اردوئے معلیٰ

Search

 

مقتبس جلوۂ رخ سے جو ہے صبحِ روشن

ظلمتِ شب ہوئی روپوش ترے بالوں میں

 

آپ کو انس ہے جس سے وہ خدا کو پیارا

آپ سے جس کو محبت ہے وہ دل والوں میں

 

مکرِ ابلیس سے ہشیار کیا تھا تو نے

ہم مگر آ گئے مکار کی پھر چالوں میں

 

اب نہ معروف کی تلقیں ہے نہ منکر کی نہی

پھنس کے ہم رہ گئے دنیا ہی کے جنجالوں میں

 

تری امت کا تو منصب تھا جہاں بانی کا

خیرِ امت وہی اب ہو گئی نقالوں میں

 

اپنی امت کے تھے رکھوالے پیمبر سارے

شان اونچی ہے مگر آپ کی رکھوالوں میں

 

کر دیا کام جو تیئیس برس میں تو نے

ہو سکے وہ نہ کسی سے کئی سو سالوں میں

 

امتی امتی یکساں ہیں نظرؔ میں تیری

فرق رکھا نہ روا گوروں میں اور کالوں میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ