اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر حق کانپوری کا یومِ پیدائش ہے ۔

حق کانپوری(پیدائش: 7 اکتوبر 1942ء – وفات: 22 اکتوبر 2019ء)
——
حق کانپوری 7 اکتوبر 1942 کو رائے بریلی میں پیدا ہوئے ۔ چونکہ انہوں نے پوری زندگی کانپور میں گزاری اس لیے نام کے ساتھ کانپوری لکھتے رہے ۔
حق کانپوری مشاعرے کی دنیا کے ایک قد آور اور مقبول شاعر تھے ۔ 70 ء کی دہائی کے آخر اور 80 ء کی دہائی کی ابتدا میں ان کی مشاعروں میں آمد ہوئی ۔
خمار بارہ بنکوی ، انور صابری ، شمیم جے پوری اور راز الہ آبادی کی نسل کے بعد وہ کلاسیکل شاعری کی پہچان بن گئے ۔
کانپور کے حوالے سے فنا نظامی کانپوری کے بعد انہوں نے بڑی شہرت حاصل کی اور کئی دہائیوں تک وہ مشاعروں میں چھائے رہے ۔
ان کی کئی غزلیں دنیا میں گونجتی رہیں جن میں
——
پہلے کبھی پوچھا تھا جو اب پوچھ رہی ہے
دنیا مرے لُٹنے کا سبب پوچھ رہی ہے
——
کو ہزاروں بار سنا گیا ۔ حق صاحب کا ترنم بالکل منفرد تھا اور کم از کم 20 سال وہ دیوبند کے مشاعرے میں پابندی کے ساتھ آتے رہے اور یوں آل انڈیا مشاعروں کی رونق بنے رہے ۔
وہ ایک نفیس اور بہترین مزاج کے مالک تھے ۔ ان کا اخلاق اور ان کے روزمرہ کے معاملات بھی ان کے بہترین آدمی ہونے کی گواہی دیتے تھے ۔
ڈاکٹر نیاز دیو بندی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
حق کانپوری کے انتقال سے مشاعروں کی دنیا ایک بڑا نقصان ہوا ۔ وہ کلاسیکل غزلیں پڑھ کر معروف شاعر بنے ۔ جب وہ شاعری کر رہے تھے تو ہمارا ابتدائی زمانہ تھا ، اس کے بعد ان کے ساتھ سفر کرنے اور مشاعرے پڑھنے کا موقع ملا ۔ وہ بہت ہی قابلِ احترام بزرگ تھے ۔ جس زمانے میں یہ غزل پڑھ رہے تھے تو وہ دور نور اندوری ، ساغر اعظمی اس زمانہ کے مشور شاعر تھے ۔ وہ بہت اچھے انسان اور ملنسار شخص تھے ۔ وہ اپنے ہم سفروں کے ساتھ بہت محبت اور شفقت والا معاملہ رکھتے تھے ۔ ان کی بہت سی غزلیں مشہور ہیں جنہوں نے انہیں شہرت کی بلندیوں پہ پہنچایا ہے ۔
مرحوم حق کانپوری دیوبند میں بھی بہت مقبول تھے ۔ انہیں مشاعروں میں کافی بلایا جاتا تھا اور ان کی شاعری کو خوب پسند کیا جاتا تھا ۔
ڈاکٹر شمیم دیوبندی اپنے تعزیتی پیغام میں لکھتے ہیں کہ :
——
——
حق کانپوری کا شمار ان شعرا میں کیا جاتا ہے جنہون نے اردو شعر و ادب کو جلا بخشی ہے ۔ وہ ایک شخص ہی نہیں بلکہ ایک شخصیت کے حامل تھے ۔
شاعر ہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ایک نیک دل انسان تھے ۔ ان کا یہ خلا پُر ہونا بہت مشکل کام ہے ۔
جب جب بھی بزمِ سخن کی محفلیں سجائی جائیں گی وہ ہمیشہ یاد کیے جائیں گے ۔
——
منتخب کلام
——
دل کو موہ لینے کے اور رُخ نکالیے
پتھروں کے شہر میں آئینے نہ ڈھالیے
——
کون آ گیا تھا میرے خواب کے دیار
جانے کس کو ڈھونڈنے دور تک نظر گئی
پہلے تو اُلجھ گیا تھا میں مہو نجوم میں
بعد میں میری نظر تیرے حسن پر گئی
میری کائنات میں ایک نور بھر گیا
آپ مسکرا دیئے زندگیِ سنور گئی
——
تجھ کو پانے کے لئے دونوں جہاں دیکھے گئے
یہ زمیں روندی گئی یہ آسماں دیکھے گئے
کیا بتائیں؟ حضرتِ زاہد کہاں دیکھے گئے
وہ جہاں دیکھے نہ جاتے تھے وہاں دیکھے گئے
منزلِ مقصود تھی سب کی نظر کے سامنے
اک ہمیں تھے کارواں در کارواں دیکھے گئے
انقلاباتِ زمانہ کا کرشمہ دیکھ کر
سر فروشانِ وطن بھی بدگماں دیکھے گئے
میں وہ رسوائے محبت ہوں کہ ہر اک بزم میں
میرے چرچے داستاں در داستاں دیکھے گئے
حقؔ کوئی پھر حادثہ گزرا ہے کیا اس دور میں
لوگ اخباروں کی پڑھتے سرخیاں دیکھے گئے
——
حوالہ جات
——
شعری انتخاب از فیس بک : متفرق صفحات
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات