فہمیدہ ریاض کا یومِ پیدائش

آج برصغیر کی نامور شاعرہ، ادیبہ اور دانش ور فہمیدہ ریاض کا یومِ پیدائش ہے ۔

فہمیدہ ریاض
(ولادت: 28 جولائی 1946ء- 21 نومبر 2018ء)
——
فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1945 کو میرٹھ کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ شعور کی آنکھ حیدرآباد، سندھ میں کھولی، جہاں اُن کے والد، ریاض الدین معروف ماہر تعلیم، نور محمد صاحب کے قائم کردہ ہائی اسکول سے وابستہ تھے۔ انھوں نے ہی اپنی بیٹی کے دل میں کتابوں سے محبت کا دیا روشن کیا۔
پانچ برس کی تھیں کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس سانحے کے بعد والدہ، حُسنہ بیگم نے، جو تعلیم یافتہ خاتون تھیں، خاندان کو سنبھالا۔ مشکلات کے باوجود اولاد کو زیورتعلیم سے آراستہ کیا۔ بچپن میں وہ تھوڑی تنہائی پسند تھیں۔ مطالعے کا شوق وراثت میں ملا۔ ہائی اسکول کے زمانے میں اُردو اور فارسی کے کلاسیکل شعراء و ادباء کا مطالعہ شروع ہوا۔ سندھی لٹریچر بھی جم کر پڑھا۔ زندگی کے نئے گوشے آشکار ہوئے۔ ریڈیو پاکستان، حیدرآباد کے لیے صداکاری کی، اسکرپٹ لکھے۔
زبیدہ گورنمنٹ کالج، حیدرآباد کے زمانے میں طلبا سیاست کی جانب مائل ہوئیں۔ ذہن لیفٹ کے نظریات سے لگا کھاتا تھا۔ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (جو بعد میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن ہوگئی) کے پلیٹ فورم سے ایوب مخالف تحریک میں حصہ لیا۔ یونیورسٹی آرڈیننس کے خلاف تقریریں بھی کیں، نظمیں بھی لکھیں۔ گریجویشن کرلیا، تو پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کرنے کے لیے سندھ یونیورسٹی کا رخ کیا۔ 1967 میں شادی ہوگئی، اور لندن چلی گئیں۔
اُدھر ایک لائبریری میں کام کیا، ایک انشورنس کمپنی سے وابستہ رہیں، بی بی سی کی اردو سروس سے منسلک رہیں۔ فلم تیکنیک میں لندن سے ڈپلوما بھی کیا۔ 73ء میں واپس آئیں۔ آرلنٹاس میں کریٹیو ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ رہیں۔ ایک فارماسیوٹیکل کمپنی سے بھی جُڑی رہیں۔ پھر ادیبوں کا ایک فورم بنانے کے لیے رسالہ ’’آواز‘‘ شروع کیا۔
وہ ضیاء الحق کا دور تھا۔ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے ’’جرم‘‘ میں کئی مقدمات بنے۔ انھوں نے جلاوطنی اختیار کرلی، اور بھارت چلی گئیں۔ ’’آواز‘‘ بند ہوا۔ 81ء تا 87ء وہاں رہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی سے وابستگی رہی۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ سے جڑی رہیں۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں وہ چیئرپرسن نیشنل بک کونسل آف پاکستان اور منسٹری آف کلچر کی کنسلٹنٹ رہیں۔ 96ء میں ’’وعدہ‘‘ کے نام سے ایک این جی او بنائی۔ بعد کے برسوں میں بھی اُنھیں سیاسی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اِس وقت آکسفورڈ پبلی کیشنز سے بہ طور کنسلٹنٹ وابستہ ہیں۔
پہلی شادی ختم ہوگئی تھی۔ پہلے شوہر سے ایک بیٹی ہے، جو اب امریکا میں مقیم ہے۔ دوسری شادی سے ایک بیٹی ہے۔ ایک بیٹا تھا، جو 2007 میں ایک حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس سانحے نے گہرے اثرات مرتب کیے۔
——یہ بھی پڑھیں : نامور شاعرہ، ادیبہ اور دانش ور فہمیدہ ریاض کا یومِ پیدائش
———-
اگست 2009 میں انھیں تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
21 نومبر 2018ء کو وہ اس دنیا سے چل بسیں ۔
——
فہمیدہ ریاض از امجد اسلام امجد
——
یہ تو خبریں مل رہی تھیں کہ فہمیدہ ریاض بہت بیمار ہیں لیکن یہ علم نہیں تھا کہ وہ گزشتہ دو ماہ سے لاہور میں اپنی بیٹی کے پاس ہیں جو ہمارے قریب ہی عسکری ون میں رہتی ہے۔ اس بیشتر بے معنی معلومات سے بھری ہوئی دنیا میں اپنے کسی ساتھی لکھاری کے بارے میں یہ خبریں افسوس ناک ہونے کے ساتھ ساتھ تعجب خیز بھی ہیں۔
ان کے جنازے میں کراچی سے خاص طور پر آئی ہوئی فاطمہ حسن نے لاہور کی ادیب برادری پر آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ تنقید تو کی کہ یہاں کسی کو فہمیدہ کی موجودگی اور علالت کا پتہ ہی نہیں تھا لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ کراچی میں عمر کا بیشتر حصہ گزارنے کے باوجود مناسب دیکھ بھال نہ ہو سکنے کی وجہ سے ہی انھیں لاہور آنا پڑا۔ مقصد اس بحث سے کسی خاص شہر یا افراد کو قصوروار ٹھہرانا نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ عمومی طور پر اب ہمارے معاشرے میں بلا کسی مقصد کے ملنے ملانے اور بیماروں کی عیادت کا وہ رواج بہت کم ہو گیا ہے جو اس کی ایک اہم خوبی اور ہمارے رسول کریم کی محبوب سنت تھی اور یوں ہم زندوں کو چھوڑ کر ایک مردہ پرست معاشرے کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔
جنازے میں شامل بیشتر لکھنے والوں کو بھی میری طرح سے فہمیدہ کی لاہور میں موجودگی کا علم نہ تھا اس کے باوجود ایک دوسرے سے پتہ پوچھتے ہوئے شعر و ادب، صحافت اور ترقی پسندانہ سوچ سے تعلق رکھنے والے بہت سے احباب نماز جنازہ میں شریک ہوئے اور سب نے مل کر اپنے اس باہنر اور غیر معمولی تخلیق کار کو عزت، احترام اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
فہمیدہ ریاض کے نام اور کام سے پہلا تعارف احمد ندیم قاسمی کے ادبی مجلّے ’’فنوں‘‘ کی معرفت 1966ء میں ہوا جس میں ہم دونوں نے تقریباً ایک ساتھ چھپنا شروع کیا۔ وہ اس وقت حیدر آباد میں زیر تعلیم تھیں اور اطلاعات کے مطابق برقع پہن کر کالج جایا کرتی تھیں۔ ان کی شاعری میں اس وقت وہ چمک ابتدائی شکل میں تھی جس نے آگے چل کر بہت مختصر عرصے میں پوری ادبی دنیا میں اجالا کر دیا۔
——
یہ بھی پڑھیں : چادر اور چار دیواری از فہمیدہ ریاض
——
اس زمانے میں براہ راست ملاقات اور ٹیلیفونک گفت و شنید کے واقعے بہت محدود تھے، بلکہ اس کا رواج بھی کم کم تھا۔ کچھ دنوں بعد قاسمی صاحب نے بتایا کہ فہمیدہ کی شادی ہو گئی ہے اور وہ اپنے شوہر (جن کا نام غالباً صابر تھا) کے ساتھ لندن منتقل ہو گئی ہیں۔ کچھ عرصے کے بعد ان کی وہ نظم ’’لاؤ ہاتھ اپنا لاؤ ذرا‘‘ شائع ہوئی جس میں انھوں نے اپنے ماں بننے کے تجربے اور عورت کے ان احساسات کو نظم کیا۔ جن میں وہ ایک انسانی وجود کو اپنے پیٹ کے اندر پال رہی ہوتی ہے۔
یہ نظم اس قدر مؤثر اور اپنے موضوع کے اعتبار سے ایسی چونکانے والی تھی کہ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے فہمیدہ ریاض کو شہرت اور مقبولیت کی ایسی منازل پر پہنچا دیا جو بیشتر لکھاریوں کو عمر بھر حاصل نہیں ہوتیں۔ انہی دنوں میں اس کا پہلا شعری مجموعہ ’’پتھر کی زبان‘‘ شائع ہوا جس میں کئی ایسے جنسی استعارے بہت آزادی اور فراوانی سے استعمال کیے گئے تھے جو اس وقت تک کی نسائی شاعری میں خال خال ہی پائے جاتے تھے۔ پھر معلوم ہوا کہ ان کی ازدواجی زندگی کچھ مسائل کا شکار ہے اور وہ شوہر سے علیحدگی کے بعد کراچی آ گئی ہیں جس کی تصدیق اس زمانے کے مقبول انگریزی ہفت روزہ MAG کے ٹائٹل سے ہوئی جس میں ان کی انٹرویو کے درمیان لی گئی ایک ایسی تصویر شائع کی گئی تھی جس میں انھوں نے ہونٹوں میں سگریٹ دبا رکھا تھا۔
یہ بہت چونکا دینے والی تصویر تھی کہ اس زمانے میں اول تو بہت کم خواتین سگریٹ نوشی کرتی تھیں لیکن اس کا اس طرح سے جارحانہ اظہار صرف انگریزی فلموں میں ہی دیکھنے میں آتا تھا۔ جب کہ ان کے متعلقہ انٹرویو میں بھی جگہ جگہ خواتین کے حقوق اور اظہار کی آزادی کا ایسا پرجوش تذکرہ تھا جو اس مختلف اور نئی فہمیدہ ریاض کو سامنے لا رہا تھا جو آگے چل کر ان کی پہچان بنا۔
ان سے براہ راست اور بالمشافہ پہلی ملاقات ریڈیو پاکستان لاہور کے ایک پروگرام میں ہوئی۔ بہت محبت اور اپنائیت سے ملیں، میرے پاس ان دنوں ویسپا سکوٹر ہوتا تھا۔ کہنے لگیں مجھے سرور سکھیرا کے رسالے ’’دھنک‘‘ کے دفتر جانا ہے آپ مجھے وہاں چھوڑ دیں رستے میں باتیں بھی کرتے چلیں گے۔ پہلی ملاقات کے مخصوص حجاب کی وجہ سے میں ان سے ان کی ذاتی زندگی، ٹوٹی ہوئی شادی اور موجودہ مصروفیات کے بارے میں کھل کر بات نہ کر سکا۔ لیکن بعد کی ملاقاتوں میں کئی باتوں کی وضاحت ہو گئی۔
اس دوران میں انھوں نے ایک سندھی نوجوان سے شادی کر لی اور ایک نیم ادبی نیم سیاسی قسم کے رسالے کی ادارت بھی شروع کر دی تھی۔ ضیاء الحق کے مارشل لائی دور میں یہ رسالہ مالی مشکلات کا شکار ہو گیا اور فہمیدہ کی سیاسی مصروفیات نے اس کی ادبی مصروفیات پر غالب آنا شروع کر دیا۔
پھر معلوم ہوا کہ وہ یک دم احتجاجاً ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی ہیں۔ جہاں اندرا گاندھی نے انھیں جامعہ ملیہ میں Poetess in the Campus کا عہدہ دے دیا ہے۔ وہیں بھارت کے پہلے ادبی دورے کے دوران ان سے ملاقات ہوئی اور میں نے کھل کر ان کی اس ’’نقل مکانی‘‘ پر اپنے اختلاف کا اظہار کیا جس پر وہ بار بار مجھے یہی کہتی رہیں کہ میں آپ کو اس کی وجوہات علیحدگی میں تفصیل سے بتاؤں گی لیکن اس کا کبھی موقع نہ بن سکا اور وہ اس واقعے کے چند سال بعد دوبارہ پاکستان واپس آ گئیں اور تقریباً تیس مزید برس زندہ رہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : رام ریاض کا یومِ ولادت
——
اس دوران میں نے بہت کچھ لکھا، شاہ عبداللطیف بھٹائی، شیخ ایاز اور ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد کے تراجم کے علاوہ بہت سی ادبی اصناف میں قلمکاری کی لیکن میں نے محسوس کیا کہ اب ان کے سیاسی اور Feminist نظریات ان کے لیے بہت اہم ہو گئے ہیں۔ جس کا اظہار ان کی اپنی شاعری میں بھی مرکزی موضوع کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
ضروری نہیں ہوتا کہ آپ اپنے کسی دوست کی ہر بات سے اتفاق کریں سو اس سے قطع نظر اس بات سے اختلاف ممکن نہیں کہ فہمیدہ ریاض اپنے دور کی ایک نمائندہ اور بڑی قلمکار تھیں۔ ان کی نثر ہو یا نظم دونوں کا ایک اپنا انداز اور معیار تھا اور جب بھی پاکستان اور اردو زبان میں بہادر، پر جوش اور اپنے نظریات پر قائم رہنے والی اہم خواتین کا ذکر ہو گا تو ادیب برادری سے فہمیدہ ریاض کا نام یقینا پہلی صف میں پایا جائے گا۔ وہ ادا جعفری، زہرہ نگاہ اور کشور ناہید کے بعد اور پروین شاکر سے پہلے کی نسل کی سب سے بڑی شاعرہ تھیں اور یقینا ان کی کمی دیر تک محسوس کی جائے گی۔
——
منتخب کلام
——
کس سے اب آرزوئے وصل کریں
اس خرابے میں کوئی مرد کہاں
——
میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤں
اے ظاہر و موجود مرا جسم دعا ہے
——
کبھی دھنک سی اترتی تھی ان نگاہوں میں
وہ شوخ رنگ بھی دھیمے پڑے ہواؤں میں
میں تیز گام چلی جا رہی تھی اس کی سمت
کشش عجیب تھی اس دشت کی صداؤں میں
وہ اک صدا جو فریب صدا سے بھی کم ہے
نہ ڈوب جائے کہیں تند رو ہواؤں میں
سکوت شام ہے اور میں ہوں گوش بر آواز
کہ ایک وعدے کا افسوں سا ہے فضاؤں میں
مری طرح یوں ہی گم کردہ راہ چھوڑے گی
تم اپنی بانہہ نہ دینا ہوا کی بانہوں میں
نقوش پاؤں کے لکھتے ہیں منزل نا یافت
مرا سفر تو ہے تحریر میری راہوں میں
——
یہ کس کے آنسوؤں نے اس نقش کو مٹایا
جو میرے لوح دل پر تو نے کبھی بنایا
تھا دل جب اس پہ مائل تھا شوق سخت مشکل
ترغیب نے اسے بھی آسان کر دکھایا
اک گرد باد میں تو اوجھل ہوا نظر سے
اس دشت بے ثمر سے جز خاک کچھ نہ پایا
اے چوب خشک صحرا وہ باد شوق کیا تھی
میری طرح برہنہ جس نے تجھے بنایا
پھر ہم ہیں نیم شب ہے اندیشۂ عبث ہے
وہ واہمہ کہ جس سے تیرا یقین آیا
——
اب سو جاؤ
اور اپنے ہاتھوں کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
تم چاند سے ماتھے والے ہو
اور اچھی قسمت رکھتے ہو
بچے کی سو بھولی صورت
اب تک ضد کرنے کی عادت
کچھ کھوئی کھوئی سی یادیں
کچھ سینے میں چھبھتی یادیں
اب انہیں بھلا دو سو جاؤ
اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
سو جاؤ تم شہزادے ہو
اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو
اچھا تو کوئی اور بھی تھی
اچھا پھر بات کہاں نکلی
کچھ اور بھی یادیں بچپن کی
کچھ اپنے گھر کے آنگن کی
سب بتلا دو پھر سو جاؤ
اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
یہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کی
یہ جھلمل کرتی خاموشی
یہ ڈھلتی رات ستاروں کی
بیتے نہ کبھی تم سو جاؤ
اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
——
اس گلی کے ہر موڑ پر
اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نے
میرے اشک پونچھ کر
آج مجھ سے یہ کہا
یوں نہ دل جلاؤ تم
لوٹ مار کا ہے راج
جل رہا ہے کل سماج
یہ فضول راگنی
مجھ کو مت سناؤ تم
بورژوا سماج ہے
لوٹ مار چوریاں اس کا وصف خاص ہے
اس کو مت بھلاؤ تم
انقلاب آۓ گا
اس سے لو لگاؤ تم
ہو سکے تو آج کل کچھ مال بناؤ تم
کھائی سے نکلنے کی آرزو سے پیشتر
دیکھ لو ذرا جو ہے دوسری طرف ہے گڑھا
آج ہیں جو حکمراں ان سے بڑھ کے خوفناک ان کے سب رقیب ہیں
دندنا رہے ہیں جو لے کے پاتھ میں چھرا
شکر کا مقام ہے
میری مسخ لاش آپ کو کہیں ملی نہیں
اک گلی کے موڑ پر
میں نے پوچھا واقعی
سن کے مسکرا دیا کتنی دیر ہو گئی
لیجیۓ میں اب چلا اس کے بعد اب کیا ہوا
کھڑکھڑائیں ہڈیاں
اس گلی کے موڑ سے وہ کہیں چلا گیا
——
پچھتاوا
خداۓ ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دی
بہشت سے جب اسے نکالا
تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھی
یہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے
تمام ادوار چھان ڈالو
روایتوں میں حکایتوں میں
ازل سے تاریخ کہہ رہی ہے
کہ آدمی کی جبیں ہمیشہ ندامتوں سے عرق رہی ہے
وہ وقت جب سے کہ آدمی نے
خدا کی جنت میں شجر ممنوعہ چکھ لیا
اور
سرکشی کی
تبھی سے اس پھل کا یہ کسیلا ذائقہ
آدمی کے کام و دہن میں ہر پھر کے آ رہا ہے
مگر ندامت کے تلخ سے ذائقے سے پہلے گناہ کی بے پناہ لذت
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ