اردوئے معلیٰ

Search

غم ہو گئے بے شمار آقا

بندہ تیرے نثار آقا

 

بگڑا جاتا ہے کھیل میرا

آقا آقا سنوار آقا

 

منجدھار پہ آکے ناؤ ٹوٹی

دے ہاتھ کہ ہوں میں پار آقا

 

ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری

للہ یہ بوجھ اتار آقا

 

ہلکا ہے اگر ہمارا پلّہ

بھاری ہے ترا وقار آقا

 

مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہے

تم کو تو ہے اختیار آقا

 

میں دور ہوں تو تم ہو مرے پاس

سن لو میری پکار آقا

 

مجھ سا کوئی غم زدہ نہ ہو گا

تم سا نہی غم گسار آقا

 

گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی

ڈوبا ڈوبا، اتار آقا

 

تم وہ کہ کرم کو ناز تم سے

میں وہ کہ بدی کو عار آقا

 

پھر منہ نہ پڑے کبھی خزاں کا

دے دے ایسی بہار آقا

 

جس کی مرضی خدا نہ ٹالے

میرا ہے وہ نامدار آقا

 

ہے ملکِ خدا پہ جس کا قبضہ

میرا ہے وہ کامگار آقا

 

سویا کیے نابکار بندے

رویا کے زار زار آقا

 

ق

 

کیا بھول ہے ان کے ہوتے کہلائیں

دنیا کے تاجدار آقا

 

ان کے ادنیٰ گدا پہ مٹ جائیں

ایسے ایسے ہزار آقا

 

بے ابر کرم کے میرے دھبے

لا تغسلھا البحار آقا

 

اتنی رحمت رضا پہ کر لو

لا یقروبہ البوار آقا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ