اردوئے معلیٰ

حفیظ جونپوری کا یوم وفات

آج معروف شاعر حفیظ جونپوری کا یوم وفات ہے

حفیظ جونپوری(پیدائش: 1865ء — وفات: 24 نومبر 1918ء)
——
نوٹ : تاریخِ وفات حفیظ جونپوری کے بھائی محمود علی کی ایک تحریر سے لی گئی ہے جس کا عکس تحریر کے آخر میں حوالے کے طور پہ موجود ہے ۔
——
نام حافظ محمد علی، حفیظ تخلص۔
۱۸۶۵ء میں جونپور میں پیدا ہوئے۔
بچپن سے شعروسخن کا شوق تھا۔ ۱۸۸۹ء میں جناب وسیم کے شاگرد ہوئے اور انھی کے ایما سے امیر مینائی کے زمرہ تلامذہ میں داخل ہوگئے۔
اگرچہ علمی استعداد زیادہ نہیں تھی مگر کثرت مشق اور خدا داد ذہانت سے اس فن میں اچھی قابلیت حاصل کرلی۔ پہلے سید ظفر حسن خاں، رئیس سولپور کے یہاں کچھ مدت مصاحب رہے۔ اس کے بعد راجا سعادت علی خاں ، رئیس پیغمبر پور کی سرکار میں ملازم رہے۔
۲۴؍نومبر ۱۹۱۸ء کو انتقال کرگئے۔
ان کے دو دیوان شائع ہوگئے ہیں۔
——
حفیظ جونپوری کی نعت گوئی
——
ہند کا ہے حفیظؔ بھی حسانؓ
مدح خواں ہے شہہِ حجازی کا
——
حفیظ جونپوری کی نعتیہ شاعری کا سرمایہ زیادہ نہیں مگر جتنا بھی ہے آنکھوں اور دل سے لگانے کے قابل ہے ۔
نعت گوئی ایک بہت بڑی سعادت ہے ۔ خوش نصیب ہے وہ شخص جسے یہ سعادت حاصل ہو جائے ۔
اپنے آقا اور مولا سے محبت کا اظہار ہر مسلمان کی دلی تمنا ہوتی ہے لیکن اس اظہارِ شیفتگی اور محبت کے کچھ اصول ہوتے ہیں ۔ محبت کے اس پلِ صراط سے گزرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔
——
یہ بھی پڑھیں : وامق جونپوری کا یوم پیدائش
——
حفیظؔ الوہیت اور عبدیت کے فرق کو خوب سجھتے ہیں اور رسالت مآب کی عظمت و جلالت کا بھی بھر پور شعور رکھتے ہیں ۔
اس لیے ان کی نعتوں میں کہیں بھی اس طرح کی بے راہ وری نہیں پائی جاتی ۔
حفیظ جونپوری کی نعت اثر انگیز بھی ہے اور ایمان افروز بھی ۔ اندازِ بیان کا تو کہنا ہی کیا ۔ اشعار حسن و جمال اور سادگی سے مزین ہیں اور زبان و بیان میں بلا کی شیرینی ہے ۔
نعت اک ایسی صنفِ شاعری ہے جس میں غلو کی قطعی گنجائش نہیں ۔ کیونکہ سرورِ کونین کے ذکرِ پاک کو خود رب العالمین نے رفعت عطا فرمائی ہے ۔
بے شک رحمتِ عالم کے اوصاف و کمالات مبالغے کی حد سے بھی آگے ہیں ۔
حفیظ جونپوری کی نعت گوئی میں تصنع نہیں ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دل کی آواز ہے جو زبان سے ادا ہو رہی ہے ۔
خلوص و محبت اور عقیدت و سرشاری اشعار سے جھلکتی ہے ۔
انہیں فخر و ناز ہے کہ ہم رسولِ عربی کے امتی ہیں :
——
حبیبِ خدا ہے پیمبر ہمارا
بڑے اوج پر ہے مقدر ہمارا
——
حشر میں گزرے جدھر آپ کی امت والے
انگلیاں اٹھیں کہ وہ آتے ہیں جنت والے
——
مندرجہ ذیل اشعار کی روانی و سلاست اور تاثیر کی شان ملاحظہ فرمائیے ۔ یہ اشعار چشمِ ماروشن دل ماشاد کے مصداق ہیں :
——
جس کے سر تاج ہو شفاعت کا
پوچھنا کیا ہے اُس کی امت کا
گلشنِ نعت کی ہوا ج ولگی
رنگ بدلا مری طبیعت کا
کچھ مدینے کا ذکر کر واعظ
ختم کر اب بیان جنت کا
اے حبیبِ خدا حفیظ کو ہے
آسرا آپ کی شفاعت کا
——
شہرِ کرم ، شہرِ تمنا شہرِ نبی کو جس نام سے سے یاد کیجیے ، اہلِ دل کے لیے اس میں راحتِ روح کا سامان ہے ۔ ہر مسلمان کی وہاں جانے ، رہنے اور مرنے کی آرزو ہوتی ہے ۔
مندرجہ ذیل اشعار میں یہ تڑپ ملاحظہ فرمائیے :
——
صدقہ اپنے حبیب کا یارب
اب مدینہ مجھے دکھا دے یا رب
——
مرنے کی تمنا ہے مدینے کی زمیں پر
اللہ رے ارمان حیاتِ ابدی کا
——
سلامِ حفیظؔ اے صبا اُن سے کہنا
جو تجھکو ملے شہسوارِ مدینہ
——
اے ساکنِ مدینہ عمرِ ابد مبارک
جنت کے رہنے والو مژدہ تمہیں بقا کا
——
وہ دن بھی حفیظؔ آئے کہ جانا ہو مدینے
پلکوں سے مجھے شوق ہے جاروب کشی کا
——
یہ بھی پڑھیں : حفیظ ہوشیار پوری کا یوم پیدائش
——
نبیٔ رحمت کا آستانِ پاک ہر غم کا درماں ہے ۔ ایک عاشقِ رسول جو اس آستانے تک نہیں جا سکا اس کی تڑپ اور کیفیت کا اظہار مندرجہ ذیل اشعار میں کتنے درد کے ساتھ ہوا ہے :
——
نہ تو کعبے گیا نہ مدینے گیا ، یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا
ارمان ہی جی کا جی میں رہا ، یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا
نہ تو دیکھی فضا یثرب کی کبھی نہ طوافِ حرم سے ہوئی سیری
یہی شوق رہا ، یہی ذوق رہا ، یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا
یہ تمنا تھی کہ مدینے چلوں ، وہیں جا کے جیوں وہیں جا کے مروں
نہ ہوا جو مقدر اپنا رسا ، یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا
مقبول ہو نعت حفیظؔ کی کیا ، دربارِ نبی میں وہ کب پہنچا
کچھ کہہ نہ سکا ، کچھ سُن نہ سکا ، یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہوا
——
رسولِ عربی سے سچی محبت ایمان کی دلیل ہے ۔ بیشک وہی لوگ مومن ہیں جن کی ساری محبتیں رسولِ اُمی پہ نثار ہیں ۔
——
سمجھ لو کہ ایمانِ کامل نہ ہو گا
نہ ہو دل میں جب تک ولائے محمد
——
اس شعر میں حدیثِ پاک کا مفہوم کس خوبصورتی سے ادا ہوا ہے ۔ نعتِ رسول کا حق ادا کرنا بہت مشکل ہے اس حقیقت کا اعتراف کتنے خوبصورت اور حسین پیرائے میں کیا گیا ہے :
——
مشکل ہے وصف کرنا محبوبِ کبریا کا
انسان کی یہ قدرت ہو ہم زباں خدا کا
——
وصف آپ کے ہیں عالمِ امکان سے باہر
کیا شان ہے کیا شان ہے اے شانِ محمد
——
حفیظ جونپوری کی نعتیہ شاعری کا سرمایہ مختصر ترین ہوئے بھی اپنے اندر بڑی معنویت ، اہمیت اور کیفیت رکھتا ہے ۔
یوں تو وہ بحیثیت غزل گو شاعر زیادہ معروف ہیں لیکن ان کی چند ایک غزلوں کے اشعار میں بھی نعت کے پھول کھلتے ہیں ۔
اس سے نعت گوئی کی طرف ان کے شغف کا پتہ چلتا ہے ۔:
——
غم قیامت کا اسے کیا اے حفیظؔ
جو غلامِ صاحبِ لولاک ہے
——
دنیا میں جو ہے دین کی دولت وہیں تو ہے
دونوں جہاں کی سیر ہے کُوئے نبی کی سیر
——
جو مدینے میں شب و روز رہا کرتے ہیں
ہم سے پوچھو تو وہی لوگ ہیں قسمت والے
——
حفیظؔ شوقِ زیارت جو ہے درود پڑھو
یہی ہے نذرِ رسالت مآب کے قابل
——
آئیے حفیظؔ کی یہ آرزو بھی ملاحظہ فرمائیے :
——
شاعری میں اب جو ہو مشہور نام
نعت گو مجھ کو کہے دنیا تمام
——
نعتوں کے علاوہ حفیظ جونپوری نے چند منقبت کے اشعار میں بھی اپنا زورِ بیان صرف کیا ہے ۔ ایک مدحیہ غزل حضرت علیؓ کی شان میں ہے جس کا مطلع یہ ہے :
——
گلشن میں یا علی ولی کی پکار ہے
اونچی سروشِ غیب سے صوتِ ہزار ہے
——
ایک نعتیہ قصیدہ کی تشبیب کے اشعار میں خاتونِ جنے حضرت فاطمہؓ کی ولادتِ باسعادت کا ذکرِ جمیل ہے ۔ سبحان اللہ کیا خوب اشعار ہیں :
——
دُلہن کی طرح پھر آراسستہ ہوتی چلی دنیا
درخشندہ ستاروں سے فلک کی زیب زینت ہے
عجب کیا آسماں جھک کے لے رُوئے خاک کا بوسہ
زمیں پر اب طلوع اخترِ مہرِ نبوت ہے
چلی ہیں خلد سے حوریں مبارکباد دینے کو
محمد مصطفیٰ کا گھر بنا گلزارِ جنت ہے
سروشِ غیب بھی جوشِ طرب میں یہ پکار اٹھا
جنابِ فاطمہ خاتونِ جنت کی ولادت ہے
——
حفیظ جونپوری کو بزرگانِ دین میں خواجہ معین الدین چشتیؒ سے خاص عقیدت و محبت ہے اس کا اظہار درج ذیل اشعار سے ہوتا ہے :
——
جبہ سائی کی تمنا ہے درِ خواجہ پر
اب طبیعت کی کشش جانبِ اجمیر ہوئی
——
تاجِ کسریٰ تھا مرے قدموں کے نیچے اے حفیظؔ
سر یہ جب تک خواجہ اجمیر کے در پر رہا
——
یہ بھی پڑھیں : حفیظ تائب کا یوم پیدائش
——
حفیظ جونپوری نے خواجہ غریب نواز کی شان میں ایک منقبت بھی کہی ہے اس کے چند اشعار یہ ہیں :
——
اے در در سیدوں کے حامی سلطان الہند غریب نواز
اے عقدہ کشا ، اولادِ علی سلطان الہند غریب نواز
اے راہِ شریعت کے رہبر اے بحرِ حقیقت کے گوہر
اے باعثِ رونقِ دینِ نبی سلطان الہند غریب نواز
——
دیوانِ اول میں خواجہ اجمیری کی نذر ایک سلام بھی ہے :
——
خواجۂ خواجگاں سلام علیک
ہادیٔ دوجہاں سلام علیک
تاج بخشِ شہاں سلام علیک
فقر کے حکمراں سلام علیک
یہ درِ فیض چُھوٹتا ہے اب
شہہِ ہندوستاں سلام علیک
پھر وہ دن ہوں کہ ہم کہیں ہونہی
تھام کر آستاں سلام علیک
——
منتخب کلام
——
قبلہ ہے مرا کعبۂ ابروئے محمد
دل سُوئے محمد ہے نظر سُوئے محمد
اعلیٰ تھی سرِ عرش سے بھی جائے محمد
معراج میں اللہ سے مل آئے محمد
——
چھوڑ کر دامانِ احمد پھر ٹھکانا ہی نہیں
اپنے سر بارِ شفاعت کوئی لیتا ہی نہیں
آپ ختم الانبیاء ہیں آپ ہیں ختم الرُسل
مرتبے تک آپ کے کوئی پہنچا ہی نہیں
——
خدا کی وہ رحمت میں داخل ہوا
یہ جس نے کہا مصطفیٰ مصطفیٰ
——
پڑ گئی ہے دونوں عالم دہائی آپ کی
کلمہ گو ہے یا نبی ساری خدائی آپ کی
——
ملے ہیں کربلا سے ہشت جنت کے جو رستے ہیں
زمیں کے دن جو پھرتے ہیں تو یوں ویرانے بستے ہیں
حفیظؔ اشکِ عزا کی قدر و قیمت کیا کہوں تجھ سے
یہ موتی نقدِ جاں دے کر بھی ہاتھ آئیں تو سستے ہیں
——
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
——
جھوم کر ابر جو اٹھے تو ادھر جام چلے
پردہ پوش اس کی ہو رحمت تو بڑا کام چلے
پھر گیا بادِ بہاری کا سماں آنکھوں میں
جھومتے جھامتے جب رند مئے آشام چلے
——
لحاظِ توبہ کا دشمن ہے یہ برسات کا موسم
گھٹا ہو اور للچائے نہ جی یہ کہنے کی باتیں ہیں
——
مری کُھل کر سیہ کاری تو دیکھو
پھر اُس کی شانِ ستاری تو دیکھو
گھٹائیں جُھک رہی ہیں میکدے پر
نزولِ رحمتِ باری تو دیکھو
تمہارے ناز کا تو پوچھنا کیا
ہماری ناز برداری تو دیکھو
نشیمن سے چلا ہوں جانبِ دام
مرا ذوقِ گرفتاری تو دیکھو
کرے بیعت حفیظؔ اشرف علی سے
بہ ایں غفلت یہ ہشیاری تو دیکھو
——
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
نہیں مرتے ہیں تو ایذا نہیں جھیلی جاتی
اور مرتے ہیں تو پیماں شکنی ہوتی ہے
دن کو اک نور برستا ہے مری تربت پر
رات کو چادر مہتاب تنی ہوتی ہے
تم بچھڑتے ہو جو اب کرب نہ ہو وہ کم ہے
دم نکلتا ہے تو اعضا شکنی ہوتی ہے
زندہ در گور ہم ایسے جو ہیں مرنے والے
جیتے جی ان کے گلے میں کفنی ہوتی ہے
رت بدلتے ہی بدل جاتی ہے نیت میری
جب بہار آتی ہے توبہ شکنی ہوتی ہے
غیر کے بس میں تمہیں سن کے یہ کہہ اٹھتا ہوں
ایسی تقدیر بھی اللہ غنی ہوتی ہے
نہ بڑھے بات اگر کھل کے کریں وہ باتیں
باعث طول سخن کم سخنی ہوتی ہے
لٹ گیا وہ ترے کوچے میں دھرا جس نے قدم
اس طرح کی بھی کہیں راہزنی ہوتی ہے
حسن والوں کو ضد آ جائے خدا یہ نہ کرے
کر گزرتے ہیں جو کچھ جی میں ٹھنی ہوتی ہے
ہجر میں زہر ہے ساغر کا لگانا منہ سے
مے کی جو بوند ہے ہیرے کی کنی ہوتی ہے
مے کشوں کو نہ کبھی فکر کم و بیش رہی
ایسے لوگوں کی طبیعت بھی غنی ہوتی ہے
ہوک اٹھتی ہے اگر ضبط فغاں کرتا ہوں
سانس رکتی ہے تو برچھی کی انی ہوتی ہے
عکس کی ان پر نظر آئینے پہ ان کی نگاہ
دو کماں داروں میں ناوک فگنی ہوتی ہے
پی لو دو گھونٹ کہ ساقی کی رہے بات حفیظؔ
صاف انکار سے خاطر شکنی ہوتی ہے
——
شکوہ کرتے ہیں زباں سے نہ گلا کرتے ہیں
تم سلامت رہو ہم تو یہ دعا کرتے ہیں
پھر مرے دل کے پھنسانے کی ہوئی ہے تدبیر
پھر نئے سر سے وہ پیمان وفا کرتے ہیں
تم مجھے ہاتھ اٹھا کر اس ادا سے کوسو
دیکھنے والے یہ سمجھیں کہ دعا کرتے ہیں
ان حسینوں کا ہے دنیا سے نرالا انداز
شوخیاں بزم میں خلوت میں حیا کرتے ہیں
حشر کا ذکر نہ کر اس کی گلی میں واعظ
ایسے ہنگامے یہاں روز ہوا کرتے ہیں
لاگ ہے ہم سے عدو کو تو عدو سے ہمیں رشک
ایک ہی آگ میں ہم دونوں جلا کرتے ہیں
ان کا شکوہ نہ رقیبوں کی شکایت ہے حفیظؔ
صرف ہم اپنے مقدر کا گلا کرتے ہیں
——
عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہے
نظر نہ جس سے ملاتے تھے ہم وہی اب آنکھیں دکھا رہا ہے
بڑھی ہے آپس میں بد گمانی مزہ محبت کا آ رہا ہے
ہم اس کے دل کو ٹٹولتے ہیں تو ہم کو وہ آزما رہا ہے
گھر اپنا کرتی ہے نا امیدی ہمارے دل میں غضب ہے دیکھیو
یہ وہ مکاں ہے کہ جس میں برسوں امیدوں کا جمگھٹا رہا ہے
بدل گیا ہے مزاج ان کا میں اپنے اس جذب دل کے صدقے
وہی شکایت ہے اب ادھر سے ادھر جو پہلے گلہ رہا ہے
کسی کی جب آس ٹوٹ جائے تو خاک وہ آسرا لگائے
شکستہ دل کر کے مجھ کو ظالم نگاہ اب کیا ملا رہا ہے
یہاں تو ترک شراب سے خود دل و جگر پھنک رہے ہیں واعظ
سنا کے دوزخ کا ذکر ناحق جلے کو تو بھی جلا رہا ہے
کروں نہ کیوں حسن کا نظارہ سنوں نہ کیوں عشق کا فسانہ
اسی کا تو مشغلہ تھا برسوں اسی کا تو ولولہ رہا ہے
امید جب حد سے بڑھ گئی ہو تو حاصل اس کا ہے ناامیدی
بھلا نہ کیوں یاس دفعتاً ہو کہ مدتوں آسرا رہا ہے
مجھے توقع ہو کیا خبر کی زباں ہے قاصد کی ہاتھ بھر کی
لگی ہوا تک نہیں ادھر کی ابھی سے باتیں بنا رہا ہے
ذرا یہاں جس نے سر اٹھایا کہ اس نے نیچا اسے دکھایا
کوئی بتائے تو یہ زمانہ کسی کا بھی آشنا رہا ہے
حفیظؔ اپنا کمال تھا یہ کہ جس کے ہاتھوں زوال دیکھا
فلک نے جتنا ہمیں بڑھایا زیادہ اس سے گھٹا رہا ہے
——
حوالہ جات
——
کتاب : حفیظ جونپوری حیات اور شاعری از طفیل اںصاری
باب : نعت گوئی ، صفحہ نمبر 153 تا 158
تاریخِ وفات کا عکس
حفیظ جونپوری کی تاریخِ وفات کا عکس
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ