اردوئے معلیٰ

Search

 

ہے کم جتنا بھی نازاں اس پہ ہو امت محمد کی

ہے فضلِ خاصِ رب العٰلمیں بعثت محمد کی

 

جمال و حسن کا پیکر کمالِ خلق کا مظہر

خوشا وہ صورتِ انور زہے سیرت محمد کی

 

کلوخ اندازی اہل ستم طائف کی گلیوں میں

رقم کیا کیجئے ناگفتہ بہ حالت محمد کی

 

لبِ پاکیزہ سے نکلی نہ کوئی بد دعا پھر بھی

زہے صبر و عزیمت رافت و رحمت محمد کی

 

ملا ہے خیرِ امت کا لقب دربارِ باری سے

امیرِ کاروانِ خلق ہے امت محمد کی

 

خزف ریزہ کہو یا مضغۂ خوں تم اسے سمجھو

وہ بے قیمت ہے دل جس میں نہیں الفت محمد کی

 

خدا سے عام بخشش کی طلب اس کا ہی منصب ہے

بایں پہلو اگر سوچیں تو ہے جنت محمد کی

 

ہے زیبا فخر و ناز اس کو ہے اترانا بجا اس کا

نظر آ جائے جس کو خواب میں صورت محمد کی

 

چلا چل استقامت سے یہی تو راہِ جنت ہے

جسے کہتے ہیں اے رہرو رہِ سنت محمد کی

 

کیا کرتا ہوں صرفِ نعت گوئی لمحۂ فرصت

عبادت میں سمجھتا ہوں نظرؔ مدحت محمد کی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ