اردوئے معلیٰ

حمیرا جمیل
قیامِ پاکستان سے قبل ہی اقبال شناسی کی بنیاد پڑچکی تھی لیکن اُس میں خواتین کا حصہ نا ہونے کے برابر تھا۔لیکن پاکستان کے قائم ہو نے کے بعد جہاں اقبال شناسی میں حضرات نے اپنا کردار بخوبی نبھایا وہیں خواتین نے بھی اس میں حصہ ڈالا۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مردوں کے مقابلے میں اُن کی تعداد کم ہے لیکن اُن کی اس کاوش کوجو کہ اقبال شناسی کے فروغ کا ذریعہ بنی بالکل بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا ہی ایک بڑا نام عطیہ فیضی کا ہے۔ جنہوں نے اپنی انگریزی بیاض میں اقبال شناسی کے اُن پہلوؤں کو اُجاگر کیا جو دوسرے تمام مصنّفین اور اقبال کے رفقاء سے پوشیدہ تھے۔ جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ عطیہ فیضی خود یورپ میں اقبال سے ملیں اور وہ تمام لمحات و واقعات جو اقبال کے ساتھ گزرے ‘ اُن کو قلمبند کیا۔
عطیہ فیضی کی اس کتاب نے اقبال شناسی میں تحقیق کو نئے زاویے مہیا کیے اور اقبال کی حیات کے وہ پہلو ہمارے سامنے آئے جو اس سے قبل پوشیدہ تھے۔اس کے علاوہ بھی اقبال شناسی کے فروغ میں گاہے بہ گاہے خواتین اپناحصہ ڈالتی رہیں۔اگر قیامِ پاکستان کے بعد اس اب تک اس فہرست پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فکرِ اقبال کے فروغ میں خواتین کا کردار بھی دوسرے شعبہ جات کی طرح کسی سے کم نہیں۔ خواتین جن کا تعلق چاہے پاکستان سے ہو یا دیارِ غیر سے‘ اقبال سے اُن کی والہانہ عقیدت ڈھکی چھپی نہیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : حمیرا رحمان کا یوم پیدائش
——
دیارِ غیر سے ایسا ہی ایک نام ڈاکٹر این میری شمل کا ہے ‘ جن کا تعلق جرمنی سے تھا۔ شمل نے یورپ میں بالعموم اور جرمنی میں بالخصوص علامہ اقبال کی شخصیت اور اُن کی فکر کو متعارف کروایا۔ علامہ اقبال کی فکر پر آپ کی تحریریں قابلِ توجہ ہیں۔ فکرِ اقبال کی ترویج کے لیے آپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان نے آپ کو ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے بھی نوازا۔ اقبال شناسی کا یہ سلسلہ رُکا یا تھما نہیں بلکہ اس میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔
خود کلامِ اقبال میں علامہ محمد اقبال نے خواتین کا تذکرہ کیا ہے تو یہ کیسے ممکن نہ تھا کہ خواتین بھی ترویجِ فکرِ اقبال میں مردوں سے پیچھے رہتیں۔علامہ اقبال نے اپنی کئی نظموں کے نام خواتین کے ناموں پر رکھے ہیں اور کچھ نظموں کے عنوان سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں موضوع خواتین ہیں یا پھر کسی خاتون کا تذکرہ ہے۔ ضربِ کلیم میں تو پورا ایک حصہ ’’عورت‘‘ کے نام سے معنون کیا گیا ہے۔ جس میں علامہ اقبال کے خواتین کے بارے میں نظریات و تصورات واضح ہیں۔
اس کے علاوہ آپ نے اپنی نثری تحریروں میں بھی خواتین کا تذکرہ کیا ہے جن میں ’’خطبہ علی گڑھ‘‘ اور ’’قومی زندگی‘‘شامل ہیں۔ آپ اپنی انگریزی بیاض میں تحریر کرتے ہیں کہ’’کسی بھی معاشرے میں مذہب کا اصولی محافظ کون ہے؟ جو۱ب ہے: عورت۔ مسلمان عورت کو صحیح مذہبی تعلیم حاصل ہونی چاہیے کیونکہ عملاً وہی معاشرے کی معمار ہیں‘‘۔علامہ محمد اقبال بنیادی طور پر ایک مفکر ہیں جن کی نظر ہر شعبۂ زندگی پر رہی۔ اُنھوں نے انسانی حیات سے وابستہ مختلف اُمور پر اظہارِ خیال فرمایا اور خصوصیت کے ساتھ اپنی شاعری میں فرد کی ذات‘ انسانی حیات اور جملہ اُمورِ حیات پر عالمانہ و فلسفیانہ نگاہ ڈالی۔ حکیم الامت استحکام معاشرت میں عورت کی اہمیت کے قائل تھے ۔ ضربِ کلیم میں اُنہوں نے نہایت حکیمانہ اور بصیرت افروز پیرایے میں عورت کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے:
——
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشتِ خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اُسی دُرج کا دُر مکنوں!
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی ،لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارافلاطوں!
——
یہ بھی پڑھیں : قمر جمیل کا یوم پیدائش
——
پاکستان کے بڑے شہروں کے علاوہ دوردراز کے علاقوں سے بھی خواتین نے افکارِ اقبال کے فروغ کے لیے اپنا کردار بخوبی نبھایا ہے۔ ایسا ہی ایک نام موجودہ دور میں محترمہ حمیرا جمیل کا ہے۔ جو شہراقبال سیالکوٹ کے ایک نواحی علاقہ سے تعلق رکھتی ہیں۔علامہ اقبال سے محبت اِنہیں بچپن سے ہی میسر آئی جب سکول میں آپ نے کلام اقبال کو سنا اور اُسے یاد کیا۔ علامہ اقبال سے والہانہ عقیدت میں روز بہ روز اضافہ ہوتا چلا گیا اور آپ نے اپنے ایم ۔ فل کے تحقیقی مقالے کے لیے جس عنوان کا انتخاب کیا وہ’’قیامِ پاکستان کے بعد اقبال شناسی میں خواتین کا کردار‘‘ تھا۔ آپ نے اپنی انتھک محنت اور لگن سے اس موضوع کے ساتھ نہ صرف انصاف کیا بلکہ ہمارے سامنے بہت سے ایسے پنہاں پہلو عیاں کیے جوعام قارئین کی نظروں سے پوشیدہ تھے۔ موضوع انتہائی تحقیق طلب تھا لیکن حمیرا جمیل نے اس کو بخوبی نبھایا۔ جیسا کہ میں نے اُوپر دو خواتین کاخصوصی طور پر ذکر کیا ہے جنہوں نے اقبال شناسی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا‘ اگر میں یہ کہوں کہ حمیرا جمیل کو بھی اقبال شناسی میں ایک منفرد مقام حاصل ہو چکا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ آپ اقبال شناسی کی ترویج میں وہ پہلی خاتون ہیں جنہیں کلامِ اقبال اُردو کی مکمل شرح لکھنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس طرح اس ضمن میں اقبالیات میں آپ کا نام ہمیشہ سرفہرست رہے گا۔ آپ نے شاعر مشرق کی شعری اُردو تصانیف بانگِ درا‘ بالِ جبریل‘ ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز کے اُردو حصہ کی شرح مکمل کی۔ آپ سے قبل کلامِ اقبال کی جو شرحیں شائع ہوئیں تھیں ‘ وہ سب مرد حضرات کی لکھی ہوئی تھیں۔ یہ تمام شروح علیحدہ علیحدہ کتابی صورت میں شائع ہوئیں جنہیں بعد ازاں یکجا (ایک کتاب ) بھی شائع کر دیا گیا ہے۔حمیرا جمیل سے قبل بھی کلامِ اقبال کی شرحیں شائع ہوئیں لیکن حمیرا جمیل نے یہ شرحیں آسان اور عام فہم انداز کو اختیار کیا ہے۔ یہاں حمیرا جمیل کو ایک اور اعزاز بھی حاصل ہے کہ کلامِ اقبال کی شرحیں لکھنے والے اب تک جتنے بھی افراد ہیں اُن میں حمیرا جمیل سب سے کم عمر ہیں۔حمیرا جمیل کو علامہ اقبال کی شخصیت اور فکر سے جو لگن ہے اُس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ شہر اقبال سے ایک ایسی آواز بننا چاہتی ہیں جس کا مقصد نسلِ نو میں افکارِ اقبال کو فروغ دیا جائے۔اس کا اظہار وہ خود اِن الفاظ میں کرتی ہیں کہ’’میں نے اس کلامِ اقبال کی شرح لگن اور محنت سے کی ہے حالانکہ میرے پیش نظر عام قاری کی نسبت زیادہ تر طلبہ ہیں‘ اس لیے کوشش کی ہے کہ زبان سادہ اور عام فہم ہو‘‘۔جب وہ کلامِ اقبال کی شرح پر قلم اُٹھا رہی ہوں گی تو اُس وقت اُن کے پیشِ نظر اس سے قبل کلامِ اقبال کی شرحیں بھی ہوں گی‘ جن سے اپنا الگ راستہ بنانا ایک کٹھن مرحلہ ہو گا لیکن حمیرا جمیل کی لگن نے اس دشوار مرحلہ کو بآسانی عبور کیا اور اپنی سلیس زبان میں کلامِ اقبال کی شرح کو ہم تک پہنچایا۔
——
یہ بھی پڑھیں : اقبال عظیم کا یوم پیدائش
——
کلامِ اقبال ارُدو کی شرح سے قبل آپ نے معروف اقبال شناسوں کے مختلف مضامین کو ایک کتابی صورت میں مرتب کیا تھا‘ جو اقبالیاتی ادب میں ایک خوب صورت اضافہ تھا۔آپ نے یہ کتاب ’’بیانِ اقبال:فکرِاقبال کا توضیحی بیان‘‘ کے عنوان سے مرتب کی تھی۔ اس کتاب میں اُن ماہرین اقبالیات کے مضامین شامل ہیں جنہوں نے اقبالیات کا نہ صرف گہرا مطالعہ کر رکھا تھا بلکہ فروغِ فکرِ اقبال کا باعث تھے۔
اگر ہم حمیرا جمیل کے ادبی ذوق کا بغور جائزہ لیں تو ہمیں اُن کی بہت سی ادبی تحریریں بھی ملتی ہیں۔ آپ کا یہی شوق آپ کو کلامِ اقبال کی شرح سے پہلے ادبی حلقوں میں متعارف کروا چکا تھا۔حمیرا جمیل کی دو کتب جو کہ ’’تلخ حقیقت‘‘ (کالموں کا مجموعہ) اور ’’درد کا سفر‘‘ (افسانے) منظر عام پر آ چکے تھے۔ان دونوں کتب پر بھی آپ کی خوب پذیرائی ہوئی ۔ حمیرا جمیل سے میرا تعلق گزشتہ ایک سال سے زائد عرصہ پر محیط ہے ۔مجھے آج بھی وہ پہلی ملاقات یاد ہے جو اِن سے اقبال منزل‘ سیالکوٹ میں ہوئی۔میرے لیے یہ لمحہ حیرت ناک تھا کہ ایک کم عمر لڑکی ‘ جس کا تعلق سیالکوٹ سے ہے ‘ اتنی کم عمری میں کس قدر ادبی ذوق رکھتی ہے۔بلاشبہ حمیرا جمیل نسلِ نو کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
میں دُعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ حمیرا جمیل کو مزید علمی اور فکری کام کرنے کی توفیق دے ۔
——
میاں ساجد علی ، چیئرمین۔ علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات