اردوئے معلیٰ

Search

 

ثنائے پاکِ ختم المرسلیں گو امرِ مشکل ہے

مگر مشکل مری یہ ہے کہ دل اس پر ہی مائل ہے

 

تو ہے مسند نشینِ فرش لیکن عرش منزل ہے

بایں پہلو کہاں کوئی ترے مدِ مقابل ہے

 

زمانہ کے لئے روشن چراغِ راہ و منزل ہے

کہ جس کی رہنمائی تا قیامت سب کو حاصل ہے

 

تمہارا دین ہی واللہ اپنانے کے قابل ہے

کہا سب حرفِ آخر ہے شریعت تیری کامل ہے

 

محاسن کا ترے شاہا زمانہ ہی نہیں قائل

ترے خلقِ مطہر کا تو خالق خود بھی قائل ہے

 

سکندر ہو کہ دارا ہو وہ سلطاں ہو کہ قیصر ہو

ترے آگے تو مسکیں ہے ترے آگے تو سائل ہے

 

ہزاروں رحمتیں اس پر کہ جو صورت میں سیرت میں

براہیمِ خلیل اللہ کے بالکل مماثل ہے

 

قدم بھٹکے نظر الجھی خرد زائل ہے امت کی

عمل سے ہے تہی داماں فقط کلمہ کی قائل ہے

 

اسے قرآں سے کچھ مطلب نہ مطلب ہے شریعت سے

تری امت شہا اک کارواں بر پشتِ منزل ہے

 

پکڑ لوں گا، پکڑ لوں گا ترا دامن شہِ والا

مجھے طوفانِ محشر میں ترا دامن ہی ساحل ہے

 

سرِ محشر عنایت کی نظرؔ اس پر بھی ہو شاہا

غلامِ بے بضاعت بھی ثنا خوانوں میں شامل ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ