اردوئے معلیٰ

Search

عشق سلطانِ دو سرا کیا ہے

ہے عطا رب کی اور کیا، کیا ہے

 

جو فقیرانِ کوئے طیبہ ہیں

اُن کی عظمت کا پوچھنا کیا ہے

 

کیف و مستی ہے لب پہ نعتِ نبی

یہ نجانے مجھے ہوا کیا ہے

 

خواہشیں ساری جانتے ہیں حضور

کیا بتاؤں کہ مدعا کیا ہے

 

عاشقِ مصطفیٰ ہی جانتا ہے

عاشقی کیا ہے اور وفا کیا ہے

 

جابجا مصطفائی جلوے ہیں

کیا نجف اور کربلا کیا ہے

 

اُن پہ ہر دم درود پڑھتے رہو

یہ عبادت ہے سوچنا کیا ہے

 

میرے سرکار جانتے ہیں مری

آرزو کیا ہے اور دُعا کیا ہے

 

کیوں دھڑکتا ہے اتنی شدت سے

’’دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے‘‘

 

تم کو معلوم ہی نہیں خاکیؔ

دیدِ سرکار کا مزا کیا ہے

 

(برزمینِ مرزا غالبؔ)

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ