شخصیت و فن پر 2015ء میں ڈاکٹر شاداب احسانی کی نگرانی میں مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
فہیم شناس کاظمی جدید اردو نظم میں ایک اہم مقام اور انفرادیت کے حامل ہیں۔ ان کی شاعری میں فکری تنوع انہیں اپنے ہم عصر شعرا سے نہ صرف ممتاز کرتا ہے بلکہ ان کے وسیع فکری تناظر کی گواہی بھی دیتا ہے۔ ان کا فکری دائرہ صرف حال کی سیاسی و سماجی صورت حال تک محدود نہیں بلکہ اس نے ماضی میں اتر کر اپنے قومی سفر کی بازیافت کی ہے۔
——
یہ بھی پڑھیں : ناصر کاظمی کا یوم پیدائش
——
فہیم شناس کاظمی کی شاعری میں لمحۂ موجود اپنی پوری توانائی کے ساتھ دھڑکتا ہے جس میں انسان اور انسانیت کے حوالے سے نت نئے دکھوں اور مسائل میں ہر آن بدلتی اور ٹوٹتی اقدار کی گونج سنائی دیتی ہے۔
——
تصانیف
——
شاعری
——
1999ء – سارا جہاں آئینہ ہے (ناشر: فکشن ہاؤس لاہور)
2009ء – خواب سے باہر (ناشر: فکشن ہاؤس لاہور)
2013ء – راہداری میں گونجتی نظم (ناشر: دنیازاد پبلی کیشنز کراچی)
——
تراجم
——
2002ء – سندھ کی آواز (جی ایم سید کے عدالتی بیان کا ترجمہ، ناشر: فکشن ہاؤس لاہور)
2012ء – سارتر کے بے مثال افسانے (ناشر: سٹی بک پوائنٹ کراچی)
2012ء – سارتر کے مضامین (ناشر: سٹی بک پوائنٹ کراچی)
——
ترتیب و تدوین
——
2004ء – تیرے عشق نے مالامال کیا (صابر ظفر کی گیتوں اور غزلوں کا انتخاب)
2010ء – بوئے گل نالۂ دل (جلد اول) شیخ ایاز (ناشر: محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ)
2010ء – حلقہ مری زنجیر کا (جلد دوم) شیخ ایاز (ناشر: محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ)
2016ء – ژاں پال سارتر کے انٹرویو (ناشر: فکشن ہاؤس لاہور)
——
صحافت
——
نائب مدیر : سہ ماہی اجرا کراچی
کالم نگار : روزنامہ جسارت اور روزنامہ قومی اخبار
——
اعزازات
——
2003ء – آہٹ ایوارڈ بہترین شاعر پاکستان
2012ء – جناح ایوارڈ بہترین شاعر و نقاد پاکستان
2015ء – نشان سپاس خانۂ فرہنگ ایران کراچی ایران
——
ناقدین کی رائے
——
”فہیم شناس کاظمی کی شاعری کا فکری کینوس بہت وسیع ہے اور ماضی سے حال تک کا سفر طے کرنا ، مسلم زوال کے کئی موڑوں کی نشان دہی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کی نظموں کا مواد برصغیر میں مسلم زوال کی تاریخ کے ساتھ اپنی ادبی روایات خصوصاً داستان کی پُرتحیر دنیا سے جنم لیتا ہے۔ ڈاکٹر رشید امجد“
——
یہ بھی پڑھیں : شبیر علی کاظمی کا یوم وفات
——
” فہیم شناس کاظمی کے ہاں کہیں کہیں قنوطیت بھی ہے اور رجائیت بھی۔ موت کا تصور بھی ہے اور زندگی کا بوجھل پن بھی۔ جبر و قدر کی نمائندہ نظم بھی ہے اور وجودیت کو چھوتی ہوئی عارفیت اور تنہائی میں ڈوبی ہوئی نظم بھی۔ تاریخ کے نوحے بھی ہیں اور آج کا سانحہ بھی۔ حالات کی سفاکی بھی ہے اور خیالات کی جنت
بھی۔ وہ بعض ایسے امیج خلق کرتا ہے جو جمالیاتی مسرت سے ہم آغوش کرتے ہیں۔ رؤف نیازی۔ “
——
منتخب کلام
——
معانی میں ردّوبدل بس ہے اتنا
کہیں بے مکانی ، کہیں لامکانی
——
کیسے سنبھال رکھی ھے تو نے یہ کائنات
ہم سے تو ایک دل بھی سنبھالا نہ جاسکا
——
یہ کائناتِ دل و جاں اُسی کی ہے لیکن
کسی مقام پہ ٹھہرے نگاہِ سیمابی
——
گلیاں بہت ہیں شہر میں لیکن وہ اک گلی
آباد میرے دل میں رہی مشکبو رہی
——
تم نے کتنی دیر لگا دی پاس همارے آنے میں
هم تبدیل هوئے بستی میں اور بستی ویرانے میں
——
رکھیے ادب بحال کہ ایوانِ نعت ہے
سر خم،قلوب خم ہوں کہ دیوانِ نعت ہے
کب سے ہوں فرشِ راہ دل وجاں کیے ہوئے
آنے کو میرے پاس اک فرمانِ نعت ہے
ذکرِ علی ؑولی سے یہ نکھرے گااور بھی
اہلِ کسا کا ذکر تو ارکانِ نعت ہے
دل میں ذرا سا خوف نہیں روزِ حشر کا
وہ اس لیے کہ ساتھ میں سامانِ نعت ہے
جنت میں مصطفے کی طرف جا رہے ہیں ہم
دیکھو ہمارے پاس یہ دیوانِ نعت ہے
صلی علی کی گونج ہے زفرش تابہ عرش
یہ ساری کائنات دبستانِ نعت ہے
وحدانیت کے نغمہ خواں دنیا میں ہیں بہت
کچھ منتخب قلوب پہ احسانِ نعت ہے
ہرلمحہ دل میں روشنی، ہر لمحہ وجد ہے
جاری یہاں تلاوتِ قرآنِ نعت ہے
پروانہء نجات کی صورت ملے شناس
کب سے ہمارے دل میں جو ارمانِ نعت ہے
——
قصے نئے پرانے سنانے کے دن گئے
اب دوستوں میں وقت بِتانے کے دن گئے
پہلی سی سر خوشی بھی لہو میں نہیں رہی
لگتا ہے جیسے ہنسنے ہنسانے کے دن گئے
اب بے دلی کے ساتھ گلے مل رہا ہوں میں
اب خوش دلی سے ہاتھ ملانے کے دن گئے
جو کہنا چاہتے ہو، کہو اور خوش رہو
اپنا لکھا ہوا بھی مٹانے کے دن گئے
کچھ دن سے اپنے آپ میں سمٹے ہوئے ہیں ہم
دنیا سے رسم و راہ بڑھانے کے دن گئے
ہم سے شناس اٹھتا نہیں اپنا بوجھ بھی
اب دوسروں کا بوجھ اُٹھانے کے دن گئے
——
کچھ دیر کو چراغ سے کیا گفتگو رہی
اس بات کی ہوا کو بہت جستجو رہی
جس وقت خامشی تھی زمان ومکاں کے بیچ
میرے لہو میں دیر تلک ہاؤ ہُو رہی
گلیاں بہت ہیں شہر میں لیکن وہ اک گلی
آباد میرے دل میں رہی مشکبو رہی
اُجڑی ہے اتنی بارکہ جس کا نہیں شمار
لیکن یہ زندگی کہ یونہی خوبرو رہی
اب سرسری سا دیکھتے ہیں گر کہیں ملے
وہ شکل جس سے ہم کو محبت کبھو رہی
اے خوشگوار دن تری آمد کے میں نثار
اے شام ِ پرملال تری جستجو رہی
ہر ایک چیز مٹ گئی اک بار جو مٹی
یہ دردِ عشق جس میں ہمیشہ نمو رہی
محفل میں بھی رہے ہو،اکیلے بھی تم شناس
خود سے بھی کو ئی ملنے کی ساعت کبھو رہی
——
لہو میں آگ،, نظر میں دہکتی بے خوابی
ہزار رنگ بدلتی ہے دل کی بے تابی
کسی چراغ کی لو ڈھونڈتی ہے اب مجھ کو
ہوائے شام کو کھلتی ہے میری کمیابی
ہر اک قدم پہ نیا تجربہ ہوا مجھ کو
ہر ایک لفظ مرا ہو گیا ہے تیزابی
یہ کائناتِ دل و جاں اُسی کی ہے لیکن
کسی مقام پہ ٹھہرے نگاہِ سیمابی
کچھ اس کمال سے اُترے تھے ہم سمندر میں
پھر اُس کے بعد ہوئی ختم رسمِ غرقابی
تمہاری آنکھ نے ایسا سخن کیا تعلیم
ہر ایک لفظ ہے سرمست اور مے نابی
کچھ اس ہنر سے ترے ہجر سے گزر آئے
کہ حرف آگ ہوئے اور لہجہ برفابی
یہ عشق ہے کہ ہے صحرائے بے کنار شناس
کہ اس کی پیاس میں ڈوبی ہوئی ہے سیرابی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ