اردوئے معلیٰ

Search

ہاتھ جوڑے ہیں التجا کے لیے

مان بھی جاؤ اب خدا کے لیے

 

اشک کرتے ہیں حال دل کا بیان

لفظ ملتے نہیں دعا کے لیے

 

حرفِ تسکیں کی بھیک ہے درکار

ایک مہجور و بے نوا کے لیے

 

مہر و الفت سے بڑھ کے کیا ہو گا

آج انسان کی بقا کے لیے

 

لاکھ مجھ پر زمانہ ڈھائے ستم

ہنس کے سہہ لوں تری رضا کے لیے

 

سر ہے در پر ترے جھکانے کو

اور زباں ہے تری ثنا کے لیے

 

کیسے خدشات سے لڑے تھے ہم

اک تعلق کی ابتدا کے لیے

 

اس کو آیا نہ رحم عاطفؔ پر

لاکھ ہم نے کہا خدا کے لیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ