اردوئے معلیٰ

آج معروف شاعر اور گیت کار جاں نثار اختر کا یوم وفات ہے۔

جان نثار اختر(ولادت: 18 فروری 1914ء – وفات: 19 اگست 1976ء)
——
مشہور اردو شاعر اور گیت کار جاں نثار اختر 18 فروری 1914 کو بھارت کے شہر گوالیار (مدھیہ پردیش) میں پیدا ہوئے۔
بیسویں صدی کے عظیم اردو غزل اور نظم گو شاعروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ وہ ترقی پسند رائٹرز تحریک کا حصہ تھے۔
وہ گیت کار جاوید اختر کے والد تھے اور مضطر خیر آبادی کے بیٹے تھے۔
1938ء میں علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔ 1940ء میں وکٹوریا کالج گوالیار میں اردو کے لیکچرار ہوگئے۔ اس کے بعد حمیدیہ کالج بھوپال میں اسی عہدے پر مقرر ہوئے۔ یہاں سے استعفیٰ دے کر ممبئی چلے گئے جہاں فلمی دنیا سے منسلک ہوگئے۔
نظموں کے مجموعے سلاسل، پچھلے پہر اور نذر بتاں شائع ہوچکے ہیں۔ 1976ء میں انہیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ ترقی پسند اور انقلابی شاعر تھے اور ان کے شاعری میں اس کا اظہار ہوتا ہے
انہوں نے 151 فلمی گانے لکھے۔ جن مشہور فلموں میں ان کے نغمے شامل ہیں ان کے نام ’’یاسمین، سی آئی ڈی، رستم سہراب، نوری، پریم پروت، شنکر حسین، رضیہ سلطان‘‘ ہیں۔
19 اگست 1976 کو ان کا انتقال ہوا۔
——
جاں نثار اختر: اے دلِ ناداں، آرزو کیا ہے، جستجو کیا ہے
تحریر اقبال رضوی
——
بے مثال شاعر، وفادار دوست، دردمند انسان لیکن بے حد خراب شوہر اور غیر ذمہ دار باپ یعنی جاں نثار اختر۔ ان کا نہ تو ایک فلمی نغمہ نگار کی حیثیت سے کبھی ایمانداری سے تجزیہ کیا گیا اور نہ ہی ایک شاعر کے طور پر ان کے تعاون کو یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن ان کے قلم میں وہ طاقت تھی کہ ان کے اشعار آج بھی لوگوں کی زبان پر چڑھے ہوئے ہیں۔
جاں نثار اختر کے یوم پیدائش کو لے کر بھی دو تاریخیں موضوعِ بحث رہتی ہیں۔ ایک تو 8 فروری اور دوسرا 18 فروری۔ گوالیار میں سال 1914 میں پیدا ہوئے جاں نثار کے دادا فضل حق خیر آبادی اور والد مضطر خیر آبادی اپنے وقت کے استاد شاعر تھے اور ماں بھی اعلیٰ درجے کی شاعرہ تھیں۔
یہ گھر کے ماحول کا ہی اثر تھا کہ جاں نثار اختر نے 13 سال کی عمر سے شاعری کرنی شروع کر دی۔ علی گڑھ یونیورسٹی سے 1936 میں اردو میں ایم اے کرنے کے بعد وہ گوالیار کے وکٹوریا کالج میں اردو پڑھانے لگے۔ کچھ وقت بعد وہ بھوپال پہنچ کر حمیدیہ کالج میں محکمہ اردو کے صدر ہو گئے جہاں ان کی بیوی صفیہ بھی پڑھاتی تھیں۔
——
یہ بھی پڑھیں : نامور شاعر بشیر بدر کا یوم پیدائش
——
آزادی کے بعد جب حکومت پروگریسیو رائٹرس ایسوسی ایشن کے اراکین پر سخت نظر رکھنے لگی تو جاں نثار گوالیار سے ممبئی چلے گئےجہاں ان کے تمام ساتھی جیسے سردار جعفری، کیفی اعظمی، مجروح، اخترالایمان اور عصمت چغتائی جیسے ادیب پہلے ہی جمع ہو چکے تھے۔ تب تک جاں نثار دو بچوں جاوید اختر اور سلمان اختر کے والد بن چکے تھے۔ صفیہ جاں نثار کو بہت چاہتی تھیں اسی لیے جب جاں نثار نے ممبئی کا رخ کیا تو فیملی سنبھالنے کی ذمہ دار ی صفیہ نے اپنے کندھوں پر لے لی۔
جاں نثار اختر ممبئی گئے تو پھر کبھی صفیہ کے پاس واپس نہیں لوٹے۔ صفیہ لگاتار جاں نثار کو خط لکھتی رہتیں کہ بچے بڑے ہو رہے ہیں انھیں دیکھنے کے لیے ہی آ جاؤ، لیکن جاں نثار نہیں لوٹے، جب کہ صفیہ جاں نثار کا ممبئی کا خرچ تب تک اٹھاتی رہیں جب تک کہ کینسر سے ان کا انتقال نہیں ہو گیا۔
ممبئی پہنچنے پر کچھ دنوں تک جاں نثار مشہور ناول نگار عصمت چغتائی کے یہاں رہے۔ روزگار کے لیے انھوں نے فلموں میں نغمہ نگاری میں ہاتھ آزمایا اور سب سے پہلے فلم ’شکایت‘ کے لیے انھوں نے نغمہ لکھا ’’کولتار میں رنگ دے پیا موری چندریا‘‘ لیکن فلم بری طرح فلاپ ہو گئی۔
اس کے بعد جاں نثار اختر ساحر لدھیانوی کے بہت قریب ہو گئے۔ ساحر لدھیانوی اور جاں نثار کے درمیان پروگریسیو رائٹرس ایسوسی ایشن والی دوستی تھی۔ انھوں نے اپنی زندگی کے سب سے حسین سال ساحر لدھیانوی کی دوستی میں برباد کر دیے۔ جاں نثار طویل مدت تک ساحر کے سائے میں ہی رہے اور ساحر کے سائے سے انھیں ابھرنے کا موقع نہیں ملا۔ جاں نثار کا مطلب ہوتا ہے جان نچھاور کرنے والا اور جاں نثار نے شاعری اور شراب پر پوری زندگی نچھاور کر دی۔
اس دور میں مجروح سلطان پوری نے یہ کہہ کر سنیما اور دنیائے ادب میں ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ ساحر کے بہت سے نغمے جاں نثار اختر لکھتے ہیں۔ ساحر اور جاں نثار اختر دونوں کے قریبی رہے ندا فاضلی نے اپنی یاد داشت میں لکھا ہے کہ ساحر کو اپنی تنہائی سے بہت ڈر لگتا تھا۔ جاں نثار اس خوف کو کم کرنے کا ذریعہ تھے جس کے عوض میں وہ ہر مہینے 2000 روپے دیا کرتے تھے۔ یہ جو افواہ اڑی ہوئی ہے کہ وہ ساحر کے گیت لکھتے تھے، یہ درست نہیں ہے لیکن یہ سچ ہے کہ وہ نغمہ لکھنے میں ان کی مدد ضرور کرتے تھے۔ کیونکہ جاں نثار اختر ضرورت سے زیادہ جلد شعر لکھنے والے شاعر تھے۔ ساحر کو ایک مصرع سوچنے میں جتنا وقت لگتا تھا، جاں نثار اتنے وقت میں 25 مصرعے جوڑ لیتے تھے۔
بہرحال سال 1953 میں ریلیز فلم ’نغمہ‘ میں شمشاد بیگم کی آواز میں ان کا نغمہ ’بڑی مشکل سے دل کی بے قراری میں قرار آیا‘ کی کامیابی سے وہ بطور نغمہ نگار اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی دوران ان کی ملاقات موسیقار او پی نیر سے ہوئی جن کے میوزک ڈائریکشن میں انھوں نے فلم ’باپ رے باپ‘ کے لیے نغمے لکھے۔ اس کے بعد ان کی اور او پی نیر کی جوڑی بن گئی۔ سال 1956 میں او پی نیر کی موسیقی سے سجی گرو دَت کی فلم ’سی آئی ڈی‘ میں ان کے لکھے نغمہ ’اے دل ہے مشکل جینا یہاں، ذرا ہٹ کے ذرا بچ کے، یہ ہے ممبئی میری جاں‘ اور ’آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارا ہو گیا، بیٹھ بیٹھ جینے کا سہارا ہو گیا‘ کی کامیابی کے بعد جاں نثار اپنے ہم عصر مجروح، ساحر، کیفی اعظمی، شکیل اور شیلندر کی طرح شہرت حاصل کرنے لگے۔
جاں نثار اختر کی ایک اور بدقسمتی یہ بھی رہی کہ انھیں کسی بھی فلم میں تنہا نغمہ نگاری کے مواقع کم ملے۔ انھوں نے تقریباً 80 فلموں میں نغمے لکھے جن میں محض 10 فلموں میں تنہا نغمہ نگاری کی۔ اس کے علاوہ ان کی نغمہ نگاری والی کئی فلمیں ریلیز ہی نہیں ہو سکیں۔
جاں نثار نے اپنے سب سے بہترین فلمی نغمے خیام کے میوزک ڈائریکشن میں لکھے۔ فلم شنکر حسین کا نغمہ ’آپ یوں فاصلوں سے گزرتے رہے، دل سے قدموں کی آواز آتی رہی‘، پریم پربت کا نغمہ ’یہ دل اور ان کی نگاہوں کے سائے‘، فلم نوری کا نغمہ ’آ جا رے، آ جا رے او میرے دلبر آ جا‘ اور رضیہ سلطان کا نغمہ ’اے دلِ ناداں‘۔ ان سبھی نغموں میں یکسانیت یہ ہے کہ سبھی نغمے جاں نثار نے لکھے، خیام نے موسیقی دی اور ہندی فلموں کے سب سے زیادہ رومانی نغموں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
جاں نثار اختر نے جتنے شاندار فلمی نغمے لکھے اس سے کئی گنا اثردار تصنیفات ادبی دنیا کو دیں۔ سہل زبان میں اشعار لکھنے میں ان کا کوئی جواب نہیں تھا۔ مثال کے لیے ان کے کچھ اشعار حاضر ہیں
——
یہ ہم سے نہ ہوگا کہ کسی ایک کو چاہیں
اے عشق ہماری نہ تیرے ساتھ بنے گی
——
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر اور نقاد حسن اکبر کمال کا یوم پیدائش
——
سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی
ورنہ تو بدن آگ بجھانے کے لیے ہے
——
آنکھیں جو اٹھائیں تو محبت کا گماں ہو
نظروں کو جھکائے تو شکایت سی لگے ہے
——
یہ جاں نثار اختر کی قابلیت کی شہرت ہی تھی کہ جواہر لال نہرو نے انھیں پچھلے 300 سالوں کی ہندوستانی شاعری کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنے کا ذمہ سونپا تھا۔ جاں نثار کی ادارت والی کتاب ’ہندوستاں ہمارا‘ اپنی طرح کی تنہا منظوم کتاب ہے۔ 19 اگست 1976 کو ممبئی میں ہی جاں نثار کا انتقال ہو گیا۔ آج کے دور میں اب جاں نثار کو جاوید اختر کے والد کی شکل میں یاد کر لیا جاتا ہے۔
——
منتخب کلام
——
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
——
اور کیا اس سے زیادہ کوئی نرمی برتوں
دل کے زخموں کو چھوا ہے ترے گالوں کی طرح
——
اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں
کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں
——
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
——
دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ
مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں
——
جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے
ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے
——
قوت تعمیر تھی کیسی خس و خاشاک میں
آندھیاں چلتی رہیں اور آشیاں بنتا گیا
——
تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا
یہ کم نہیں ہمیں جینے کا حوصلہ تو رہا
گزر ہی آۓ کسی طرح تیرے دیوانے
قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا
چلو نہ عشق ہی جیتا نہ عقل ہار سکی
تمام وقت مزے کا مقابلہ تو رہا
میں تیری ذات میں گم ہو سکا نہ تو مجھ میں
بہت قریب تھے ہم پھر بھی فاصلہ تو رہا
یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لاابالی تھی
تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا
——
زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھے
اکارت جائے گا خونِ شہیداں ہم نہ کہتے تھے
عِلاجِ چاکِ پیراہن ہُوا، تو اِس طرح ہوگا
سِیا جائے گا کانٹوں سے گریباں ہم نہ کہتے تھے
ترانے کچھ دبے لفظوں میں خود کو قید کرلیں گے
عجب انداز سے پھیلے گا زِنداں ہم نہ کہتے تھے
کوئی اِتنا نہ ہوگا لاش بھی لے جا کے دفنا دے
اِنھیں سڑکوں پہ مرجائے گا اِنسان ہم نہ کہتے تھے
نظرلپٹی ہے شُعلوں میں، لہو تپتا ہےآنکھوں میں
اُٹھا ہی چاہتا ہے، کوئی طوُفاں ہم نہ کہتے تھے
چَھلکتے جام میں بھیگی ہُوئی آنکھیں اُتر آئیں
ستائے گی کسی دِن یادِ یاراں ہم نہ کہتے تھے
نئی تہذیب کیسے لکھنؤ کو راس آئے گی
اُجڑ جائے گا یہ شہرِغزالاں ہم نہ کہتے تھے
——
ایک تو نیناں کجرارے اور اس پر ڈوبے کاجل میں
بجلی کی بڑھ جائے چمک کچھ اور بھی گہرے بادل میں
آج ذرا للچائی نظر سے اُس کو بس کیا دیکھ لیا
پگ پگ اُس کے دل کی دھڑکن اُتری آئے پائل میں
پیاسے پیاسے نیناں اُس کے جانے پگلی چاہے کیا
تٹ پر جب بھی جاوے ‘سوچے’ ندیا بھر لوں چھاگل میں
صبح نہانے جوڑا کھولے، ناگ بدن سے آ لپٹیں
اُس کی رنگت، اُس کی خوشبو کتنی ملتی صندل میں
چاند کی پتلی نوک پہ جیسے کوئی بادل ٹِک جائے
ایسے اُس کا گِرتا آنچل اٹکے آڑی ہیکل میں
گوری اس سنسار میں مجھکو ایسا تیرا روپ لگے
جیسے کوئی دیپ جلا ہو گھور اندھیرے جنگل میں
کھڑکی کی باریک جھری سے کون یہ مجھ تک آ جائے
جسم چرائے، نین جھکائے، خوشبو باندھے آنچل میں
پیار کی یوں ہر بوند جلا دی میں نے اپنے سینے میں
جیسے کوئی جلتی ماچس ڈال دے پی کر بوتل میں
آج پتہ کیا، کون سے لمحے، کون سا طوفاں جاگ اُٹھے
جانے کتنی درد کی صدیاں گونج رہی ہیں پل پل میں
ہم بھی کیا ہیں کل تک ہم کو فکر سکوں کی رہتی تھی
آج سکوں سے گھبراتے ہیں، چین ملے ہے ہل چل میں
——
ھم نے کاٹی ھیں تری یاد میں راتیں اکثر
دل سے گزری ھیں تاروں کی باراتیں اکثر
عشق راہزن نہ سہی عشق کے ھاتھوں اکثر
ھم نے لٹتی ھوئی دیکھی ھیں باراتیں اکثر
ھم سے اک بار بھی جیتا ھے نہ جیتے گا کوئی
وہ تو ھم جان کے کھالیتے ھیں ماتیں اکثر
ان سے پوچھو کبھی چہرے بھی پڑھے ھیں تم نے
جو کتابوں کی کیا کرتئے ھیں باتیں اکثر
حال کہنا ھو کسی سے تو مخاطب ھے کوئی
کتنی دلچسپ ھوا کرتی ھیں باتیں اکثر
اور تو کون ھے جو مجھ کو تسلی دیتا
ھاتھ رکھ دیتی ھیں دل پر تری باتیں اکثر
——
رنج و غم مانگے ہے، اندوہ و بلا مانگے ہے
دل وہ مجرم ہے کہ خود اپنی سزا مانگے ہے
چپ ہے ہر زخمِ گلو، چپ ہے شہیدوں کا لہو
دستِ قاتل ہے جو محنت کا صِلہ مانگے ہے
تو بھی اک دولتِ نایاب ہے، پر کیا کہیے
زندگی اور بھی کچھ تیرے سوا مانگے ہے
کھوئی کھوئی یہ نگاہیں، یہ خمیدہ پلکیں
ہاتھ اٹھائے کوئی جس طرح دعا مانگے ہے
راس اب آئے گی اشکوں کی نہ آہوں کی
آج کا پیار نئی آب و ہوا مانگے ہے
بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی
ہر سکوتِ شبِ غم کوئی صدا مانگے ہے
لاکھ منکر سہی پر ذوقِ پرستش میرا
آج بھی کوئی صنم، کوئی خدا مانگے ہے
سانس ویسے ہی زمانے کی رکی جاتی ہے
وہ بدن اور بھی کچھ تنگ قبا مانگے ہے
دل ہر اک حال سے بیگانہ ہوا جاتا ہے
اب توجہ، نہ تغافل، نہ ادا مانگے ہے
——
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ھے کہ تم ھو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
جب شاخ کوئی ھاتھ لگاتے ھی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
صندل سے مہکتی ھوئی پر کیف ھوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
اوڑھے ھوئے تاروں کی چمکتی ھوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
——
تو اسقدر مجھے اپنے قریب لگتا ھے
تجھے الگ سوچوں تو عجیب لگتا ھے
جسے نہ حسن سے مطلب نہ عشق سے سروکار
وہ شخص مجھ کو بہت بد نصیب لگتا ھے
حدود ذات سے باہر نکل کے دیکھ ذرا
نہ کوئی غیر نہ کوئی رقیب لگتا ھے
یہ دوستی یہ مراسم یہ چاہتیں یہ خلوص
کبھی کبھی مجھے سب عجیب لگتا ھے
افق پہ دور چمکتا ھوا کوئی تارہ
مجھے چراغ دیار حبیب لگتا ھے
——
زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہو
کچھ نہ کچھ تیرا احسان اُتارا ہی نہ ہو
کُوئے قاتل کی بڑی دھوم ہے، چل کر دیکھیں
کیا خبر کُوچہء دلدار سے پیارا ہی نہ ہو
دل کو چُھو جاتی ہے رات کی آواز کبھی
چونک اُٹھتا ہوں کہیں تم نے پُکارا ہی نہ ہو
کبھی پلکوں پہ چمکتی ہے جو اشکوں کی لکیر
سوچتا ہوں تیرے آنچل کا کنارا ہی نہ ہو
زندگی اک خلش دے کے نہ رہ جا مجھ کو
درد وہ دے جو کسی صورت گوارہ ہی نہ ہو
شرم آتی ہے کہ اُس شہر میں ہم ہیں کہ جہاں
نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارہ ہی نہ ہو
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات