اردوئے معلیٰ

Search

 

جانتا ہوں تنگ ہے دامانِ علم و آگہی

محمدت شایانِ شاں کیسے کروں میں آپ کی

 

تو مرا برحق نبی ہے میں ہوں تیرا امتی

میں ثنا خوانی کو تیری سمجھوں عینِ بندگی

 

روئے عالم پر تھی گہری تیرگی چھائی ہوئی

تو جو چمکا چاند بن کر تیرگی سب چھٹ گئی

 

تو پیمبر آخری ہے اے رسولِ ہاشمی

تا قیامِ روزِ محشر اب نہیں کوئی نبی

 

تیرے قدموں پر نچھاور سطوت و شانِ شہی

ہیچ تیرے سامنے دارائی و کیخسروی

 

چشمۂ نورِ ہدایت ہے برائے مومنیں

زندگی تیری سراپا روشنی ہی روشنی

 

حسنِ صورت سے تری بے شک خجل شمس و قمر

رات بھر چھپتا ہے کوئی دن میں چھپتا ہے کوئی

 

ترے حق میں رب نے فرمایا ‘علیٰ خُلُقٍ عظیم’

سیرتِ اقدس میں تیری ہے کچھ ایسی طرفگی

 

گو ردائے مفلسی میں عمر بھر لپٹا رہا

پھر بھی ہے مشہور تیری آج تک دریا دلی

 

تو رسائے خلوتِ یزداں ہوا اسرا کی شب

تیری قدر و منزلت اللہ اکبر یا نبی

 

وحی ربِ دو جہاں ماخذ ہے فرمودات کا

گھر نہ کیوں کر جائے دل میں بات سب چھوٹی بڑی

 

اے سپہ سالارِ اعظم غازی میدانِ جنگ

فتح پائی دشمنوں پر جنگ جب کوئی لڑی

 

امتِ عاصی کے حق میں رات بھر محوِ دعا

وہ قیام اللیل تیرا وہ خلوصِ بندگی

 

نفسی نفسی سب کہیں جب روزِ محشر اے نظرؔ

آپ ہی فرمائیں گے یا امتی یا امتی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ